یم کیو ایم: فکری عروج، عسکری زوال اور دھڑوں کی سیاست
سندھ بالخصوص کراچی اور حیدرآباد کی سیاست کا ذکر جب بھی آئے گا، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا نام نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔ 1980ء کی دہائی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کے بطن سے جنم لینے والی اس جماعت نے پاکستان کی روایتی جاگیردارانہ سیاست کو وہ دھچکا پہنچایا جس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن چار دہائیوں پر محیط یہ سفر جتنا سنسنی خیز ہے، اتنا ہی عبرت ناک بھی۔
1۔ فکری پس منظر اور عروج: مڈل کلاس انقلاب
ایم کیو ایم کا بنیادی نظریہ "مہاجر قومیت" اور مڈل کلاس کی حاکمیت تھا۔ الطاف حسین کی قیادت میں اس جماعت نے کراچی کے پڑھے لکھے لیکن محروم مہاجر نوجوانوں کو ایک نئی پہچان دی۔
* **سیاسی تبدیلی:** ایم کیو ایم نے پہلی بار وڈیروں، خانوں اور مخدوموں کے متبادل کے طور پر عام بستیوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو اسمبلیوں میں پہنچایا۔
* **بلدیاتی خدمات:** نعمت اللہ خان کے دور کے بعد، مصطفیٰ کمال کے میئر شپ کے دور کو کراچی کی ترقی کا سنہری دور مانا جاتا ہے، جس نے جماعت کی عوامی مقبولیت کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔
2۔ عسکریت پسندی اور جبر کا دور
جہاں ایم کیو ایم نے مڈل کلاس کو زبان دی، وہاں اس کے ساتھ ہی کراچی کی سیاست میں "بھتہ خوری"، "بوری بند لاشیں" اور "ٹارگٹ کلنگ" جیسے بھیانک الفاظ بھی متعارف ہوئے۔
* **ریاستی آپریشنز:** 1992ء کا فوجی آپریشن (آپریشن کلین اپ) اور پھر 1990ء کی دہائی کے اواخر میں ہونے والے کریک ڈاؤنز نے شہر کو مقتل بنا دیا۔ جماعت نے دعویٰ کیا کہ ان کے ہزاروں کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، جبکہ ریاست کا موقف تھا کہ وہ شہر کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کر رہی ہے۔
* **لندن سے کنٹرول:** الطاف حسین نے لندن میں بیٹھ کر جو "سحر" انگیز طاقت برقرار رکھی، وہ آہستہ آہستہ ایک خوف کی علامت بن گئی۔ کراچی کی معیشت ایک فون کال پر مفلوج ہو جایا کرتی تھی۔
3۔ 22 اگست 2016ء: نقطۂ انقلاب (Turning Point)
ایم کیو ایم کی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ 22 اگست 2016ء کو آیا، جب الطاف حسین نے پاکستان مخالف تقریر کی اور میڈیا ہاؤسز پر حملوں کی ترغیب دی۔ یہ وہ لکیر تھی جسے پار کرنے کی اجازت مقتدر حلقوں نے نہیں دی۔
* **ایم کیو ایم پاکستان کا جنم:** فاروق ستار اور دیگر مقامی قائدین نے فوری طور پر الطاف حسین اور لندن قیادت سے لاتعلقی کا اعلان کر کے "ایم کیو ایم پاکستان" کی بنیاد رکھی تاکہ جماعت کو مکمل پابندی سے بچایا جا سکے۔
4۔ دھڑے بندی اور سیاسی پسپائی
لندن سے علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم شیرازہ بکھرنے کے عمل سے گزری۔ جماعت مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی:
1. **ایم کیو ایم پاکستان (بہادر آباد):** جو اب خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں مرکزی دھارے کی سیاست کر رہی ہے۔
2. **پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی):** مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی بنائی گئی پارٹی (جو بعد میں دوبارہ ایم کیو ایم میں ضم ہو گئی)۔
3. **ایم کیو ایم حقیقی:** آفاق احمد کا پرانا دھڑا جو اپنی جگہ برقرار رہا۔
4. **لندن گروپ:** جو سیاسی منظرنامے سے عملاً غائب یا پابندی کا شکار ہے۔
اس اندرونی خلفشار اور عسکری طاقت کے خاتمے کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2018ء اور بعد کے انتخابات میں کراچی کا روایتی مہاجر ووٹ بینک تقسیم ہوا، اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) اور جماعت اسلامی نے اس خلا کو پُر کیا۔
حاصلِ کلام
ایم کیو ایم کی تاریخ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ یہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک حقیقی عوامی اور مڈل کلاس تحریک اگر تشدد، انتہا پسندی اور ریاست سے تصادم کا راستہ اختیار کر لے، تو وہ اپنی ہی طاقت کا شکار ہو جاتی ہے۔
آج کی ایم کیو ایم اب وہ "ویٹو پاور" نہیں رہی جو کبھی اسلام آباد کے ایوانوں کو ہلا دیا کرتی تھی، بلکہ اب وہ بقا اور مفاہمت کی سیاست کے ذریعے کراچی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
وضاحت: گوگل جمنائی سے جب ایم کیو ایم کے متعلق پوچھا گیا تو اسکا جواب یہ تھا۔