Showing posts with label Magazine. Show all posts
Showing posts with label Magazine. Show all posts

Friday, July 10, 2026

Bikes Is Dangerous

 کم عمر بائیکرز اور ہماری مجرمانہ خاموشی


خامہ بگوش

ایم عتیق سلیمانی 

Sulemaniatiq572@gmail.com 



آئے روز ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر بارود کی طرح پھٹتی موٹر سائیکلوں کی آوازیں سنتے ہیں۔ ایک بارہ چودہ سالہ بچہ جس ہوا سے باتیں کرتا ہوا ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے اور ہم صرف سر ہلا کر رہ جاتے ہیں۔ پھر اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے، چیخیں ابھرتی ہیں، اور چند لمحے پہلے اپنی ماؤں کی گود کے پالے وہ معصوم وجود سڑک کے تپتے ہوئے اسفالٹ پر خون میں لت پت تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی کہانی نہیں، یہ ہمارے اس معاشرے کا وہ بھیانک سچ ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں اور اگلا لمحہ آتے ہی بھول جاتے ہیں۔

سڑکوں پر دوڑتی یہ موٹر سائیکلیں اب سفر کی سہولت نہیں رہیں، یہ ہمارے بچوں کے لیے ناچتی ہوئی موت بن چکی ہیں۔ آخر کس نے ان معصوموں کے ہاتھ میں یہ خونی ہتھیار تھمایا ہے؟ جواب بہت سادہ اور تلخ ہے خود ان کے والدین نے۔ جب ایک باپ اپنے تیرہ سالہ بیٹے کو صرف اس لیے بائیک کی چابی دے دیتا ہے کہ وہ بازار سے دہی لے آئے یا اپنے دوستوں کے ساتھ گھوم پھر لے، تو وہ دراصل اپنے سگے بچے کو پیار نہیں دے رہا ہوتا بلکہ اس کی موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہوتا ہے۔ یہ کیسی محبت ہے جو اولاد کو قبر کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے؟ یہ کیسا فخر ہے کہ میرا بیٹا اب بڑا ہو گیا ہے اور بائیک چلا لیتا ہے؟ خدا کے لیے جاگیے، جب اسی بچے کا لاشہ گھر کی دہلیز پر پہنچتا ہے تو وہ سارا فخر وہ ساری لاڈ پیار عمر بھر کے ایسے کرب میں بدل جاتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔

ادارہ شماریات پاکستان اور ریسکیو اداروں کے ہولناک اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ہونے والے ستر فیصد سے زیادہ حادثات میں موٹر سائیکلیں ملوث ہوتی ہیں اور ان میں مرنے والے سب سے زیادہ چودہ سے بائیس سال کے کڑیل جوان ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ پاکستان میں سڑکوں کے حادثات اب وبا کی طرح ہمارے نوجوانوں کو نگل رہے ہیں لیکن ہمارا شعور ہے کہ جاگنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ گلیوں میں ون ویلنگ کا خونی کھیل ہو، تیز رفتاری کی لہر ہو، یا کان کے ساتھ موبائل فون لگا کر ون وے کی خلاف ورزی کرنا ہو، ہم نے سڑکوں کو جنگل بنا دیا ہے جہاں کوئی قانون نہیں ہے اور نہ ہی انسانی جان کی قدر ہے۔

یہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی برابر کے مجرم ہیں۔ ٹریفک پولیس کا کام صرف چالان کی کتابیں بھرنا اور چوراہوں پر کھڑے ہو کر تماشہ دیکھنا رہ گیا ہے۔ جب تک کم عمر ڈرائیورز کے خلاف ایسی سخت مہم نہیں چلائی جائے گی جہاں سزا بچے کو نہیں بلکہ اس کے باپ کو ملے، تب تک یہ خونی رقص بند نہیں ہو سکتا۔ قانون کو اب اندھا نہیں بلکہ بیدار ہونا پڑے گا۔ 

یاد رکھیے، اپنے بچے کی ضد کے آگے جھکنے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ آپ کی سختی پر چند دن رو لے، ناراض ہو جائے یا کھانا نہ کھائے۔ اس کا چند دن کا یہ روٹھنا اس ابدی خاموشی سے ہزار گنا بہتر ہے جو اس کے چلے جانے کے بعد آپ کے پورے گھر کے آنگن پر چھا جائے گی۔ ہسپتالوں کے وارڈز ان نوجوانوں سے بھرے پڑے ہیں جن کی ٹانگیں اور بازو کٹ چکے ہیں اور اب عمر بھر کے لیے اپنے ہی بوڑھے ماں باپ پر بوجھ بن چکے ہیں۔ کیا ہم اپنے جگر کے گوشوں کا یہ انجام دیکھنا چاہتے ہیں؟

اس خونی ناسور کا علاج کسی سرکاری نوٹیفکیشن سے نہیں، ہمارے اپنے گھروں سے ہوگا۔ جب تک ہم خود اپنے بچوں کو بائیک کی چابی دینے سے انکار نہیں کریں گے، جب تک ہم اپنے محلوں میں ایسے اوباش لڑکوں کو ٹوکنا شروع نہیں کریں گے، تب تک مائیں اپنے لختِ جگر کھوتی رہیں گی اور یہ سڑکیں یوں ہی معصوموں کے خون سے رنگین ہوتی رہیں گی۔ پچھتاوے کے آنسو بہانے سے ہزار گنا بہتر ہے کہ آج ہی سختی کر لی جائے، کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد صرف ماتم رہ جاتا ہے اور ماتم کبھی زندگی واپس نہیں لاتا۔

Saturday, July 4, 2026

PPP Pakistan and Gemini

 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کا کردار صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں، بلکہ ایک نظریاتی تحریک، عوامی مزاحمت اور اقتدار کی بساط پر ایک ناگزیر کھلاڑی کا رہا ہے۔ "طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں" کے انقلابی نعرے سے جنم لینے والی یہ جماعت ساڑھے پانچ دہائیوں سے زائد کا سفر طے کر چکی ہے۔



ذیل میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ، نظریات، عروج و زوال، اور موجودہ سیاسی حیثیت پر ایک جامع تحقیقی کالم پیش ہے۔

آغاز اور نظریاتی بنیاد: ایک انقلابی لہر

1960ء کی دہائی کے اواخر میں جب ایوب خان کی آمریت کے خلاف عوامی غیظ و غضب عروج پر تھا، تب ذوالفقار علی بھٹو نے نومبر 1967ء میں لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔

اس جماعت کا منشور چار بنیادی ستونوں پر استوار تھا:

 اسلام ہمارا دین ہے۔

جمہوریت ہماری سیاست ہے۔

 سوشلزم ہماری معیشت ہے۔

 طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

جے اے رحیم، مبشر حسن اور دیگر بائیں بازو کے دانشوروں کی مدد سے بھٹو نے "اسلامک سوشلزم"کا تصور پیش کیا، جس نے محروم طبقات، کسانوں اور مزدوروں کو ایک نئی امید دی۔ 1970ء کے انتخابات میں پارٹی نے مغربی پاکستان میں کلین سویپ کر کے روایتی جاگیرداروں اور مقتدر حلقوں کو حیران کر دیا۔

بھٹو کا دورِ اقتدار: اصلاحات اور المیہ

1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بکھرے ہوئے پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی۔ ان کا یہ دورِ اقتدار تاریخ ساز اقدامات سے بھرا ہوا ہے:

 اہم کارنامے

 *1973ء کا متفقہ آئین: ملک کو پہلا متفقہ، وفاقی اور پارلیمانی آئین دینا پی پی پی کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ ہے۔

 ایٹمی پروگرام کی بنیاد: بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے نیوکلیئر پروگرام کا آغاز کیا۔

 صنعتی و زرعی اصلاحات:بینکوں، بڑی صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو قومیانا (Nationalization) اور کسانوں کے لیے زمینوں کی حدِ ملکیت مقرر کرنا۔

زوال اور پھانسی

سرمایہ دارانہ اور مقتدر حلقے بھٹو کی عوامی مقبولیت اور آزاد خارجہ پالیسی سے خائف تھے۔ 1977ء کے انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات کو جواز بنا کر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا۔ اپریل 1979ء میں ایک متنازع عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی، جسے پیپلز پارٹی آج بھی "عدالتی قتل" قرار دیتی ہے۔

مزاحمت کا دور اور بینظیر بھٹو کا عروج

ضیاء الحق کے سیاہ دور میں پیپلز پارٹی نے بدترین مظالم سہے، لیکن اس کی جڑیں عوسم میں مزید گہری ہو گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹو نے تحریکِ بحالیِ جمہوریت (MRD) کے ذریعے آمریت کو للکارا۔

1988ء میں ضیاء الحق کی موت کے بعد بینظیر بھٹو عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔ انہوں نے دو بار (1988-1990 اور 1993-1996) ملک کی قیادت کی، لیکن دونوں بار ان کی حکومتوں کو اسٹیبلشمنٹ اور صدارتی اختیارات (58-2B) کے ذریعے مدت پوری کرنے سے پہلے ہی برطرف کر دیا گیا۔

2007ء میں طویل جلاوطنی کے بعد جب وہ پاکستان واپس آئیں، تو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت نے پارٹی کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

آصف علی زرداری اور مفاہمت کی سیاست

بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کے ہاتھ میں آئی۔ انہوں نے "پاکستان کھپے" کا نعرہ لگا کر ملک کو انتشار سے بچایا۔ 2008ء سے 2013ء تک کا دورِ حکومت پی پی پی کی سیاسی پختگی کا عکاس تھا:

 18ویں آئینی ترمیم:صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے گئے اور صوبوں کو تاریخی خودمختاری دی گئی۔

 این ایف سی ایوارڈ: صوبوں کو ان کے وسائل کا جائز حصہ دیا گیا۔

 بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP): غریب خواتین کے لیے ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک شروع کیا گیا۔

تاہم، اس دور میں توانائی کا بحران، معاشی عدم استحکام اور کرپشن کے الزامات نے پارٹی کے گراف کو بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا میں شدید نقصان پہنچایا۔

بلاول بھٹو زرداری اور موجودہ چیلنجز

موجودہ دور میں پارٹی کی کمان بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ایک جدید، لبرل اور ترقی پسند پاکستان کا بیانیہ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ بطور وزیرِ خارجہ (2022-2023) انہوں نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

پیپلز پارٹی کے موجودہ چیلنجز اور طاقت

| سندھ کا قلعہ پی پی پی نے سندھ میں مسلسل حکومت سازی کر کے صحت (جیسے NICVD، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ) اور انفراسٹرکچر میں نمایاں کام کیے ہیں، جس کی وجہ سے سندھ اس کا مضبوط ترین گڑھ ہے۔

| قومی سطح پر واپسی کا چیلنج پنجاب اور کے پی کے میں تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی موجودگی کے باعث پی پی پی کو وہاں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن بحال کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 

| بیانیے کی تبدیلی پارٹی اب روایتی سوشلزم سے ہٹ کر مخلوط معیشت، ڈیجیٹلائزیشن اور کلائمیٹ چینج (ماحولیاتی تبدیلیوں) جیسے جدید موضوعات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ 

تجزیہ اور حاصلِ کلام

تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں اور تضادات کا ایک مرکب ہے۔ ایک طرف یہ جماعت جمہوریت کے لیے جانیں دینے والے کارکناں اور رہنماؤں کی امین ہے، تو دوسری طرف اس پر موروثی سیاست اور گورننس کے مسائل کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔

آج پیپلز پارٹی وفاق کی سیاست میں ایک "کنگ میکر" کی حیثیت رکھتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے کندھوں پر اب یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی کو صرف سندھ تک محدود ہونے کے تاثر سے نکالیں اور اسے دوبارہ چاروں صوبوں کی زنجیر بنائیں۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ نوجوان نسل کی امنگوں اور معاشی انصاف کے اپنے دیرینہ نظریے کے درمیان کیسے توازن پیدا کرتی ہے۔

وضاحت: گوگل جمنائی سے سوال کیا گیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے متعلق بتاو تو اس نے یہ جواب دیا۔


Hazara transport

 ہزارہ کے مسافروں کے ساتھ کراچی میں امتیازی سلوک اور سیکیورٹی کا سنگین مسئلہ

ایم عتیق سلیمانی

Sulemaniatiq572@gmail.com 


کیا آپ کو معلوم ہے کہ مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور ہزارہ کے دیگر علاقوں سے آنے والے مسافروں کو کراچی پہنچتے ہی سڑک پر کیوں اتار دیا جاتا ہے؟



ہزارہ روٹ کی تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیاں جب کراچی آتی ہیں تو انہیں شہر کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ماضی میں یہ گاڑیاں بلدیہ ٹاؤن، پٹیل پاڑا، بنارس، لانڈھی اور دیگر علاقوں میں قائم اپنی باقاعدہ برانچوں اور اڈوں تک جایا کرتی تھیں، جس سے مسافر باآسانی اپنی منزل پر پہنچ جاتے تھے۔ لیکن اب صورتحال انتہائی افسوسناک ہو چکی ہے۔ اب سہراب گوٹھ پر باقاعدہ ٹرمینل موجود ہے، لیکن یہ گاڑیاں وہاں بھی نہیں جاتیں بلکہ پنجاب اڈے سے باہر، کھلی سڑک پر ہی سواریاں پھینک کر چلتی بنتی ہیں۔ جب ڈرائیورز یا عملے سے پوچھا جائے تو ان کا ایک ہی گھسا پٹا جواب ہوتا ہے کہ ہیں شہر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک کے دوسرے شہروں سے آنے والی گاڑیاں شہر کے اندر یا اپنے مخصوص ٹرمینلز تک آ سکتی ہیں تو صرف ہزارہ کی گاڑیوں کے ساتھ ہی یہ امتیازی سلوک کیوں؟

حکومتی اور عدالتی احکامات کے تحت کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک اور بین الصوبائی بسوں کے داخلے پر پابندی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مسافروں کو لاوارث چھوڑ دیا جائے۔ یہ ٹرانسپورٹ مافیا کی ملی بھگت اور مخصوص روٹس کی سیٹنگ کا نتیجہ ہے یا پھر بس کمپنیاں شہر کے اندر کے ٹریفک جام وقت کے ضیاع اور چالان سے بچنے کے لیے خود ہی مسافروں کو شاہراہ کے کنارے اتار دیتی ہیں۔

کراچی سے ناواقف مسافروں، فیملیز، خواتین اور بچوں کو رات گئے یا صبح سویرے سڑک کے کنارے لاوارث چھوڑ دینے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

 بھاری سامان اور نقدی کے ساتھ کھلی سڑک پر کھڑے مسافر اسنیچرز (ڈاکوؤں) کا آسان ہدف بنتے ہیں۔نئے مسافروں کو کراچی کے راستوں اور حالات کا علم نہیں ہوتا جس کا فائدہ اٹھا کر نوسرباز اور جعل ساز انہیں لوٹ لیتے ہیں۔مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مقامی رکشہ،ٹیکسی اور بائکیا والے مسافروں سے شہر کے اندر جانے کے لیے دگنا تگنا کرایہ وصول کرتے ہیں۔اسکے علاوہ مسافروں کے استقبال کے لیئے آنے والے افراد سہراب گوٹھ پر انتظار کررہے ہوتے ہیں جبکہ بسیں پنجاب اڈے پر سواریاں اتار چکی ہوتی ہیں۔جہاں نا انتظار گاہ ہے نا سایہ نا واش روم کھلے آسمان تلے درجنوں افراد پریشان کھڑے ہوتے ہیں۔

ہزارہ کے مسافروں کو بھی دوسروں کی طرح عزت اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔ انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے گزارش ہے کہ ہزارہ کی گاڑیوں کو بھی دیگر شہروں کی طرح یا تو شہر میں آنے کی اجازت دی جائے، یا پھر انہیں کم از کم سہراب گوٹھ کے اپنے محفوظ ٹرمینل کے اندر تک پہنچایا جائے تاکہ مسافر اور ان کا سامان نوسربازوں اور جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رہ سکیں۔ حکومتِ سندھ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو اس سنگین غفلت کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

پاکستان بھر سے آنے والی دیگر بس سروسز کے ٹرمینلز اب بھی کراچی شہر کے اندر موجود ہیں مگر ہزارہ والوں سے سوتیلی ماں والا سلوک برقرار ہے۔ ہزارہ کے کراچی میں موجود نمائندے سرکردہ شخصیات اور بس کمپنیوں کی انتظامیہ کو اس مسئلے کے حل کے لیئے فوری سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

Sunday, June 21, 2026

Parstu Irani

 خاموش نہ رہنے والی آواز پرستو احمدی کی کہانی



تہران سے 150 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک پرانی کاروانسرا۔ چھت نہیں، صرف کھلا آسمان۔ دسمبر 2024 کی سرد رات۔ 29 سالہ پرستو احمدی سٹیج پر آتی ہیں۔ سیاہ سلیو لیس لباس، سر ننگا، ہاتھ میں مائیک۔ پیچھے 4 موسیقار۔ کیمرہ آن ہوتا ہے، یوٹیوب لائیو شروع۔وہ گاتی ہیں: "از خونِ جوانانِ وطن" یعنی "مادر وطن کے جوانوں کے خون سے"۔ 27 منٹ کا کنسرٹ۔ کوئی سامعین نہیں، صرف کیمرہ۔ ویڈیو اپ لوڈ ہوتی ہے اور 24 گھنٹے میں 2 ملین ویوز لے لیتی ہے۔

18 ماہ بعد، 20 جون 2026 کو قم کی فوجداری عدالت کا فیصلہ آتا ہے: پرستو احمدی + 8 ساتھی = 74 کوڑے، 2 سال ملک بدری، 2 سال خاموشی۔پرستو احمدی ایران کی نئی نسل کی لوک گلوکارہ ہیں۔ وہ روایتی ایرانی موسیقی کو نوجوانوں تک لے جانے کے لیے مشہور ہیں۔ 2022 کے "زن، زندگی، آزادی" احتجاج کے بعد وہ سوشل میڈیا پر بغیر حجاب گانے پوسٹ کر کے مشہور ہوئیں۔

ان کا ماننا ہے: "گانا میرا حق ہے۔ میں اس ملک سے محبت کرتی ہوں اور اس کے لیے گاتی رہوں گی"۔ ان کا انسٹاگرام بائیو پڑھیں تو لکھا ہے کہ میں وہ لڑکی ہوں جو خاموش نہیں رہ سکتی۔

ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد خواتین پر پابندی ہے کہ وہ عوامی مقام پر اکیلے گانا نہیں گا سکتیں۔ سولو کنسرٹ منع ہے۔ اس لیے پرستو نے کاروانسرا کنسرٹ کو خیالی کنسرٹ کا نام دیا۔ کوئی ٹکٹ نہیں، کوئی ہال نہیں، صرف یوٹیوب۔کاروانسرا کنسرٹ کی ویڈیو آج بھی آن لائن ہے۔ پرستو نے خود کیپشن لکھا تھا کہ میں پرستو ہوں۔ وہ لڑکی جو خاموش رہنے سے انکار کرتی ہے۔ میں اس ملک کے لیے گاتی ہوں جس سے میں شدید محبت کرتی ہوں۔ میں ایک ایسے ملک کا خواب دیکھتی ہوں جہاں تمام بچے اپنے گھر میں آزاد ہوں۔

ویڈیو میں وہ وطن پرستانہ گیت گاتی ہیں۔ لباس سادہ، سیاہ، سلیو لیس۔ سر پر دوپٹہ نہیں۔ ساتھ 4 مرد موسیقار تار، سنتور اور دف بجا رہے ہیں۔ عدالتی دستاویز کے مطابق الزام تھا کہ سائبر اسپیس پر فحش اور غیر اخلاقی مواد پھیلا کر عوامی شرم و حیا مجروح کرنا دفعہ 638 - اسلامی تعزیرات قانون۔کنسرٹ کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پرستو اور 2 موسیقاروں احسان بیراقدار اور سہیل فقیہ نصیری کو حراست میں لیا۔ چند دن بعد رہا کر دیا گیا۔ سب کو لگا معاملہ ختم ہو گیا۔

لیکن جنوری 2024 میں سب کو اخلاقی سیکیورٹی پراسیکیوٹر کے دفتر بلایا گیا۔ تفتیش شروع ہوئی۔ پھر 18 جون 2026 کو قم کی عدالت نے فیصلہ سنایا۔

سزا 3 حصوں پر مشتمل:

1. *74 کوڑے*: پرستو + پروڈکشن ٹیم کے 8 افراد۔ ٹیم میں ساؤنڈ انجینئر، کیمرہ مین، ایڈیٹر شامل تھے۔

2. *2 سال بیرون ملک سفر پر پابندی*: کوئی کنسرٹ، کوئی ایوارڈ لینے نہیں جا سکیں گی۔

3. *2 سال آرٹسٹک سرگرمی پر پابندی*: نہ گانا، نہ ریکارڈنگ، نہ پوسٹ۔

انسانی حقوق کے وکیل معین خزائلی نے اعتراض کیا: "ایرانی قانون میں خواتین کا گانا جرم نہیں۔ پھر یہ سزا کیسے؟لیکن عدالت نے کمپیوٹر کرائمز قانون دفعہ 743 لگا دی - "غیر اخلاقی مواد آن لائن پھیلانا۔خبر آتے ہی عالمی میڈیا ہل گیا۔ نیویارک پوسٹ، گارڈین، ٹربیون سب نے رپورٹ کیا۔

سینٹر فار ہیومن رائٹس ان ایران کی بہار قندھاری نے کہا: "صرف گانے اور بغیر حجاب آنے پر 74 کوڑے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال نہیں بدلی۔صحافی مسیح علینژاد نے لکھا: "ایرانی حکومت عورت کی آواز سے ڈرتی ہے، اس لیے اسے خطرہ سمجھتی ہے"۔

سوشل میڈیا پر #ParastooAhmadi ٹرینڈ کرنے لگا۔ ہزاروں خواتین نے بغیر حجاب اپنی ویڈیو پوسٹ کر کے پرستو سے یکجہتی کا اظہار کیا۔پرستو احمدی آج کہاں ہیں؟ سزا معطل ہے یا نہیں، اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ لیکن وہ خاموش نہیں ہوئیں۔ سزا کے بعد بھی ان کا پیغام آیا کہیں گاتی رہوں گی، چاہے خاموشی کی قیمت ادا کرنی پڑے۔

Tuesday, October 7, 2025

Earthquake 2005

۸ اکتوبر ۲۰۰۵ — یادیں، آنسو اور حوصلہ

**۲۰ سال بعد زلزلے کی بازگشت**


**تحریر:** عتیق سلیمانی

۸ اکتوبر ۲۰۰۵ کی وہ صبح آج بھی لاکھوں دلوں میں زخم کی طرح تازہ ہے۔ گھڑیاں آٹھ بج کر پچاس منٹ کا وقت بتا رہی تھیں کہ زمین نے اچانک ایسا جھٹکا لیا جس نے پورے شمالی پاکستان، آزاد کشمیر اور ہزارہ کے پہاڑوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ لمحوں میں بستیاں زمین بوس ہوئیں، سکول ملبے کا ڈھیر بن گئے، اور انسانی چیخوں نے وادیوں کی خاموشی چیر ڈالی۔




یہ زلزلہ صرف زمین کی ہلچل نہیں تھا، بلکہ قوم کی تاریخ میں ایک ایسے موڑ کی علامت بن گیا جس نے دکھ کے ساتھ ساتھ حوصلے، جذبے اور انسان دوستی کی نئی مثالیں بھی قائم کیں۔

تباہی کا لمحہ، قیامت کا منظر

اس زلزلے کی شدت **۷٫۶** ریکارڈ کی گئی، اور مرکز مظفرآباد کے قریب تھا۔ چند ہی سیکنڈ میں **۷۵ ہزار سے زائد جانیں** ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں۔ لاکھوں گھر زمین میں دفن ہوگئے، اور اندازاً **تین ملین سے زیادہ لوگ بے گھر** ہو گئے۔

سب سے دردناک منظر تعلیمی اداروں کے تھے۔ ہزاروں بچے اپنے سکولوں کے ملبے تلے دب گئے۔ ایک لمحہ جو علم کے چراغ روشن کرنے کے لیے تھا، وہ اندھیرے کی علامت بن گیا۔

ریلیف کی دوڑ، انسانیت کا امتحان

زلزلے کے بعد پہاڑوں میں پھنسی بستیوں تک پہنچنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ سڑکیں ٹوٹ چکی تھیں، پل بہہ گئے تھے، اور مواصلات کا نظام مفلوج تھا۔

پاک فوج نے اپنی تمام تر توانائیاں بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں لگا دیں۔ دنیا بھر سے امداد پہنچی — ترکی، چین، امریکہ، جاپان، اور خلیجی ممالک نے خیمے، خوراک اور میڈیکل ٹیمیں بھیجیں۔ مگر سردیوں کی یخ بستہ ہوا میں پناہ سے محروم لاکھوں افراد کی مشکلات ناقابلِ بیان تھیں۔

امدادی تنظیموں کے خیموں میں بچے پڑھنے لگے، خواتین سلائی کڑھائی کر کے گھر چلانے لگیں، اور تباہ شدہ گھروں کی بنیادوں پر امید کے نئے چراغ روشن ہونے لگے۔

بحالی کا سفر — ملبے سے امید تک

ریلیف کے بعد سب سے بڑا مرحلہ **تعمیرِ نو** تھا۔ حکومتِ پاکستان، عالمی بینک، اور اقوامِ متحدہ نے مل کر اربوں ڈالر کے منصوبے شروع کیے۔

نئے **سکول، ہسپتال، سڑکیں اور پل** بنے۔ "Earthquake Reconstruction & Rehabilitation Authority (ERRA)" نے لاکھوں گھروں کی تعمیر میں مالی مدد دی۔ تاہم، بیس سال بعد بھی کئی علاقے ایسے ہیں جہاں زندگی مکمل طور پر واپس نہیں آئی۔

یہ زلزلہ ایک سوال چھوڑ گیا: کیا ہم نے سیکھا کہ محفوظ عمارتیں کیسے بنائی جائیں؟ کیا ہمارے شہروں میں آج وہ حفاظتی اقدامات موجود ہیں جو آئندہ کسی آفت سے بچا سکیں؟

زخم جو اب بھی بولتے ہیں

اس تباہی کے ساتھ نفسیاتی زخم بھی تھے۔ بہت سے بچے آج بھی رات کو خواب میں وہ لمحہ دیکھ کر جاگ جاتے ہیں جب ان کے گھر زمین میں دھنس گئے تھے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق PTSD یعنی **"بعد از صدمہ ذہنی دباؤ"** کے کیسز ہزاروں کی تعداد میں سامنے آئے۔

لیکن ساتھ ہی، انہی علاقوں سے وہ نوجوان نکلے جنہوں نے امدادی کارکن، انجینئر، اور رضاکار بن کر دوسروں کی زندگیاں سنواریں۔ زلزلے نے دکھ کے ساتھ ساتھ ایک **نیا جذبۂ تعمیر** بھی پیدا کیا۔

آفات سے سبق — یا پھر ایک بھولی کہانی؟

۲۰ سال گزرنے کے باوجود یہ سوال باقی ہے کہ کیا ہم نے اس سانحے سے وہ سبق سیکھا جو ہمیں سیکھنا چاہیے تھا؟

بلڈنگ کوڈز آج بھی بہت سے علاقوں میں محض کاغذوں میں محدود ہیں۔ اسکولوں کی عمارتیں اب بھی زلزلہ مزاحم نہیں۔ اور ہمارے ہنگامی ادارے آج بھی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

قدرت نے ہمیں وارننگ دی تھی — لیکن کیا ہم نے اسے سنا؟

حوصلہ، جذبہ اور یاد

مظفرآباد، بالاکوٹ اور بٹگرام کے لوگ آج بھی اس دن کو آنسوؤں کے ساتھ یاد کرتے ہیں، مگر ان کے چہروں پر حوصلے کی چمک بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں:

> “زمین ہلی تھی، مگر ایمان مضبوط رہا۔”

یہ قوم گر کر بھی سنبھلنا جانتی ہے۔ ۸ اکتوبر صرف ایک زلزلے کی تاریخ نہیں — یہ **انسانی عزم اور اجتماعی حوصلے کا دن** ہے۔

بیس سال گزر گئے، مگر ان ملبوں سے جنم لینے والی کہانیاں آج بھی زندہ ہیں۔

ان میں آنسو بھی ہیں، مگر امید بھی۔

اور شاید یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے —

زمین ہلے تو ہلے، دل نہیں ہلتے۔

Thursday, September 4, 2025

we are ready to launch CPEC 2.0, and this would comprise B2B investments,

 پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے مفاہمت کی 21 یادداشتوں پر دستخط، مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف



بیجنگ۔5ستمبر (تنول ٹائمزنیوز):پاکستان اور چین نے زراعت ،الیکٹرک وہیکلز ،شمسی توانائی،صحت، کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز، آئرن اور سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس اور مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگا،یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی،پاکستان چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعاون چاہتا ہے،چین کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل ہے،چینی سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،چینی صنعتوں کو پاکستان میں منتقلی سے سستی لیبر سمیت دیگر سہولیات میسر ہوں گی،پاکستان میں چینی بھائیوں کے سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔



 جمعرات کو یہاں پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے موقع پر مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے گئے۔اس موقع پر نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار،متعلقہ وفاقی وزراء اور ممتاز پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔1.54 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز ہائی ٹیک،زراعت، میڈیکل و صحت ،کیمیکل و پیٹرو کیمیکل، آئرن سٹیل و تانبے، شمسی توانائی، الیکٹرک وہیکلز کے شعبوں سے متعلقہ کمپنیوں کے نمائندوں نے مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے۔پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرے لئے باعث افتخار ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل چینی کاروباری اداروں سے مخاطب ہوں، میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس شریک ہوں، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری اور سٹیل اور آئرن سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ہماری یہ دوستی دیانتداری، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ ہر خوشی اور مشکل کی گھڑی میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص، سچا دوست ہے جو ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، زلزلہ ہو یا سیلاب جس طرح چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ایسی کسی اور ملک کی مثال نہیں ملتی۔



 وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے عظیم دونوں ممالک کے درمیان ہمارے اسلاف نے جو تعلقات قائم کئے تھے ،وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں مزید آگے لے کر جائیں گے، 2015ء میں چین اور پاکستان نے سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور میرے بہت ہی پیارے بھائی چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور میرے بڑے بھائی وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور اس کے نتیجہ میں چینی کمپنیوں نے 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا، صنعتیں بحالی ہوئیں، زراعت بحال ہوئی، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے، روڈ نیٹ ورک، اورنج لائن لاہور، ڈیمز اور دیگر بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی۔ وزیراعظم نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے درمیان میں یہ سلسلہ رک گیا لیکن آج نہ صرف یہ منصوبے بحال ہوئے بلکہ دوطرفہ اعتماد، باہمی احترام اور گرمجوشی میں اضافہ ہوا جو وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، یہ سی پیک 2.0 بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے تجربات، مہارتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی شعبہ پر صرف کریں اور زراعت کو فروغ دیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا، چین وہ اشیاء پاکستان سے درآمد کر سکے گا جو دیگر ممالک سے کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے جس میں چین عالمی سطح پر سب سے آگے ہے، کان کنی اور معدنیات باہمی تعاون کا ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلاشبہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کے بنیادی ستون ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں، چین ٹیکسٹائل، چمڑے اور دیگر شعبوں کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کر سکتا ہے اور پاکستان کی افرادی قوت سے استفادہ کر سکتا ہے جو دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم لاگت پر میسر ہے، چینی سرمایہ کار تھرڈ ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا منافع بڑھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں چینی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیجنگ میں پاکستانی وزراء اور توانائی، انفارمیشن، ٹیکنالوجی، کامرس اور تمام شعبوں کے حکام موجود ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی موجودگی اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان چین جیسے عظیم دوست ملک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور بطور پاکستانی وزیراعظم میں یہاں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری معیشت مضبوط ہو گی تو دونوں ملک مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور اقتصادی اشاریے مستقبل کی مثبت پیشرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں، قلیل المدتی، وسط مدتی اور طویل المدتی سطح پر معاشی ترقی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے ذاتی عزم کی بدولت یہ سب ممکن ہوا ہے اور اب ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں چین کے تعاون سے دیگر ممالک کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ چینی بھائیوں اور بہنوں کی پاکستان میں سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، آئیں آگے بڑھیں اور معاشی منظرنامہ کو تبدیل کریں اور چین اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ چینی بھائیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے دو تین ہفتے قبل چینی گروپ کے لوگوں کی نشاندہی پر درپیش مسئلہ کو 24 گھنٹوں میں حل کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اسلام آباد میں چینی گروپ نے ملاقات میں بتایا کہ انہیں بعض مسائل کا سامنا ہے جس پر میں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور وہ مسئلہ حل کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اسی طرح آپ کا دوسرا گھر ہے جس طرح چین ہمارا دوسرا گھر ہے، آگے بڑھیں اور جائنٹ وینچر سرمایہ کاری کریں، تمام وزارتیں، ادارے اور محکمے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور جلد ہم چینی اور پاکستانی سرمایہ کاری کے ذریعے صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ میرا خواب ہے اور ہم اس خواب کو معاہدوں پر عملدرآمد کے ذریعے پورا کریں گے، سی پیک 2.0 میرے لئے سب سے اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین 15 سال میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور دنیا کی بہترین عسکری قوت ہے اور یہ محنت، محنت اور محنت کے ساتھ ممکن ہوا ہے اور ہم چینی ماڈل کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کو جو شاندار ترقی ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، چین نے 700 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا اور نہ صرف اپنے لوگوں کو روزگار دیا بلکہ دنیا کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کی پیشکش کر رہا ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے، آج اپنے تجربات کے استفادہ کرنے اور صنعتی ترقی کی جانب بڑھنے کا وقت ہے اور پاکستان ایک دن متحرک معیشت میں بدلے گا۔ کانفرنس میں اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یاداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی تقریب ہوتی رہی ہیں لیکن انتھک کوششوں اور سخت محنت سے یہ ممکن ہوا ہے پاکستان میں چین کے سفیر، چینی حکومت اور اور چین کی عظیم کاروباری شخصیات نے اس کو ممکن بنایا ہے،متعلقہ وفاقی وزراء، سرمایہ کاری بورڈ، ایس آئی ایف سی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمہ کے درمیان بہتر رابطے سے اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی ہے،اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، مفاہمت کی یادداشتوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1.5 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز پر پاکستان اور چینی کمپنیوں کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں،مفاہمتی یاداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنا اور ان پر عمل درامد ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، اس کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا اور دونوں حکومتوں کو قریبی رابطے کے ذریعے اگے بڑھنا ہوگا، چین میں پاکستان کے سفیر اور چین کے پاکستان میں سفیر اور ہمارے وفاقی وزراء کو متعلقہ چینی عہدے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،یقین ہے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون لائق تحسین ہے،دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگااور یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگااور یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،ہماری جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی۔



 وزیراعظم نے کہا کہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہم آج شام سے ترقی کا لانگ مارچ شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی کی منزل پہنچنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس کے لئے انتھک محنت کریں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی شاندار لمحہ ہوگا اس مقصد کے لیے تمام حکومتی ادارے، محکمے اور نجی شعبہ مل کر مکمل ہم آہنگی اور تعاون سے کام کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے دن رات ایک کر دوں گا،اس کے لئے ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی اس سے پاکستان اور چین وہ رول ماڈل بنیں گے جس کی دوسرے ممالک بھی پیروی کریں گے۔









Tuesday, September 2, 2025

Kumar Ka Hunar

ہاتھ کا بنا برتن: کمہار کا ہنر زوال سے بقا تک

ایم عتیق سلیمانی 



پاکستان کے دیہی مناظر میں کبھی کمہار کا چاک اُسی طرح بنیادی تھا جیسے مسجد کا مینار یا کنویں کا چرغہ۔ مٹی کے گھڑے، صراحی، دیئے، چٹّی (پکانے کا برتن)، حقے کی گُڈی اور چولہے کے کونڈے۔یہ سب گھر کی ضرورت بھی تھے اور ثقافتی پہچان بھی۔ آج، پلاسٹک، اسٹیل اور کارخانے کی چمکتی ہانڈیوں نے ان دیسی برتنوں کو دوکانی شو کیس تک محدود کر دیا ہے بلکہ شوکیس سے بھی مٹتے جارہے ہیں۔

 مٹی اور تہذیب کا رشتہ وادئ سندھ کی قدیم تہذیب سے لے کر اسلامی عہد کے کاشی کاری تک، برصغیر میں مٹی کے برتن محض استعمالی شے نہیں رہے، یہ زیبائش ، روحانی علامت اور معاشی ہنر تھے۔ سندھ کے ہالہ کی کاشی کاری، ملتان کی نیل و فیروزی نقوش والی سفالیات، پنجاب و بلوچستان کی سادہ مگر نفیس ٹیرراکوٹا اشیاء اور خیبر پختونخوا کے دیسی دیئے و ماٹی کے گھڑے—ہر خطّہ اپنی مٹی کے رنگ، چکناہٹ اور بھٹّی کے درجہ حرارت سے ایک الگ اسلوب بناتا رہا۔

روایتی گاؤں کی معیشت میں کمہار مقامی مانگ پر پیداوار کرتا تھا۔ زرعی موسموں کے حساب سے گھڑے/صراحیاں (گرمیوں میں زیادہ)، دیئے (عید میلاد، دیوالی، محرم و میلوں تہواروں پر)،

* شادی بیاہ اور جنم/وفات کی رسومات کے خاص برتن،

* گھریلو پکوان کے لیے چٹّی اور کونڈا وغیرہ۔

ادائیگی اکثر نقد اور جنس (گندم/چاول/گُڑ) کی صورت میں ہوتی۔ یہ قریب کی منڈی پر منحصر، کم لاگت مگر کم منافع والی سپلائی چین تھی، جس میں کاریگر کے ہنر کی عزت بھی تھی اور گھر کاگزر بسر بھی۔

صنعتی متبادل کی یلغار پلاسٹک، اسٹیل اور ایلومینیم کے برتن سستے، ہلکے اور دیرپا—مارکیٹ نے افادیت پر قیمت کو ترجیح دی۔ فریج/واٹر کولر نے گھڑے کے ٹھنڈے پانی اور صراحی کی نفاست کو غیر ضروری بنا دیا۔

خام مٹی کی دستیابی، بھٹّی کا ایندھن، ٹرانسپورٹ اور ٹوٹ پھوٹ کے نقصانات سب مل کر کمہار کے منافع کو دبا دیا۔

 کم آمدنی، سماجی اسٹیٹس اور تعلیمی/شہری ملازمت کی کشش نے نئی نسل کو چاک سے دور کر دیا ہے۔ ہنر مندی کے مراکز، ڈیزائن اپگریڈیشن، سستے قرضے، اور جی آئی (Geographical Indication) جیسے حفاظتی قوانین کا عملی نفاذ کمزور ہے۔

کم دیکھ بھال والے “ماڈرن” برتنوں نے مٹی کے برتن کے عضوی حسن (organic aesthetics) کو “دیہاتی” قرار دے کر حاشیے پر دھکیل دیا۔

 مٹی کے برتن میں پکانے سے ہلکی آنچ اور نمی برقرار رہتی ہے، ذائقے میں نرمی آتی ہے۔ گھڑے کا پانی قدرتی تبخیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ مٹی بایوڈیگریڈ ایبل پلاسٹک کے برعکس مائیکروپلاسٹک پیدا نہیں کرتی۔

یہ وہ “قدریں” ہیں جن پر نئی منڈی اور شہری صارف کو دوبارہ قائل کیا جا سکتا ہے۔ ہالہ (سندھ)کاثی/کاشی کاری، نقوش و رنگ کی روایت—ٹائلز، پلیٹرز، شو پیسز ۔ملتان (جنوبی پنجاب) نیل و فیروزی سفال، خطاطی و نباتاتی ڈیزائن—سیاحتی برانڈ بننے کی صلاحیت۔گجرات/خانیوال/چکوال اور گردونواح روزمرہ سفالیات اور ٹیرراکوٹاعلاقائی منڈی کے لیے بنیادیں موجود ہیں۔بلوچستان و کےپی کے دیہات دیئے، گھڑے، مٹی کے چولہے سادہ مگر پائیدار اشکال موجود ہیں۔

ان مراکز میں اگر ڈیزائن اسکولز، ای-کامر س اور سیاحت کو جوڑ دیا جائے تو روزگار کی نئی راہیں نکل سکتی ہیں۔

“اچھی چیز” بنانا کافی نہیں شہری کچن کے سائز، انڈکشن/گیس چولہوں، اور ڈِش واشر مطابقت کے بغیر پروڈکٹ مارکیٹ فِٹ نہیں پکڑتی۔ بے قاعدہ گلیز/رنگ بعض اوقات سیسہ/کیڈمیم آلودگی کا خدشہ۔مٹی کے پائیدار، چِپ ریزسٹنٹ برتن تیار کرنے کے لیے بہتر بھٹّی/ٹکنیک درکار ہوگی اس کے لیے سرمایہ چاہیے۔

کس کی مٹی؟ کس کمہار کے ہاتھ؟”—یہ کہانی نہ ہو تو ہینڈ میڈ شے **کموڈیٹی** بن جاتی ہے۔

## بقا کی حکمتِ عملی: گِرا چاک دوبارہ گھمائیں



**(الف) ڈیزائن و جدّت**

* **ہائبرڈ پروڈکٹس:** اندر فوڈ سیف گلیز، باہر خام مٹی کا لمس؛ یا مٹی + لکڑی/بانس ہینڈل۔

* **ماڈیولر سیٹ:** چھوٹی شہری جگہوں کے لیے اسٹیک ایبل گھڑے/جار، ائر ٹائٹ مٹی ڈھکن، اسپِل پروف ڈیزائن۔

* **انڈکشن/اوون فرینڈلی چٹّی:** مناسب تھرمل شاک ریزسٹنس کے ساتھ—یہی یو ایس پی۔

**(ب) سرٹیفیکیشن و معیار**

* **فوڈ سیفٹی لیب ٹیسٹ:** “Lead/Cadmium-free” اسٹیمپ۔

* **جی آئی ٹیگ اور ایتھنٹیسٹی کارڈ:** “ملتان بلو پوٹری—اصلی” یا “ہالہ کاثی—اصل کاریگر” کی مہر۔

**(ج) مارکیٹنگ و کہانی سنانا**

* **QR کوڈ پر کاریگر کی کہانی:** چند منٹ کی ویڈیو/پروفائل—خریدار اور بنانے والے کا رشتہ۔

* **اربن پاپ اپ اسٹورز/کرا프트 فیسٹیول:** لوک ورثہ، آرٹ کونسلز، یونیورسٹی بازار؛ لائیو چاک ڈیمو۔

* **انسٹاگرام/فیس بک شاپ + ہول سیل کیٹلاگ:** فوٹو اسٹوری ٹیلنگ، ریلس، شیف/فوڈی کولیبز (مٹی کی چٹّی میں بریانی/دال کی ریسپی ویڈیوز)۔

**(د) فنانس و تنظیم**

* **کوارپریٹو ماڈل:** مشترکہ بھٹّی، مشترکہ پیکنگ/لاگت؛ انفرادی کاریگر کی لاگت کم۔

* **مائیکرو فنانس و ہنر اپگریڈیشن:** نئے چاک، برقی بھٹّی، گلیزنگ کِٹس کے لیے آسان قرضے۔

* **بی ٹو بی چینلز:** ریستوران/کیفے/ہوم ڈیکور برانڈز کے لیے مخصوص لائن—لوگو کندہ، کسٹم سائز۔

**(ہ) تعلیم و ادارہ جاتی ربط**

* **ڈیزائن اسکول پارٹنرشپ:** NCA/IVS/PUC کے اسٹوڈیوز سے سمیسٹر پروجیکٹس کمہار مراکز میں—“ڈیزائن برائے سماج”۔

* **اسکول نصاب میں لائیو کرافٹ کلاس:** بچوں کے ہاتھ مٹی لگیں گے تو مستقبل کے صارف و کاریگر دونوں جنم لیں گے۔

* **سیاحت سے جوڑ:** ہالہ/ملتان/دیہی مراکز میں “کمہار گاؤں” تجرباتی ٹور—بناؤ، پکاؤ، ساتھ لے جاؤ۔



## پالیسی تجاویز: حکومت و ادارے کیا کریں؟

1. **کرافٹ کلسٹر زونز:** خام مٹی کی معیاری کان کنی، ایندھن سبسڈی، مشترکہ کلین بھٹّیاں، سیفٹی گیئر۔

2. **ایکسپورٹ فیسلیٹیشن:** ایکسپورٹ سرٹیفکیشن، پیکنگ، شپنگ ٹریننگ—حساس برتنوں کی لاجسٹکس۔

3. **جی آئی قانون کا فعال نفاذ:** خطے اور اسلوب کی محافظت؛ نقل و “فیک ہنڈ میڈ” کے خلاف کارروائی۔

4. **خریداری کی سرپرستی:** سرکاری دفاتر/ثقافتی مراکز میں سفالیات کی لازمی خرید—کاریگروں کے لیے **بیس لائن ڈیمانڈ**۔

5. **ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس تعاون:** سرکاری/نیم سرکاری ای-کامر س پورٹل پر مستند کمہار برانڈز کی آن بورڈنگ۔

## میڈیا، سماج اور آپ—ہم کیا کر سکتے ہیں؟

* **گھر میں ایک چیز مٹی کی ضرور رکھیں:** گھڑا، ڈنر سیٹ کا ایک حصہ، یا چائے کے چھ کپ—مانگ پیدا کریں۔

* **تحفے کی معیشت بدلیں:** “گفٹ ہیمپر” میں ہینڈ میڈ سفالیات شامل کریں۔

* **کہانی شیئر کریں:** خرید کے ساتھ کاریگر کی کہانی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لازماً لکھیں۔



 چاک رکے نہیں—پکڑ بدلی جائے

کمہار کا ہنر ختم نہیں ہوا، بس **بازار کی زبان** بدلی ہے۔ اگر ہم **ڈیزائن کی جدّت، معیار کی یقین دہانی، کہانی کی طاقت، اور منڈی کی رسائی** کو ایک دھاگے میں پر دیں تو مٹی کے برتن دوبارہ ہماری روزمرہ زندگی میں لوٹ سکتے ہیں۔ یہ بقا صرف ایک پیشے کی نہیں؛ یہ ہمارے **ماحولیاتی شعور**، **صحت مند عادات** اور **ثقافتی وقار** کی بحالی بھی ہے۔ مٹی ہمارے ہاتھ میں ہے—اسے شکل دینا ہماری ذمہ داری ہے۔


Sunday, August 10, 2025

chunky knitwear and trainers for a comfy yet stylish street outfit.

Knee-Length Skirt trend for Autumn/Winter 2025

United Kingdom 

Tanol Times News 

Fashion Focus: Knee-Length Skirts – The Autumn/Winter 2025 Wardrobe Essential

Discover why knee-length skirts are dominating Autumn/Winter 2025 fashion in the UK and beyond. Learn styling tips, trending colours, and how to wear them from office to street style.



The Comeback of the Knee-Length Skirt

Knee-length skirts have made a powerful return this season, becoming a standout piece in **Autumn/Winter 2025 fashion collections**. Spotted on runways from **London Fashion Week** to **Paris Fashion Week**, this versatile skirt length is winning over style lovers for its ability to transition seamlessly from professional workwear to relaxed weekend outfits.

The appeal lies in its **balance between modesty and style**—it’s long enough for formal settings yet fashionable enough for casual street looks. Designers are embracing knee-length skirts as a fresh alternative to mini skirts, offering comfort without sacrificing sophistication.

Versatility for Every OccEverccasion

 of the biggest reasons for the popularity of the knee-length skirt in 2025 is its **multi-occasion appeal**. For office wear, **pencil skirts** in neutral shades like black, navy, and beige create a polished, corporate-ready look. For weekends or social outings, **A-line and pleated styles** in softer fabrics bring a touch of feminine charm.


Pair a structured knee-length skirt with a **turtleneck sweater** and **ankle boots** for a cosy yet professional ensemble. Alternatively, go casual by teaming it with **sneakers** and an oversized knit for an effortlessly chic vibe.


Trending Colours and Fabrics for AW2025

This season, colour palettes lean heavily into rich autumnal tones. Expect to see deep burgundy, forest green, mustard yellow**, and camel brown** dominating high-street fashion and designer collections alike.



Fabrics are equally important in shaping the AW2025 knee-length skirt trend. **Wool blends** and **tweed** remain winter favourites, offering warmth and structure. For those seeking a statement piece, **faux leather** skirts in glossy finishes add a modern edge, while **corduroy** offers a nostalgic retro twist.

Runway to Reality: Styling Tips

For Work: A tailored knee-length pencil skirt with a fitted blouse and block heels delivers a confident office look.

* **For Evenings Out:** Swap the blouse for a silky camisole, add a cropped blazer, and finish with statement heels.

* **For Casual Days:** Pair an A-line skirt with chunky knitwear and trainers for a comfy yet stylish street outfit.


Accessories also play a key role—**statement belts** are trending as a way to define the waistline and add detail.


---


## **Why It’s Here to Stay**


The knee-length skirt fits perfectly into the growing trend of **"practical elegance"**—clothing that works for multiple settings while maintaining a polished appearance. With its flattering silhouette, seasonal versatility, and endless styling options, it’s no surprise fashion experts predict this trend will carry into 2026.


---


**#KneeLengthSkirts #AW2025Fashion #LondonStyle #ParisFashionWeek #WinterWardrobe #BritishFashion #StyleGuide2025 #UKTrends #OfficeStyle #CasualChic #WinterOOTD #StreetStyleUK #FashionTrends2025**


---


If you want, I can now **turn this into a Blogger-ready post** with images, SEO title tags, and a featured image suggestion so it’s instantly publishable on *Tanol Times News*. That will help it rank faster on Google and look professional.


Karachi :Fruad At Saddar


 

Saturday, August 9, 2025

Karachi Ma Fruad Jari


 

Artificial Intelligence Importance

 قلم بطور ڈیجیٹل ہتھیار ! اپووا اور پی ایم ایم ایل کی مشترکہ تربیتی ورکشاپ میں قلم کاروں نے سیکھے AI کے جدید ٹولز



دور جدید میں جہاں زندگی کے ہر شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس میں مہارت رکھنے والے افراد کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے وہاں اب مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس میں ماہر افراد اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔جس کو بھی اس میں مہارات ہے وہ آگے ہی بڑھتا جارہا ہے۔

ہر شعبہ کی طرح قلم کار حضرات کو بھی اگر مقابلے کے اس دور میں اپنا لوہا منوانا ہے تو انکو اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیئے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خصوصی طور پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں مہارات حاصل کرنی ہوگی۔ 

کچھ ہی ادارے ایسے ہیں جو بلامعاوضہ نئے اور پرانے لکھاریوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیئے مواقع اورباقاعدہ تربیت کا اہتمام کرتے ہیں ورنہ کاروبار بنانے والے بھی بہت ہیں۔

آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن سے تعلق تب سے ہے جب اس عظیم ادارے کی بنیاد رکھی جارہی تھی۔ ایم ایم علی بھائی سے اس سے بھی پہلے کا رشتہ ہے۔ اپووا نے شروع دن سے ہی قلم کاروں کو یکجا کر کے ان کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور انکے لیئے ویلفیئر کا کام شروع کیا ہے۔

پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اپووا کے زیر اہتمام کرائی جانے والی تین روزہ تربیتی ورکشاپ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

5 اگست سے شروع ہونے والی اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد قلم کاروں کو مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال تحریر کے لیئے ریفرنس ، اس تحریر کو بہترین انداز میں قارئین تک پہنچانے کے لیئے گرافکس ، ذاتی بلاگ بنانے، فیکٹ چیک اور دیگر اہم ٹیکنیکس سے آگاہ کرنا تھا۔

تربیتی ورکشاپ کے ٹرینر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈیجیٹل اسکلز ٹرینر ہیڈ ملک وقاص سعید تھے۔

 قلم کاروں کو تربیتی ورکشاپ میں مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال پر بہترین لیکچر دیا گیا۔ انکو بتایا گیا کہ کیسے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے تحریر کے لیئے تحقیق کی جائے۔ریفرنس کیسے حاصل کیے جائیں۔

قلم کاروں کو اسکرین پر عملی مظاہرہ کر کے سیکھایا گیا کہ کیسے کسی تحریر،تصویر اور ویڈیو کلپ کی فرانزک جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور اس میں استعمال ہونے والے اے آئی ٹولز سے بھی روشناس کرایا گیا۔ 

شرکاء کو اپنا ذاتی بلاگ ویب سائیٹ بنانے اور اسکو چلانے کے لیئے ٹولز کا استعمال بھی سیکھایا گیا تاکہ ذاتی بلاگ پر اپنی تحاریر محفوظ بھی کی جاسکیں اور بہترین انداز قارئین تک پہنچائی بھی جاسکیں۔اور اسی بلاگ کو اپنی کمائی کا ذریعہ بھی بنایا جاسکے۔ اسکے علاوہ انٹرنیٹ پر اپنے کام کی چیز تلاش کرنے کے لیے گوگل والیڈ کا استعمال بھی سیکھایا گیا اور گرافکس کے حوالے سے کینوا اردو ڈیزائنر اور دیگر ٹولز پر بھی تفصیل سے بات کی گئی۔

تربیتی ورکشاپ کی میزبانی چیف آرگنائزر ملک ممتاز پی ایم ایم ایل نے بہترین انداز میں کی ۔ اپووا کے بانی ایم ایم علی بھائی نے بھی شرکاء کی حوصلہ افزائی کی اور سینیئر وائس چیئرمین اپووا ملک یعقوب اعوان اور ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم بھی شریک ہوئے۔

رب کائنات تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور تمام قلم کاروں کو اپنے قلم حق کے لیئے استعمال کرنے کہ توفیق عطا فرمائے آمین۔

 #ApnaKamao

 #APWWA

Saturday, August 2, 2025

Future Of Print Media

اخبارات کی اہمیت،درپیش مسائل اور آنے والا کل


سچ پوچھو تو آج کل اخبار چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ویسے تو لوگ کہتے ہیں کہ "اخبار مر گیا"، لیکن بات اتنی سادہ نہیں۔ پاکستان میں بھی اخبارات کا حال دگرگوں ہے، مگر پھر بھی ان کی ایک اپنی جگہ ہے۔ بات کرتے ہیں کہ مشکل کیا ہے؟ اہمیت کیا ہے، اور مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے۔

موبائل سب کچھ لے گیا:اب تو ہر کسی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، یا نیوز ایپس پر تو خبر پلک جھپکتے ہی پہنچ جاتی ہے۔ اخبار کو تو پرنٹ ہونے، پھر گلی گلی پہنچانے میں پورا دن لگ جاتا ہے۔ اس وقت تک تو خبر پرانی ہو چکی ہوتی ہے۔ اخبار چلانے کا سب سے بڑا سہارا اشتہارات تھے۔ اب وہ بھی گوگل اور فیس بک نے کھینچ لیے ہیں۔ جو اشتہار بچتے ہیں، وہ بھی بہت کم ہیں۔ اوپر سے کاغذ مہنگا ہو گیا ہے، پرنٹنگ مہنگی ہے، اخبار پہنچانے والوں کو تنخواہ دینی ہے۔ آمدنی کم، خرچہ زیادہ – حساب ہی نہیں بنتا۔
 نئی نسل کا تو اخبار پڑھنے کا شوق ہی کم ہو گیا ہے۔ وہ تو فون ہی کھولتے ہیں اور دنیا بھر کی خبریں دیکھ لیتے ہیں۔ انہیں کاغذی اخبار پلٹ کر پڑھنے میں وقت ضائع لگتا ہے۔ آن لائن تو ہر کوئی خبریں مفت میں پڑھنا چاہتا ہے۔ اخبارات اگر آن لائن پیسے مانگیں تو لوگ کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ مفت چلانے پر خرچہ کیسے نکلے؟ یہ الجھن بھی اپنی جگہ ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل چینلز کی بھرمار ہے۔ ہر طرف خبریں، ویڈیوز، پوسٹس ہیں۔ ایسے میں پرانے اخبار کا اپنا نام قائم رکھنا بہت مشکل کام ہے۔فون پر خبر تو فوراً مل جاتی ہے، مگر اکثر یہ سطریں ہوتی ہیں۔ اخبار (چاہے پرنٹ ہو یا اچھا ڈیجیٹل) وہ پوری کہانی بتاتا ہے۔ وہ تجزیہ کرتا ہے، پس منظر دیتا ہے، سمجھاتا ہے کہ واقعی معاملہ کیا ہے۔ یہ "کیوں" اور "کیسے" کا جواب دیتا ہے۔ آن لائن پر تو ہر کوئی کچھ بھی لکھ دیتا ہے۔ اخباروں پر (اچھے اخباروں پر) کچھ ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ خبر چھاپنے سے پہلے اس کی پڑتال کرتے ہیں، اسے درست کرتے ہیں۔ یہ تصدیق کا کام بہت اہم ہے۔
بڑے ٹی وی چینلز تو صرف بڑی خبریں دکھاتے ہیں۔ اخبار، خاص کر علاقائی یا مقامی زبانوں (جیسے اردو، سندھی، پشتو اور پنجابی) والے، آپ کے محلے، شہر، یا صوبے کی خبریں دیتے ہیں۔ یہاں کا پانی کا مسئلہ، سڑک کی مرمت، اسکول کا حال – یہ سب انہی میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ پاکستان میں اب بھی بہت سے بزرگ اور دیہات کے لوگ ہیں جنہیں انٹرنیٹ کا اتنا استعمال نہیں آتا، یا ان تک رسائی کم ہے۔ ان کے لیے کاغذی اخبار ہی خبروں اور معلومات کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
 اخبار پڑھتے وقت آپ پر سکون ہوتے ہیں۔ آپ ایک خبر یا مضمون پر ٹھہر کر سوچ سکتے ہیں۔ فون پر تو انگشتھنی نیچے کرتے ہی چلے جاتے ہیں، کچھ یاد نہیں رہتا۔
کاغذی اخبار مکمل ختم نہیں ہوگا، مگر شاید روزانہ کی بجائے ہفتے میں ایک دو بار خاص ایڈیشن نکلیں گے جن میں گہرے مضامین، تجزیے ہوں گے۔ باقی توجہ اچھی ویب سائٹ اور ایپ پر ہوگی اچھی، گہری تحقیق اور سچی خبریں دینے والے اخبار آن لائن پیسے مانگیں گے۔ جو لوگ معیاری معلومات چاہیں گے، وہ یہ پیسہ دینے کو تیار ہوں گے۔چھوٹے یا مقامی اخبار اپنے علاقے پر پوری توجہ دے کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جہاں بڑے میڈیا نہیں پہنچتے، وہاں ان کی خبریں بہت اہمیت رکھیں گی۔
 صرف خبر دینا کافی نہیں ہوگا۔ اخباروں کو پیچیدہ مسائل کو آسان بنانا ہوگا، گہری کھوج کرنی ہوگی، اور اعداد و شمار کو اچھے طریقے سے پیش کرنا ہوگا۔ صرف اشتہاروں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ اسپانسر شدہ مضامین (لیکن صاف صاف بتا کر)، خصوصی پروگرام کرنےجیسے نئے راستے آزمانے ہوں گے۔ اخبار والوں کو اب ویڈیو بنانا، سوشل میڈیا چلانا، ڈیٹا سمجھنا، اور اچھی طرح آن لائن لکھنا جیسے نئے ہنر سیکھنے ہوں گے۔
یہ کہنا کہ اخبار مر گیا، غلط ہوگا۔ ہاں، وہ اخبار جو ویسے ہی چل رہا تھا جیسے بیس سال پہلے چلتا تھا، اس کے لیے وقت بہت سخت ہے۔ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اصل چیز ہے "اخبار" کا مقصد: سچی، گہری اور ذمہ دارانہ معلومات پہنچانا۔ یہ مقصد آج بھی اُتنا ہی ضروری ہے، بلکہ جھوٹی خبروں کے اس دور میں شاید پہلے سے بھی زیادہ۔ پاکستانی اخبارات کو اپنی طاقت (مقامی زبان، گہری رپورٹنگ، عوامی رابطے) کو نئے دور کے ساتھ ملانا ہوگا۔ جو ایسا کر پائیں گے، وہی چل پڑیں گے۔ بات آخر یہی ہے کہ معیاری خبر اور سمجھدار تجزیہ چاہے کاغذ پر ہو یا اسکرین پر، اس کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔

Saturday, June 21, 2025

Buses Route In Karachi

Buses operating in Karachi:

Public Buses



- *KMC Buses*: Over 30 routes, including

    - *Bus 1-B*: Nazimabad, Bara Maidan, Lasbela, Lawrence Road, Barness Street, Bandar Road, Tower

    - *Bus 1-C*: M.P.R Colony, Qasba Colony, Banaras Colony, Pathan Colony, S.I.T.E, Habib Bank, Bismillah Hotel, Gandhi Garden, Garden Road, Plaza Regal, Shahra-e-Liaquat, National Museum, Tower

    - *Bus 1-F*: Naval Colony, Mauripur, Gulbai Chowk, Tower, Juna Market, Ramswami, Garden Bara Board, Valika, Orangi Township No. 10


Peoples Bus Service

- *Red Buses*: 13 routes, including

    - *Route 1*: Model Colony to Dockyard (28 km)

    - *Route 2*: North Karachi to Indus Hospital (30 km)

    - *Route 3*: Power House to Shaan Chowrangi (31 km)

    - *Route 4*: Power House to Tower (21 km)

    - *Route 8*: Yousuf Goth to Tower (17 km)

    - *Route 9*: Gulshan e Hadeed to Tower (42 km)

    - *Route 10*: Numaish Chowrangi to Ibrahim Hyderi (27.8 km)

    - *Route 11*: Shireen Jinnah Colony to Miran Nakka Lyari (19 km)

    - *Route 12*: Khokrapar to Lucky Star Saddar (31 km)

    - *Route 13*: Hawksbay to Tower (20 km)

- *Electric Buses (EV)*: 5 routes, including

    - *EV-1*: CMH Malir Cantt to Dolmen Mall Clifton (28 km)

    - *EV-2*: Bahria Town to Malir Halt (30 km)

    - *EV-3*: Malir Cantt Check Post 5 to Numaish (20 km)

    - *EV-4*: Bahria Town to Ayesha Manzil (34 km)

    - *EV-5*: DHA City To Sohrab Goth (20 km)

- *Pink Buses*: Dedicated to ladies, operating on routes R1, R2, R3, R9, and R10


Other Bus Services

- *UTS Buses*: 2 routes from Kohkrapar

    - *Bus UTS-12*: Kohkrapar, Saudaabad, Kalaboard, Main Shrah-e-Faisal, Airport, Natakhan, Drig Road, Karsaz, Balouch Colony, Nursery, Regent Plaza, Sadder

- *CNG Buses*: 4 routes, including

    - *Bus CNG-1*: Surjani town, Baradari, Nagan Chowrangi, Hyderi Jinnah University

    - *Bus CNG-2*: Surjani town, Baradari, Nagan Chowrangi, Sohrabgoth, Rashid Minhas Road, Gulshan Chowrangi, NIPA, Millennium mall, Drig Road, Sharah-e-Faisal, Nathakhan, Shah-Faisal expressway, Korangi Industrial area, Korangi crossing

- *Green Line*: Chowrangi Bus stations to Saleem Center

- *Blue Line*: Guru Mandir to Bahria Town (48 km)

- *Orange Line*: Orangi Town to Jinnah University ¹ ² ³

Actor Aysha Khan Death

 یہ 2015کی بات ہے، جب میں روزنامہ نئی بات میں میگزین ایڈیٹر تھا۔ موبائل پر کال آئی تو اٹینڈ کی۔ کوئی خاتون بول رہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا نام عائشہ خان ہے اور ٹی وی آرٹسٹ ہیں: ’’شبیر! تم شاید مجھے نہیں پہچانتے مگر میں تمھارے فیچرز بہت شوق سے پڑھتی ہوں۔ پہلے امت اخبار میں پڑھتی تھی، اب نئی بات میں آگئے ہو تو یہ اخبار گھر پہ لگوا لیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تم مجھ سے بہت چھوٹے ہو۔۔۔ بلکہ میرے بڑے بیٹے کی عمر کے ہوگے۔۔۔ اس لیے میں آپ نہیں کہہ رہی۔ تمھیں برا تو نہیں لگ رہا؟‘‘’’نہیں آپا! بالکل برا نہیں لگ رہا۔ فرمائیے کیسے رابطہ کیا؟‘‘بچے! میں بھی تھوڑا بہت قلم گھسیٹ لیتی ہوں۔ بس، شوقیہ کچھ لکھتی رہتی ہوں افسانے وغیرہ۔ مگر ابھی جو تم سے رابطہ کیا ہے، اس کی


 

ایک الگ وجہ ہے‘‘’’جی۔۔۔ جی، فرمائیں‘‘۔

’’بھئی، تمھیں معلوم ہوگا کہ خالدہ ریاست میری چھوٹی بہن تھیں۔ اگلے ہفتے اس کی برسی آرہی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اس کی یاد میں کچھ لکھوں۔ کیا تم اسے اپنے اخبار میں شایع کرسکتے ہو؟‘‘

’’جی آپا! کیوں نہیں۔ یہ تو ہمارے لیے بہت اچھا ہوگا کہ آپ کا ایکسکلیوسیو مضمون چھاپیں۔ یا وہی تحریر آپ دیگر اخباروں کو بھی بھیجنا چاہتی ہیں‘‘

’’نہیں، نہیں۔ صرف تم ہی اسے چھاپوگے، اگر زحمت نہ ہو‘‘۔

’’آپا! آپ وہ مضمون کیسے بھیجیں گی؟‘‘

’’بھئی، گھر سے نکل کر تمھارے اخبار کے دفتر آنا آج کل خاصا مشکل ہے۔ کیوں کہ پائوں میں کچھ تکلیف ہے۔ اس لیے ٹی وی پر بھی نہیں جارہی۔ یہ زحمت تم کرسکتے ہو تو مجھ پر احسان ہوگا۔۔۔ کہاں رہائش ہے تمھاری؟‘‘

جی، میں موسمیات سے آگے سچل گوٹھ میں رہتا ہوں‘‘۔’’پھر تو آسانی ہے۔ میں گلشن کے اتوار بازار کے پیچھے نجیب پلازا میں رہتی ہوں جو تمھارے راستے میں پڑتا ہے۔ ایک دو دن میں اگر آجائو تو میرا کام بن جائے گا۔ ویسے میں گڑ کی چائے بہت اچھی بناتی ہوں‘‘۔انھوں نے ہنستے ہوئے اطلاع دی تھی۔خیر، میں دو دن بعد انھیں کال کرکے چلاگیا۔ پلازا کے مین گیٹ پر وہ انتظار کر رہی تھیں اور بہت محبت سے سر پہ ایسے ہاتھ پھیرا، جیسے اپنے کسی برخوردار کو ہم پیار کرتے ہیں۔ وہ اپنے فلیٹ میں لے آئیں اور سیدھا لے جاکر کمرے میں بٹھایا۔ صوفے کے سامنے رکھی ٹیبل پرکچھ کاغذات رکھے تھے جو اٹھا کر انھوں نے مجھے دیے اور بولیں:

’’جب تک تم یہ پڑھ لو۔۔۔ میں چائے بناکر لاتی ہوں‘‘۔

ان کی تحریر بہت متاثر کن تھی۔ انھوں نے مرحومہ خالدہ ریاست کے بچپن سے بات شروع کی تھی اور ان کے انتقال پر ختم کی تھی۔

تھوڑی دیر بعد وہ چائے ، بسکٹ اور نمکو وغیرہ لے آئیں اور پوچھا:

’’پڑھ لیا تم نے؟‘‘۔

’’جی آپا! ماشااللہ، آپ تو بہت اچھا لکھتی ہیں‘‘۔

’’ارے، ایمان کی بات یہ ہے کہ مجھے تو تمھارے فیچرز ہی پسند آتے ہیں۔ سادہ، بالکل گائوں گوٹھ کے لہجے والے ہوتے ہیں اور تم جس بندے سے بھی بات کرتے ہو، اسی کے انداز میں اسے لکھتے ہو۔ یہ بہت اچھا لگتا ہے مجھے‘‘۔

’’شکریہ آپا!‘‘

’’ایک بات اور۔ میرے اس مضمون میں تم جیسے چاہو، کاٹ پیٹ کرسکتے ہو۔ تمھیں پوری اجازت ہے‘‘۔

’’نہیں آپا! آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ بس، ایک آدھ جگہ مجھے لگتا ہے کہ لفظ تبدیل کرنا پڑے گا‘‘۔

’’بالکل کرسکتے ہو۔ میں نے کہا نا کہ پوری اجازت ہے‘‘۔

اور میں نے اپنی کم فہمی کے باعث، ان کے درست لکھے ہوے ایک لفظ ’’گھٹنیوں گھٹنیوں‘‘کو اپنے تئیں ’ درست‘کرکے گھٹنوں گھٹنوں کردیا!

مگر یہ ان کا بڑا پن تھا کہ انھوں نے میری غلط فہمی کی نشاں دہی نہیں کی۔ 

وہ مضمون چھپ جانے کے بعد عائشہ خان ایک دن دفتر نئی بات بھی آئی تھیں اور میں نے انھیں اپنے باس محترم مقصود یوسفی صاحب سے بھی ملوایا تھا، جنھوں نے خود بھی انھیں پیشکش کی تھی کہ وہ نئی بات کے میگزین صفحات کے لیے لکھا کریں۔ 

اس کے بعد ان سے کچھ اور ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ان دنوں پی ٹی وی پر میرے قریبی دوست اور کرنٹ افیئر کے ہیڈ فدا حسین سومرو کے ہاں میراکافی آنا جانا ہوتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقع پر پی ٹی وی کی کینٹین میں ہم لنچ کر رہے تھے اور عائشہ خان دوسری ٹیبل پر ایک اور معروف آرٹسٹ کے ساتھ بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ مگر وہ وہاں سے اٹھ کرہماری میز پر آگئیں اور کہنے لگیں:

’’بھئی شبیر! میں نے تمھیں دیکھا تو ملنے چلی آئی۔ تم لوگ اپنی باتیں جاری رکھو، جب فارغ ہوجائو تو بتانا۔ پھر ہم بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں‘‘۔ 

اس کے بعد انھوں نے ایک مرتبہ فون پر رابطہ کرکے، مجھ سے لال مسجد اور جامعہ حفصہ سانحے پر لکھی ہوئی میری کتاب ’’میرا لہو رائیگاں نہیں ہے‘‘دینے کی فرمائش کی تھی۔ جب میں کتاب لے کر ان کے گھر پہنچا تو وہ کھانا بنائے بیٹھی تھیں اور میرا انتظار کر رہی تھیں۔ اُس دن لنچ کرانے کے بعدانھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اپنے فیچرز کو ڈرامائی شکل دو:

’’ ہمارے ہاں ٹی وی چینل عموماً نئے ڈرامہ رائٹرز کے پیسے کھاجاتے ہیں مگر میں تمھاری مدد کروں گی اور کوئی بھی ایسا مسئلہ ہونے نہیں دوں گی‘‘۔ 

مگر میں اپنی روایتی سست کی وجہ سے وہ کام بھی نہ کرسکا۔ حالاں کہ دو ڈرامے لکھنا شروع بھی کیے تھے مگر ادھورے چھوڑ دیے۔

اس کے بعد میں سچل گوٹھ سے کہیں اور شفٹ ہوگیا تھا، اس لیے پھر عائشہ خان صاحبہ سے رابطہ نہیں رہا۔

اور کل رات ان کی دلدوز موت کی خبر آگئی۔ وہ برسوں سے تنہا رہ رہی تھیں، اس لیے ان کی بیماری یا موت کا بروقت پتا نہ چل سکا اور ایک ہفتے بعد جب ان کے گھر سے بُو اٹھی، تب پڑوسیوں نے دروازہ کھلوایااورپتا چلا کہ کئی دن پہلے ان کا انتقال ہوچکا تھا۔

Friday, June 20, 2025

Kpk Cabinet Meeting

 وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کابینہ کا 34واں اجلاس



 اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔

کابینہ نے بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 50 نئی ڈیزل-ہائیبرڈ بسوں کی خریداری کی منظوری دی۔ابتدائی طور پر ٹرانس پشاور نے 220 بسیں حاصل کی تھیں، بعد ازاں 2022 میں 24 مزید بسیں شامل کی گئیں، جس سے کل تعداد 244 ہوگئی۔ عوامی مطالبے اور روٹ میں اضافے (چھ روٹس) کی وجہ سے مزید بسوں کی ضرورت تھی۔

اجلاس میں صوبائی حکومت اور پاک قطر ایسٹ مینجمنٹ کمپنی کے درمیان معاہدے کی منظوری دی گئی۔ 

کابینہ نے چترال کے ارندو گول اور اپر کوہستان فارسٹ ڈویژنز میں غیر قانونی طور پر کاٹی گئی لکڑی کے استعمال سے متعلق طریقہ کار کے نفاذ کے لئے کمیٹی تشکیل دی 

 کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ رولز 2021 میں ترمیم کی منظوری دیدی،نئی ترمیم کے تحت بڈنگ کی مدت 60 دونوں سے کم کرکے 30 دن کردی گئی۔ 

کابینہ نے ایرا کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کے بقایاجات کی ادائیگیوں کے لئے نن اے ڈی پی اسکیم کی منظوری دیدی۔ 

اجلاس میں بالاکوٹ مانسہرہ میں کٹیگری ڈی ہسپتال کی تعمیر کے منصوبے پر آنے والی اضافی لاگت کی منظوری دیدی۔ 

کابینہ نے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جدید طبی آلات کی خریداری کے لئے 346 ملین گرانٹ کی منظوری دی۔ 

اجلاس میں بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں بہتر سہولیات کی فراہمی کے منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری دی گئی۔ 

کابینہ نے کینسر کی مریضہ پروین مختار کے علاج کے لئے دس لاکھ روپے امداد کی منظوری دی۔ 

اجلاس میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ریسرچ سینٹر کے قیام کے لئے گرانٹ ان ایڈ کی مشروط منظوری دی گئی۔ 

کابینہ نے خیبر پختونخوا این جی اوز رولز 2024 میں ضروری ترمیم کی منظوری دی۔ 

اجلاس میں ضلع خیبر اور مہمند کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی دو گاڑیوں کی خریداری اور گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی میں نرمی کی منظوری دی گئی۔ 

کابینہ نے صوبائی محتسب کی خالی آسامی پر روباب مہدی کی تعیناتی کی منظوری دی۔ 

اجلاس میں خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے بجٹ برائے مالی سال 25۔2024 کی منظوری دیدی گئی۔ 

کابینہ نے گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات کے پیش نظر بجلی کے خراب ٹرانسفارمرز کی بروقت مرمت کے لئے ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری دی۔ چونکہ بجلی کے ٹرانسفارمرز کی مرمت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اس لئے صوبائی حکومت نے ٹرانسفارمرز کی مرمت پر خرچ ہونے والی رقم کی ادائیگی کے لئے وفاقی حکومت سے معاملہ اٹھا نے کی منظوری دی۔ 

کابینہ نے ڈبلیو ایس ایس سیز اور ٹی ایم اوز کی بجلی کے بلوں کے بقایاجات کی بک ایڈجسمنٹ کے لئے سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی۔ 

کابینہ نے مکھنیال ایریا کو ہری پور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں شامل کرنے کی منظوری دیدی اور اس سلسلے میں مروجہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے لئے کابینہ کی کمیٹی تشکیل دیدی۔ 

اجلاس میں کلچر، ٹورازم اینڈ ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے رولز آف بزنس میں ضروری ترامیم کی منظوری دیدی گئی۔ 

کابینہ نے سوات، ایبٹ آباد اور ڈی ائی خان میں زمونگ کور قائم کرنے کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبے کو زمونگ کور پشاور میں ضم کرنے کی منظوری دی۔ 

Thursday, March 27, 2025

Mansehra : Sunni Shia In One Mosque

مانسہرہ پیراں خیر آباد میں سنی شیعہ مسلک کی مشترک مسجد


**پیراں گاؤں کی مشترکہ مسجد: شیعہ و سنی ہم آہنگی کی روشن مثال** مانسہرہ کے گاؤں پیراں میں واقع مسجد "پیرا" پاکستان بھر میں شیعہ اور سنی برادریوں کے درمیان رواداری اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی ایک منفرد مثال ہے۔ جہاں ملک کے دیگر علاقوں جیسے ضلع کرم میں فرقہ وارانہ تصادم خبروں میں رہتے ہیں، وہیں پیراں گاؤں کے باشندے دہائیوں سے ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرنے، اخراجات بانٹنے اور حتیٰ کہ آپس میں شادیاں کرنے کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ **مسجد کی خصوصیات:** اس مسجد کا فولادی مینار اور چھت پر نصب لاؤڈ اسپیکر گاؤں میں داخل ہوتے ہی نظر آتے ہیں۔ اگرچہ یہ علاقے کی واحد مسجد نہیں، مگر یہ واحد ہے جہاں دونوں مکاتب فکر کے لوگ مشترکہ طور پر عبادت کرتے ہیں۔ مسجد کی ملکیت اہل تشیع کے پاس ہے، لیکن خطیب سید مظہر علی عباس کے مطابق سنی برادری کو بھی اسے استعمال کرنے کا برابر حق حاصل ہے۔ **نماز و اذان کا منفرد نظام:** نمازوں کے اوقات میں دونوں فرقے ایک دلچسپ روایت کے تحت یکے بعد دیگرے مسجد استعمال کرتے ہیں۔ اذان دینے کی ذمہ داری بھی تقسیم ہے: فجر، ظہر اور مغرب کی اذان شیعہ برادری جبکہ عصر اور عشا کی اذان سنی برادری کے ذمے ہے۔ رمضان المبارک میں سنی برادری شیعہوں سے چند منٹ پہلے روزہ افطار کرتی ہے، اس لیے اس مہینے میں الگ اذان دی جاتی ہے۔ تاہم، دونوں گروہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ نماز پڑھ لیتے ہیں، جسے خطیب "باہمی احترام کی علامت" قرار دیتے ہیں۔ **تاریخی پس منظر اور مشترکہ روایات:** یہ روایت تقریباً ایک صدی قبل شروع ہوئی اور مسجد کی تعمیر نو کے باوجود آج تک قائم ہے۔ گاؤں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ یہاں شیعہ-سنی شادیوں کی روایت بھی عام رہی ہے، جو علاقائی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ دونوں برادریاں مسجد کے بجلی کے بل سمیت دیگر اخراجات بھی مشترکہ طور پر اٹھاتی ہیں۔ **خطیب کا پیغام:** سید مظہر علی عباس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ "یہ مسجد محض عبادت گاہ نہیں، بلکہ ہمارے مشترکہ انسانی اقدار کا مرکز ہے۔ ہماری نسل در نسل روایت ثابت کرتی ہے کہ اختلافات کو احترام سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔" پیراں گاؤں کی یہ مشترکہ مسجد نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے فرقہ وارانہ تناؤ کے دور میں امن کی ایک عملی مثال پیش کرتی ہے۔

Saturday, March 22, 2025

Deepseek Data Solutions for Businesses in the USA, UK, and Pakistan

** DeepSeek: Revolutionizing AI and Big Data Solutions for Businesses in the USA, UK, and Pakistan**


 **Introduction** In an era where data drives decisions, **DeepSeek** emerges as a trailblazer in AI and big data analytics, empowering businesses across the **USA, UK, and Pakistan** to unlock innovation. This cutting-edge platform combines machine learning, natural language processing (NLP), and real-time data analytics to deliver scalable solutions for enterprises, startups, and SMEs. Whether optimizing operations or predicting market trends, DeepSeek is redefining how industries harness technology. **Why DeepSeek? Key Features and Technologies** DeepSeek’s success lies in its robust suite of tools tailored for modern challenges: - **Advanced Machine Learning Models**: Enables predictive analytics for industries like finance and healthcare. - **Real-Time Data Processing**: Instant insights for dynamic sectors like e-commerce and logistics. - **NLP Capabilities**: Enhances customer service through sentiment analysis and chatbots. - **Scalable Cloud Infrastructure**: Adapts to businesses of all sizes, ensuring cost-effective growth. These features make DeepSeek a top choice for enterprises seeking **AI-driven solutions** that balance power and affordability. **Industries Transformed by DeepSeek** 1. **Healthcare**: Hospitals in the **USA** use DeepSeek to analyze patient data, improving diagnostics and personalized care. 2. **Finance**: UK banks leverage its fraud detection algorithms to enhance security and compliance with **GDPR standards**. 3. **E-Commerce**: Pakistani startups deploy DeepSeek’s recommendation engines to boost sales and customer engagement. 4. **Manufacturing**: Predictive maintenance tools minimize downtime, a game-changer for industries globally. **DeepSeek’s Regional Impact: USA, UK, and Pakistan** - **USA**: In a competitive tech landscape, DeepSeek stands out with its **innovative AI solutions**, helping firms like retailers analyze consumer behavior and optimize supply chains. - **UK**: With strict data laws, DeepSeek’s **GDPR-compliant frameworks** attract businesses prioritizing security and ethical AI. - **Pakistan**: As the tech sector booms, DeepSeek’s **cost-effective AI tools** support SMEs in automating processes and accessing global markets. **Benefits of Choosing DeepSeek** - **Enhanced ROI**: Streamlined operations and data-driven strategies boost profitability. - **Competitive Edge**: Stay ahead with real-time analytics and adaptive algorithms. - **Scalability**: Grow seamlessly with cloud-based infrastructure suited for startups and enterprises alike. - **Future-Proofing**: Continuous updates ensure alignment with evolving tech trends. **Conclusion: Embrace the AI Revolution with DeepSeek** From Silicon Valley to Karachi, DeepSeek is bridging the gap between ambition and capability. Its blend of **advanced machine learning**, regulatory compliance, and affordability makes it indispensable for businesses in the **USA, UK, and Pakistan**. Ready to transform your enterprise? Explore DeepSeek’s solutions today and join the global wave of AI
 AI-driven solutions USA, machine learning platforms UK, affordable AI tools Pakistan, big data analytics, GDPR-compliant AI, predictive analytics, NLP technology, scalable cloud infrastructure, emerging tech Pakistan, enterprise AI solutions. By strategically integrating these keywords, this article aims to rank highly on search engines, attracting traffic from tech enthusiasts and decision-makers across target regions. Dive into the future with DeepSeek—where data meets possibility.

Donald J. Trump: The 45th President of the United States

 


**Donald J. Trump: The 45th President of the United States**


  "Donald Trump presidency impact"*  

  - *"Trump policies USA"*  

  - *"Trump 2024 election updates"*  

Donald John Trump, a businessman-turned-politician, served as the 45th President of the United States from January 2017 to January 2021. His presidency, marked by bold policies and polarizing rhetoric, left an indelible impact on American politics.  

**Business Background and Political Rise**  

Before entering politics, Trump was a real estate mogul and television personality, renowned for projects like Trump Tower and the reality show *The Apprentice*. His 2016 presidential campaign, framed around an “America First” agenda, defied conventional norms, emphasizing immigration restrictions, economic nationalism, and skepticism of global alliances. Despite polls predicting his loss, Trump defeated Democratic candidate Hillary Clinton in a stunning Electoral College victory.  

**Key Policies and Achievements**  

Trump’s administration prioritized deregulation, tax cuts, and conservative judicial appointments. The 2017 Tax Cuts and Jobs Act slashed corporate taxes, spurring economic growth until the COVID-19 pandemic. He appointed three Supreme Court justices—Neil Gorsuch, Brett Kavanaugh, and Amy Coney Barrett—solidifying a conservative majority.  

On foreign policy, Trump pursued an unconventional path, brokering the Abraham Accords to normalize Israel-Arab relations while withdrawing from the Paris Climate Accord and the Iran nuclear deal. His trade war with China imposed tariffs to address trade imbalances, though critics warned of economic fallout. Domestically, he tightened immigration via a travel ban targeting Muslim-majority nations and pushed for a U.S.-Mexico border wall.  

**Controversies and Impeachments**  

Trump’s presidency faced relentless controversy. He was impeached twice: first in 2019 for pressuring Ukraine to investigate political rival Joe Biden, and again in 2021 for allegedly inciting the January 6 Capitol riot. His dismissal of COVID-19 risks and inconsistent pandemic response drew bipartisan criticism. The 2020 election saw Trump repeatedly claim voter fraud, despite no evidence, culminating in the violent Capitol attack by his supporters.  

**Post-Presidency and Legacy**  

Since leaving office, Trump remains a dominant GOP figure, announcing a 2024 presidential bid amid legal challenges, including indictments related to classified documents and election interference. His communication style, defined by unfiltered tweets and rallies, reshaped political discourse, energizing a loyal base while deepening national divisions.  

Whether celebrated as a disruptor or criticized as a norm-shattering populist, Trump’s influence on U.S. politics endures, ensuring his legacy will spark debate for years to come.

Bikes Is Dangerous

 کم عمر بائیکرز اور ہماری مجرمانہ خاموشی خامہ بگوش ایم عتیق سلیمانی  Sulemaniatiq572@gmail.com  آئے روز ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر بارود کی...