خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ خواتین (KPCSW) صوبے بھر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے اور تشویشناک واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہر قسم کے صنفی بنیادوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ گھریلو تشدد، زیادتی، زیادتی کی کوشش، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا، ہراسانی، غیر قانونی حراست، غیرت کے نام پر جرائم اور خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی ہر قسم کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ناگزیر ہے۔
خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ خواتین اپنی ضلعی کمیٹیوں برائے وقارِ خواتین (District Committees on the Status of Women - DCSWs) کے ذریعے خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر بروقت کارروائی، متاثرین کی معاونت، متعلقہ اداروں کو ریفرل، اور ضلعی انتظامیہ، پولیس و دیگر اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے اپنے قانونی اور ادارہ جاتی فرائض انجام دے رہا ہے۔گزشتہ چار ہفتوں کے دوران پشاور، نوشہرہ، مردان، لوئر دیر، ٹانک، خیبر، ایبٹ آباد اور سوات میں مجموعی طور پر 16 مقدمات پر کارروائی کی گئی۔ ان واقعات میں گھریلو تشدد، زیادتی، زیادتی کی کوشش، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا، ہراسانی، غیر قانونی حراست، خاندانی تنازعات اور مشتبہ قتل جیسے سنگین معاملات شامل تھے۔ضلعی کمیٹیوں نے ان مقدمات میں ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس افسران، ہسپتالوں، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن، دارالامان، محکمہ سوشل ویلفیئر اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے بروقت مداخلت، ایف آئی آر کے اندراج، متاثرین کے تحفظ، قانونی رہنمائی، ریفرلز، نفسیاتی و سماجی معاونت، جہاں مناسب ہو خاندانی مصالحت، اور تحقیقات کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا۔چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے ضلعی کمیٹیوں کی بروقت کارروائی، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کا ہر واقعہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کمیشن برائے وقارِ خواتین ایسے تمام مقدمات کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا.
