Sunday, June 21, 2026

Parstu Irani

 خاموش نہ رہنے والی آواز پرستو احمدی کی کہانی



تہران سے 150 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک پرانی کاروانسرا۔ چھت نہیں، صرف کھلا آسمان۔ دسمبر 2024 کی سرد رات۔ 29 سالہ پرستو احمدی سٹیج پر آتی ہیں۔ سیاہ سلیو لیس لباس، سر ننگا، ہاتھ میں مائیک۔ پیچھے 4 موسیقار۔ کیمرہ آن ہوتا ہے، یوٹیوب لائیو شروع۔وہ گاتی ہیں: "از خونِ جوانانِ وطن" یعنی "مادر وطن کے جوانوں کے خون سے"۔ 27 منٹ کا کنسرٹ۔ کوئی سامعین نہیں، صرف کیمرہ۔ ویڈیو اپ لوڈ ہوتی ہے اور 24 گھنٹے میں 2 ملین ویوز لے لیتی ہے۔

18 ماہ بعد، 20 جون 2026 کو قم کی فوجداری عدالت کا فیصلہ آتا ہے: پرستو احمدی + 8 ساتھی = 74 کوڑے، 2 سال ملک بدری، 2 سال خاموشی۔پرستو احمدی ایران کی نئی نسل کی لوک گلوکارہ ہیں۔ وہ روایتی ایرانی موسیقی کو نوجوانوں تک لے جانے کے لیے مشہور ہیں۔ 2022 کے "زن، زندگی، آزادی" احتجاج کے بعد وہ سوشل میڈیا پر بغیر حجاب گانے پوسٹ کر کے مشہور ہوئیں۔

ان کا ماننا ہے: "گانا میرا حق ہے۔ میں اس ملک سے محبت کرتی ہوں اور اس کے لیے گاتی رہوں گی"۔ ان کا انسٹاگرام بائیو پڑھیں تو لکھا ہے کہ میں وہ لڑکی ہوں جو خاموش نہیں رہ سکتی۔

ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد خواتین پر پابندی ہے کہ وہ عوامی مقام پر اکیلے گانا نہیں گا سکتیں۔ سولو کنسرٹ منع ہے۔ اس لیے پرستو نے کاروانسرا کنسرٹ کو خیالی کنسرٹ کا نام دیا۔ کوئی ٹکٹ نہیں، کوئی ہال نہیں، صرف یوٹیوب۔کاروانسرا کنسرٹ کی ویڈیو آج بھی آن لائن ہے۔ پرستو نے خود کیپشن لکھا تھا کہ میں پرستو ہوں۔ وہ لڑکی جو خاموش رہنے سے انکار کرتی ہے۔ میں اس ملک کے لیے گاتی ہوں جس سے میں شدید محبت کرتی ہوں۔ میں ایک ایسے ملک کا خواب دیکھتی ہوں جہاں تمام بچے اپنے گھر میں آزاد ہوں۔

ویڈیو میں وہ وطن پرستانہ گیت گاتی ہیں۔ لباس سادہ، سیاہ، سلیو لیس۔ سر پر دوپٹہ نہیں۔ ساتھ 4 مرد موسیقار تار، سنتور اور دف بجا رہے ہیں۔ عدالتی دستاویز کے مطابق الزام تھا کہ سائبر اسپیس پر فحش اور غیر اخلاقی مواد پھیلا کر عوامی شرم و حیا مجروح کرنا دفعہ 638 - اسلامی تعزیرات قانون۔کنسرٹ کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے پرستو اور 2 موسیقاروں احسان بیراقدار اور سہیل فقیہ نصیری کو حراست میں لیا۔ چند دن بعد رہا کر دیا گیا۔ سب کو لگا معاملہ ختم ہو گیا۔

لیکن جنوری 2024 میں سب کو اخلاقی سیکیورٹی پراسیکیوٹر کے دفتر بلایا گیا۔ تفتیش شروع ہوئی۔ پھر 18 جون 2026 کو قم کی عدالت نے فیصلہ سنایا۔

سزا 3 حصوں پر مشتمل:

1. *74 کوڑے*: پرستو + پروڈکشن ٹیم کے 8 افراد۔ ٹیم میں ساؤنڈ انجینئر، کیمرہ مین، ایڈیٹر شامل تھے۔

2. *2 سال بیرون ملک سفر پر پابندی*: کوئی کنسرٹ، کوئی ایوارڈ لینے نہیں جا سکیں گی۔

3. *2 سال آرٹسٹک سرگرمی پر پابندی*: نہ گانا، نہ ریکارڈنگ، نہ پوسٹ۔

انسانی حقوق کے وکیل معین خزائلی نے اعتراض کیا: "ایرانی قانون میں خواتین کا گانا جرم نہیں۔ پھر یہ سزا کیسے؟لیکن عدالت نے کمپیوٹر کرائمز قانون دفعہ 743 لگا دی - "غیر اخلاقی مواد آن لائن پھیلانا۔خبر آتے ہی عالمی میڈیا ہل گیا۔ نیویارک پوسٹ، گارڈین، ٹربیون سب نے رپورٹ کیا۔

سینٹر فار ہیومن رائٹس ان ایران کی بہار قندھاری نے کہا: "صرف گانے اور بغیر حجاب آنے پر 74 کوڑے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال نہیں بدلی۔صحافی مسیح علینژاد نے لکھا: "ایرانی حکومت عورت کی آواز سے ڈرتی ہے، اس لیے اسے خطرہ سمجھتی ہے"۔

سوشل میڈیا پر #ParastooAhmadi ٹرینڈ کرنے لگا۔ ہزاروں خواتین نے بغیر حجاب اپنی ویڈیو پوسٹ کر کے پرستو سے یکجہتی کا اظہار کیا۔پرستو احمدی آج کہاں ہیں؟ سزا معطل ہے یا نہیں، اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ لیکن وہ خاموش نہیں ہوئیں۔ سزا کے بعد بھی ان کا پیغام آیا کہیں گاتی رہوں گی، چاہے خاموشی کی قیمت ادا کرنی پڑے۔

No comments:

Post a Comment

Parstu Irani

 خاموش نہ رہنے والی آواز پرستو احمدی کی کہانی تہران سے 150 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک پرانی کاروانسرا۔ چھت نہیں، صرف کھلا آسمان۔ دسمبر 2024 ک...