Monday, June 29, 2026

Dangerous Dogs

 خاموش قاتل دروازے پر

خامہ بگوش

ایم عتیق سلیمانی



ہر سال پاکستان میں اندازاً 2000 سے زائد افراد ریبیز کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے 99% اموات روکی جا سکتی ہیں۔

ایک چھوٹا سا کاٹا، 20 منٹ کی لاپرواہی، اور پھر موت یقینی ہوجاتی ہے۔ ریبیز کو ڈاکٹر خاموش قاتل کہتے ہیں کیونکہ علامات ظاہر ہو جائیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

ریبیز وائرس Rabies Virus متاثرہ جانور کے لعاب میں ہوتا ہے۔ جب کتا، بلی یا بندر کاٹتا ہے تو وائرس زخم سے جسم میں داخل ہو کر اعصاب یعنی Nerves کا راستہ پکڑ لیتا ہے۔یہ بہت آہستہ سفر کرتا ہے۔ دماغ تک پہنچنے میں 20 دن سے 3 ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ اس دوران مریض بالکل ٹھیک محسوس کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وائرس دماغ میں پہنچا، علامات شروع ہوتی ہیں بخار، پانی سے خوف، روشنی سے ڈر، اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے تو اس اسٹیج پر دنیا کی کوئی ویکسین، کوئی دوا کام نہیں کرتی۔ اسی لیے WHO ریبیز کو 100% Fatal once symptomatic کہتا ہے۔

پالتو کتا بھی اگر باہر آوارہ کتے سے لڑے تو وائرس لے سکتا ہے۔ زخم پر مرچ لگانا، دھاگہ باندھنا، یا پیر فقیر کے پاس جانا یہ 20 منٹ صابن سے دھونے سے زیادہ خطرناک ہیں۔

 لوگ سمجھتے ہیں ریبیز ویکسین پیٹ میں 14 ٹیکے لگتے ہیں لیکن اب بازو میں صرف 4 ٹیکے لگتے ہیں۔ دن 0، 3، 7 اور 14 پر۔ بالکل درد نہیں ہوتا۔

 پاکستان کے ہر بڑے سرکاری ہسپتال میں Anti-Rabies Vaccine ARV اور Immunoglobulin بالکل مفت ملتی ہے۔

ماہرین اور NIH اسلام آباد`کے مطابق ریبیز سے بچنے کا فارمولا بہت آسان ہے۔کاٹنے کے 5 منٹ کے اندر زخم کو بہتے صاف پانی اور عام صابن سے 20 منٹ تک رگڑ کر دھوئیں۔ یہ ایک قدم وائرس کا 80% بوجھ ختم کر دیتا ہے۔زخم دھونے کے فوراً بعد اسی دن قریبی سرکاری ہسپتال کے Anti-Rabies Center جائیں۔ ویکسین کا پہلا ٹیکہ 24 گھنٹے کے اندر لگنا سب سے ضروری ہے۔ 4 ٹیکوں کا کورس بیچ میں مت چھوڑیں۔ ایک ٹیکہ بھی مس ہوا تو تحفظ کمزور ہو جائے گا۔یاد رکھیں ریبیز کا علاج نہیں، صرف بچاؤ ہے اور بچاؤ صرف آپ کے ہاتھ میں ہے۔

No comments:

Post a Comment

Dangerous Dogs

 خاموش قاتل دروازے پر خامہ بگوش ایم عتیق سلیمانی ہر سال پاکستان میں اندازاً 2000 سے زائد افراد ریبیز کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لیک...