Sunday, July 5, 2026

Mqm Pakistan

یم کیو ایم: فکری عروج، عسکری زوال اور دھڑوں کی سیاست

سندھ بالخصوص کراچی اور حیدرآباد کی سیاست کا ذکر جب بھی آئے گا، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا نام نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔ 1980ء کی دہائی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کے بطن سے جنم لینے والی اس جماعت نے پاکستان کی روایتی جاگیردارانہ سیاست کو وہ دھچکا پہنچایا جس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن چار دہائیوں پر محیط یہ سفر جتنا سنسنی خیز ہے، اتنا ہی عبرت ناک بھی۔


 1۔ فکری پس منظر اور عروج: مڈل کلاس انقلاب

ایم کیو ایم کا بنیادی نظریہ "مہاجر قومیت" اور مڈل کلاس کی حاکمیت تھا۔ الطاف حسین کی قیادت میں اس جماعت نے کراچی کے پڑھے لکھے لیکن محروم مہاجر نوجوانوں کو ایک نئی پہچان دی۔

 * **سیاسی تبدیلی:** ایم کیو ایم نے پہلی بار وڈیروں، خانوں اور مخدوموں کے متبادل کے طور پر عام بستیوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو اسمبلیوں میں پہنچایا۔

 * **بلدیاتی خدمات:** نعمت اللہ خان کے دور کے بعد، مصطفیٰ کمال کے میئر شپ کے دور کو کراچی کی ترقی کا سنہری دور مانا جاتا ہے، جس نے جماعت کی عوامی مقبولیت کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔

2۔ عسکریت پسندی اور جبر کا دور

جہاں ایم کیو ایم نے مڈل کلاس کو زبان دی، وہاں اس کے ساتھ ہی کراچی کی سیاست میں "بھتہ خوری"، "بوری بند لاشیں" اور "ٹارگٹ کلنگ" جیسے بھیانک الفاظ بھی متعارف ہوئے۔

 * **ریاستی آپریشنز:** 1992ء کا فوجی آپریشن (آپریشن کلین اپ) اور پھر 1990ء کی دہائی کے اواخر میں ہونے والے کریک ڈاؤنز نے شہر کو مقتل بنا دیا۔ جماعت نے دعویٰ کیا کہ ان کے ہزاروں کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، جبکہ ریاست کا موقف تھا کہ وہ شہر کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کر رہی ہے۔

 * **لندن سے کنٹرول:** الطاف حسین نے لندن میں بیٹھ کر جو "سحر" انگیز طاقت برقرار رکھی، وہ آہستہ آہستہ ایک خوف کی علامت بن گئی۔ کراچی کی معیشت ایک فون کال پر مفلوج ہو جایا کرتی تھی۔

3۔ 22 اگست 2016ء: نقطۂ انقلاب (Turning Point)

ایم کیو ایم کی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ 22 اگست 2016ء کو آیا، جب الطاف حسین نے پاکستان مخالف تقریر کی اور میڈیا ہاؤسز پر حملوں کی ترغیب دی۔ یہ وہ لکیر تھی جسے پار کرنے کی اجازت مقتدر حلقوں نے نہیں دی۔

 * **ایم کیو ایم پاکستان کا جنم:** فاروق ستار اور دیگر مقامی قائدین نے فوری طور پر الطاف حسین اور لندن قیادت سے لاتعلقی کا اعلان کر کے "ایم کیو ایم پاکستان" کی بنیاد رکھی تاکہ جماعت کو مکمل پابندی سے بچایا جا سکے۔

4۔ دھڑے بندی اور سیاسی پسپائی

لندن سے علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم شیرازہ بکھرنے کے عمل سے گزری۔ جماعت مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی:

 1. **ایم کیو ایم پاکستان (بہادر آباد):** جو اب خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں مرکزی دھارے کی سیاست کر رہی ہے۔

 2. **پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی):** مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی بنائی گئی پارٹی (جو بعد میں دوبارہ ایم کیو ایم میں ضم ہو گئی)۔

 3. **ایم کیو ایم حقیقی:** آفاق احمد کا پرانا دھڑا جو اپنی جگہ برقرار رہا۔

 4. **لندن گروپ:** جو سیاسی منظرنامے سے عملاً غائب یا پابندی کا شکار ہے۔

اس اندرونی خلفشار اور عسکری طاقت کے خاتمے کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2018ء اور بعد کے انتخابات میں کراچی کا روایتی مہاجر ووٹ بینک تقسیم ہوا، اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) اور جماعت اسلامی نے اس خلا کو پُر کیا۔

حاصلِ کلام

ایم کیو ایم کی تاریخ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ یہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک حقیقی عوامی اور مڈل کلاس تحریک اگر تشدد، انتہا پسندی اور ریاست سے تصادم کا راستہ اختیار کر لے، تو وہ اپنی ہی طاقت کا شکار ہو جاتی ہے۔

آج کی ایم کیو ایم اب وہ "ویٹو پاور" نہیں رہی جو کبھی اسلام آباد کے ایوانوں کو ہلا دیا کرتی تھی، بلکہ اب وہ بقا اور مفاہمت کی سیاست کے ذریعے کراچی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

 وضاحت: گوگل جمنائی سے جب ایم کیو ایم کے متعلق پوچھا گیا تو اسکا جواب یہ تھا۔

Saturday, July 4, 2026

PPP Pakistan and Gemini

 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کا کردار صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں، بلکہ ایک نظریاتی تحریک، عوامی مزاحمت اور اقتدار کی بساط پر ایک ناگزیر کھلاڑی کا رہا ہے۔ "طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں" کے انقلابی نعرے سے جنم لینے والی یہ جماعت ساڑھے پانچ دہائیوں سے زائد کا سفر طے کر چکی ہے۔



ذیل میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ، نظریات، عروج و زوال، اور موجودہ سیاسی حیثیت پر ایک جامع تحقیقی کالم پیش ہے۔

آغاز اور نظریاتی بنیاد: ایک انقلابی لہر

1960ء کی دہائی کے اواخر میں جب ایوب خان کی آمریت کے خلاف عوامی غیظ و غضب عروج پر تھا، تب ذوالفقار علی بھٹو نے نومبر 1967ء میں لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔

اس جماعت کا منشور چار بنیادی ستونوں پر استوار تھا:

 اسلام ہمارا دین ہے۔

جمہوریت ہماری سیاست ہے۔

 سوشلزم ہماری معیشت ہے۔

 طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

جے اے رحیم، مبشر حسن اور دیگر بائیں بازو کے دانشوروں کی مدد سے بھٹو نے "اسلامک سوشلزم"کا تصور پیش کیا، جس نے محروم طبقات، کسانوں اور مزدوروں کو ایک نئی امید دی۔ 1970ء کے انتخابات میں پارٹی نے مغربی پاکستان میں کلین سویپ کر کے روایتی جاگیرداروں اور مقتدر حلقوں کو حیران کر دیا۔

بھٹو کا دورِ اقتدار: اصلاحات اور المیہ

1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بکھرے ہوئے پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی۔ ان کا یہ دورِ اقتدار تاریخ ساز اقدامات سے بھرا ہوا ہے:

 اہم کارنامے

 *1973ء کا متفقہ آئین: ملک کو پہلا متفقہ، وفاقی اور پارلیمانی آئین دینا پی پی پی کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ ہے۔

 ایٹمی پروگرام کی بنیاد: بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے نیوکلیئر پروگرام کا آغاز کیا۔

 صنعتی و زرعی اصلاحات:بینکوں، بڑی صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو قومیانا (Nationalization) اور کسانوں کے لیے زمینوں کی حدِ ملکیت مقرر کرنا۔

زوال اور پھانسی

سرمایہ دارانہ اور مقتدر حلقے بھٹو کی عوامی مقبولیت اور آزاد خارجہ پالیسی سے خائف تھے۔ 1977ء کے انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات کو جواز بنا کر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا۔ اپریل 1979ء میں ایک متنازع عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی، جسے پیپلز پارٹی آج بھی "عدالتی قتل" قرار دیتی ہے۔

مزاحمت کا دور اور بینظیر بھٹو کا عروج

ضیاء الحق کے سیاہ دور میں پیپلز پارٹی نے بدترین مظالم سہے، لیکن اس کی جڑیں عوسم میں مزید گہری ہو گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹو نے تحریکِ بحالیِ جمہوریت (MRD) کے ذریعے آمریت کو للکارا۔

1988ء میں ضیاء الحق کی موت کے بعد بینظیر بھٹو عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔ انہوں نے دو بار (1988-1990 اور 1993-1996) ملک کی قیادت کی، لیکن دونوں بار ان کی حکومتوں کو اسٹیبلشمنٹ اور صدارتی اختیارات (58-2B) کے ذریعے مدت پوری کرنے سے پہلے ہی برطرف کر دیا گیا۔

2007ء میں طویل جلاوطنی کے بعد جب وہ پاکستان واپس آئیں، تو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت نے پارٹی کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

آصف علی زرداری اور مفاہمت کی سیاست

بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کے ہاتھ میں آئی۔ انہوں نے "پاکستان کھپے" کا نعرہ لگا کر ملک کو انتشار سے بچایا۔ 2008ء سے 2013ء تک کا دورِ حکومت پی پی پی کی سیاسی پختگی کا عکاس تھا:

 18ویں آئینی ترمیم:صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے گئے اور صوبوں کو تاریخی خودمختاری دی گئی۔

 این ایف سی ایوارڈ: صوبوں کو ان کے وسائل کا جائز حصہ دیا گیا۔

 بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP): غریب خواتین کے لیے ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک شروع کیا گیا۔

تاہم، اس دور میں توانائی کا بحران، معاشی عدم استحکام اور کرپشن کے الزامات نے پارٹی کے گراف کو بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا میں شدید نقصان پہنچایا۔

بلاول بھٹو زرداری اور موجودہ چیلنجز

موجودہ دور میں پارٹی کی کمان بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ایک جدید، لبرل اور ترقی پسند پاکستان کا بیانیہ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ بطور وزیرِ خارجہ (2022-2023) انہوں نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

پیپلز پارٹی کے موجودہ چیلنجز اور طاقت

| سندھ کا قلعہ پی پی پی نے سندھ میں مسلسل حکومت سازی کر کے صحت (جیسے NICVD، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ) اور انفراسٹرکچر میں نمایاں کام کیے ہیں، جس کی وجہ سے سندھ اس کا مضبوط ترین گڑھ ہے۔

| قومی سطح پر واپسی کا چیلنج پنجاب اور کے پی کے میں تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی موجودگی کے باعث پی پی پی کو وہاں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن بحال کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 

| بیانیے کی تبدیلی پارٹی اب روایتی سوشلزم سے ہٹ کر مخلوط معیشت، ڈیجیٹلائزیشن اور کلائمیٹ چینج (ماحولیاتی تبدیلیوں) جیسے جدید موضوعات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ 

تجزیہ اور حاصلِ کلام

تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں اور تضادات کا ایک مرکب ہے۔ ایک طرف یہ جماعت جمہوریت کے لیے جانیں دینے والے کارکناں اور رہنماؤں کی امین ہے، تو دوسری طرف اس پر موروثی سیاست اور گورننس کے مسائل کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔

آج پیپلز پارٹی وفاق کی سیاست میں ایک "کنگ میکر" کی حیثیت رکھتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے کندھوں پر اب یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی کو صرف سندھ تک محدود ہونے کے تاثر سے نکالیں اور اسے دوبارہ چاروں صوبوں کی زنجیر بنائیں۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ نوجوان نسل کی امنگوں اور معاشی انصاف کے اپنے دیرینہ نظریے کے درمیان کیسے توازن پیدا کرتی ہے۔

وضاحت: گوگل جمنائی سے سوال کیا گیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے متعلق بتاو تو اس نے یہ جواب دیا۔


The United States will celebrate 250 years

USA Celebrates 250 Years of Independence in 2026 | America250 Events & History

The United States will celebrate 250 years of independence on July 4, 2026. Learn about America250 events, history, parades, and how the world is joining the celebration.

*The United States is Celebrating 250 Years of Independence in 2026*



The United States of America is preparing for one of its biggest national celebrations. In 2026, the US will mark *250 years of independence* since the signing of the Declaration of Independence on *July 4, 1776*. 

This historic milestone is being called *"America250"*.

*What is America250?*

`America250` is the official name for the 250th anniversary of American independence. A special commission was created by the US Congress back in 2016 to plan events for this year-long celebration.

The goal is not just to look back at 250 years of history, but also to look forward to the next 250 years. The theme focuses on unity, innovation, and the American spirit.

*When and How Will It Be Celebrated?*

The main celebration date is Saturday, July 4, 2026

However, events will run throughout the entire year of 2026 in all 50 states.

Expected major events include:

1. *The Great American Parade* - A massive parade planned in Washington D.C.

2. *Fireworks & Concerts* - Huge shows in New York, Philadelphia, Boston and other historic cities.

3. *Museum Exhibits* - The Smithsonian and National Archives will display original founding documents.

4. *Community Service Projects* - A national call for 250,000 service projects across America.

5. *Educational Programs* - Schools and universities will run programs about US history and democracy.

Philadelphia, where the Declaration was signed, and Boston are expected to host the biggest gatherings.

Why This Matters to the World

The 250th anniversary is not just an American event. People around the world watch US history, culture, and politics closely. From Pakistan to Europe, many people have family, friends, or business connections in the USA.

This celebration will also bring huge tourism. Millions of visitors are expected to travel to the US in 2026 to be part of America250.

*How to Join the Celebration Online*

You don’t need to be in America to join. The official `America250.org` website will stream events live. People can share stories using the hashtag `#America250` on social media.

For Americans living abroad and for international friends, this is a chance to reflect on 250 years of democracy, freedom, and global impact.

As July 4, 2026 approaches, the entire world will be watching. 250 years is a rare milestone for any nation. The USA’s 250th Independence Day will be remembered as one of the biggest celebrations in modern history.

Stay tuned to `Tanawal Times` for more updates on America250 events, live streams, and special coverage. America 250, USA 250th Anniversary, July 4 2026, America250 Events, US Independence Day 250

Hazara transport

 ہزارہ کے مسافروں کے ساتھ کراچی میں امتیازی سلوک اور سیکیورٹی کا سنگین مسئلہ

ایم عتیق سلیمانی

Sulemaniatiq572@gmail.com 


کیا آپ کو معلوم ہے کہ مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور ہزارہ کے دیگر علاقوں سے آنے والے مسافروں کو کراچی پہنچتے ہی سڑک پر کیوں اتار دیا جاتا ہے؟



ہزارہ روٹ کی تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیاں جب کراچی آتی ہیں تو انہیں شہر کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ماضی میں یہ گاڑیاں بلدیہ ٹاؤن، پٹیل پاڑا، بنارس، لانڈھی اور دیگر علاقوں میں قائم اپنی باقاعدہ برانچوں اور اڈوں تک جایا کرتی تھیں، جس سے مسافر باآسانی اپنی منزل پر پہنچ جاتے تھے۔ لیکن اب صورتحال انتہائی افسوسناک ہو چکی ہے۔ اب سہراب گوٹھ پر باقاعدہ ٹرمینل موجود ہے، لیکن یہ گاڑیاں وہاں بھی نہیں جاتیں بلکہ پنجاب اڈے سے باہر، کھلی سڑک پر ہی سواریاں پھینک کر چلتی بنتی ہیں۔ جب ڈرائیورز یا عملے سے پوچھا جائے تو ان کا ایک ہی گھسا پٹا جواب ہوتا ہے کہ ہیں شہر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک کے دوسرے شہروں سے آنے والی گاڑیاں شہر کے اندر یا اپنے مخصوص ٹرمینلز تک آ سکتی ہیں تو صرف ہزارہ کی گاڑیوں کے ساتھ ہی یہ امتیازی سلوک کیوں؟

حکومتی اور عدالتی احکامات کے تحت کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک اور بین الصوبائی بسوں کے داخلے پر پابندی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مسافروں کو لاوارث چھوڑ دیا جائے۔ یہ ٹرانسپورٹ مافیا کی ملی بھگت اور مخصوص روٹس کی سیٹنگ کا نتیجہ ہے یا پھر بس کمپنیاں شہر کے اندر کے ٹریفک جام وقت کے ضیاع اور چالان سے بچنے کے لیے خود ہی مسافروں کو شاہراہ کے کنارے اتار دیتی ہیں۔

کراچی سے ناواقف مسافروں، فیملیز، خواتین اور بچوں کو رات گئے یا صبح سویرے سڑک کے کنارے لاوارث چھوڑ دینے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

 بھاری سامان اور نقدی کے ساتھ کھلی سڑک پر کھڑے مسافر اسنیچرز (ڈاکوؤں) کا آسان ہدف بنتے ہیں۔نئے مسافروں کو کراچی کے راستوں اور حالات کا علم نہیں ہوتا جس کا فائدہ اٹھا کر نوسرباز اور جعل ساز انہیں لوٹ لیتے ہیں۔مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مقامی رکشہ،ٹیکسی اور بائکیا والے مسافروں سے شہر کے اندر جانے کے لیے دگنا تگنا کرایہ وصول کرتے ہیں۔اسکے علاوہ مسافروں کے استقبال کے لیئے آنے والے افراد سہراب گوٹھ پر انتظار کررہے ہوتے ہیں جبکہ بسیں پنجاب اڈے پر سواریاں اتار چکی ہوتی ہیں۔جہاں نا انتظار گاہ ہے نا سایہ نا واش روم کھلے آسمان تلے درجنوں افراد پریشان کھڑے ہوتے ہیں۔

ہزارہ کے مسافروں کو بھی دوسروں کی طرح عزت اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔ انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے گزارش ہے کہ ہزارہ کی گاڑیوں کو بھی دیگر شہروں کی طرح یا تو شہر میں آنے کی اجازت دی جائے، یا پھر انہیں کم از کم سہراب گوٹھ کے اپنے محفوظ ٹرمینل کے اندر تک پہنچایا جائے تاکہ مسافر اور ان کا سامان نوسربازوں اور جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رہ سکیں۔ حکومتِ سندھ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو اس سنگین غفلت کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

پاکستان بھر سے آنے والی دیگر بس سروسز کے ٹرمینلز اب بھی کراچی شہر کے اندر موجود ہیں مگر ہزارہ والوں سے سوتیلی ماں والا سلوک برقرار ہے۔ ہزارہ کے کراچی میں موجود نمائندے سرکردہ شخصیات اور بس کمپنیوں کی انتظامیہ کو اس مسئلے کے حل کے لیئے فوری سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

Monday, June 29, 2026

KPCWS Meeting

 خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ خواتین (KPCSW) صوبے بھر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے اور تشویشناک واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہر قسم کے صنفی بنیادوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ گھریلو تشدد، زیادتی، زیادتی کی کوشش، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا، ہراسانی، غیر قانونی حراست، غیرت کے نام پر جرائم اور خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی ہر قسم کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ناگزیر ہے۔

خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ خواتین اپنی ضلعی کمیٹیوں برائے وقارِ خواتین (District Committees on the Status of Women - DCSWs) کے ذریعے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر بروقت کارروائی، متاثرین کی معاونت، متعلقہ اداروں کو ریفرل، اور ضلعی انتظامیہ، پولیس و دیگر اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے اپنے قانونی اور ادارہ جاتی فرائض انجام دے رہا ہے۔گزشتہ چار ہفتوں کے دوران پشاور، نوشہرہ، مردان، لوئر دیر، ٹانک، خیبر، ایبٹ آباد اور سوات میں مجموعی طور پر 16 مقدمات پر کارروائی کی گئی۔ ان واقعات میں گھریلو تشدد، زیادتی، زیادتی کی کوشش، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا، ہراسانی، غیر قانونی حراست، خاندانی تنازعات اور مشتبہ قتل جیسے سنگین معاملات شامل تھے۔ضلعی کمیٹیوں نے ان مقدمات میں ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس افسران، ہسپتالوں، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن، دارالامان، محکمہ سوشل ویلفیئر اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے بروقت مداخلت، ایف آئی آر کے اندراج، متاثرین کے تحفظ، قانونی رہنمائی، ریفرلز، نفسیاتی و سماجی معاونت، جہاں مناسب ہو خاندانی مصالحت، اور تحقیقات کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا۔چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے ضلعی کمیٹیوں کی بروقت کارروائی، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کا ہر واقعہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ خواتین ایسے تمام مقدمات کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا.

Dangerous Dogs

 خاموش قاتل دروازے پر

خامہ بگوش

ایم عتیق سلیمانی



ہر سال پاکستان میں اندازاً 2000 سے زائد افراد ریبیز کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے 99% اموات روکی جا سکتی ہیں۔

ایک چھوٹا سا کاٹا، 20 منٹ کی لاپرواہی، اور پھر موت یقینی ہوجاتی ہے۔ ریبیز کو ڈاکٹر خاموش قاتل کہتے ہیں کیونکہ علامات ظاہر ہو جائیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

ریبیز وائرس Rabies Virus متاثرہ جانور کے لعاب میں ہوتا ہے۔ جب کتا، بلی یا بندر کاٹتا ہے تو وائرس زخم سے جسم میں داخل ہو کر اعصاب یعنی Nerves کا راستہ پکڑ لیتا ہے۔یہ بہت آہستہ سفر کرتا ہے۔ دماغ تک پہنچنے میں 20 دن سے 3 ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ اس دوران مریض بالکل ٹھیک محسوس کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وائرس دماغ میں پہنچا، علامات شروع ہوتی ہیں بخار، پانی سے خوف، روشنی سے ڈر، اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے تو اس اسٹیج پر دنیا کی کوئی ویکسین، کوئی دوا کام نہیں کرتی۔ اسی لیے WHO ریبیز کو 100% Fatal once symptomatic کہتا ہے۔

پالتو کتا بھی اگر باہر آوارہ کتے سے لڑے تو وائرس لے سکتا ہے۔ زخم پر مرچ لگانا، دھاگہ باندھنا، یا پیر فقیر کے پاس جانا یہ 20 منٹ صابن سے دھونے سے زیادہ خطرناک ہیں۔

 لوگ سمجھتے ہیں ریبیز ویکسین پیٹ میں 14 ٹیکے لگتے ہیں لیکن اب بازو میں صرف 4 ٹیکے لگتے ہیں۔ دن 0، 3، 7 اور 14 پر۔ بالکل درد نہیں ہوتا۔

 پاکستان کے ہر بڑے سرکاری ہسپتال میں Anti-Rabies Vaccine ARV اور Immunoglobulin بالکل مفت ملتی ہے۔

ماہرین اور NIH اسلام آباد`کے مطابق ریبیز سے بچنے کا فارمولا بہت آسان ہے۔کاٹنے کے 5 منٹ کے اندر زخم کو بہتے صاف پانی اور عام صابن سے 20 منٹ تک رگڑ کر دھوئیں۔ یہ ایک قدم وائرس کا 80% بوجھ ختم کر دیتا ہے۔زخم دھونے کے فوراً بعد اسی دن قریبی سرکاری ہسپتال کے Anti-Rabies Center جائیں۔ ویکسین کا پہلا ٹیکہ 24 گھنٹے کے اندر لگنا سب سے ضروری ہے۔ 4 ٹیکوں کا کورس بیچ میں مت چھوڑیں۔ ایک ٹیکہ بھی مس ہوا تو تحفظ کمزور ہو جائے گا۔یاد رکھیں ریبیز کا علاج نہیں، صرف بچاؤ ہے اور بچاؤ صرف آپ کے ہاتھ میں ہے۔

Mqm Pakistan

یم کیو ایم: فکری عروج، عسکری زوال اور دھڑوں کی سیاست سندھ بالخصوص کراچی اور حیدرآباد کی سیاست کا ذکر جب بھی آئے گا، متحدہ قومی موومنٹ (ایم ک...