Friday, July 10, 2026

Bikes Is Dangerous

 کم عمر بائیکرز اور ہماری مجرمانہ خاموشی


خامہ بگوش

ایم عتیق سلیمانی 

Sulemaniatiq572@gmail.com 



آئے روز ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر بارود کی طرح پھٹتی موٹر سائیکلوں کی آوازیں سنتے ہیں۔ ایک بارہ چودہ سالہ بچہ جس ہوا سے باتیں کرتا ہوا ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے اور ہم صرف سر ہلا کر رہ جاتے ہیں۔ پھر اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے، چیخیں ابھرتی ہیں، اور چند لمحے پہلے اپنی ماؤں کی گود کے پالے وہ معصوم وجود سڑک کے تپتے ہوئے اسفالٹ پر خون میں لت پت تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی کہانی نہیں، یہ ہمارے اس معاشرے کا وہ بھیانک سچ ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں اور اگلا لمحہ آتے ہی بھول جاتے ہیں۔

سڑکوں پر دوڑتی یہ موٹر سائیکلیں اب سفر کی سہولت نہیں رہیں، یہ ہمارے بچوں کے لیے ناچتی ہوئی موت بن چکی ہیں۔ آخر کس نے ان معصوموں کے ہاتھ میں یہ خونی ہتھیار تھمایا ہے؟ جواب بہت سادہ اور تلخ ہے خود ان کے والدین نے۔ جب ایک باپ اپنے تیرہ سالہ بیٹے کو صرف اس لیے بائیک کی چابی دے دیتا ہے کہ وہ بازار سے دہی لے آئے یا اپنے دوستوں کے ساتھ گھوم پھر لے، تو وہ دراصل اپنے سگے بچے کو پیار نہیں دے رہا ہوتا بلکہ اس کی موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہوتا ہے۔ یہ کیسی محبت ہے جو اولاد کو قبر کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے؟ یہ کیسا فخر ہے کہ میرا بیٹا اب بڑا ہو گیا ہے اور بائیک چلا لیتا ہے؟ خدا کے لیے جاگیے، جب اسی بچے کا لاشہ گھر کی دہلیز پر پہنچتا ہے تو وہ سارا فخر وہ ساری لاڈ پیار عمر بھر کے ایسے کرب میں بدل جاتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔

ادارہ شماریات پاکستان اور ریسکیو اداروں کے ہولناک اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ہونے والے ستر فیصد سے زیادہ حادثات میں موٹر سائیکلیں ملوث ہوتی ہیں اور ان میں مرنے والے سب سے زیادہ چودہ سے بائیس سال کے کڑیل جوان ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ پاکستان میں سڑکوں کے حادثات اب وبا کی طرح ہمارے نوجوانوں کو نگل رہے ہیں لیکن ہمارا شعور ہے کہ جاگنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ گلیوں میں ون ویلنگ کا خونی کھیل ہو، تیز رفتاری کی لہر ہو، یا کان کے ساتھ موبائل فون لگا کر ون وے کی خلاف ورزی کرنا ہو، ہم نے سڑکوں کو جنگل بنا دیا ہے جہاں کوئی قانون نہیں ہے اور نہ ہی انسانی جان کی قدر ہے۔

یہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی برابر کے مجرم ہیں۔ ٹریفک پولیس کا کام صرف چالان کی کتابیں بھرنا اور چوراہوں پر کھڑے ہو کر تماشہ دیکھنا رہ گیا ہے۔ جب تک کم عمر ڈرائیورز کے خلاف ایسی سخت مہم نہیں چلائی جائے گی جہاں سزا بچے کو نہیں بلکہ اس کے باپ کو ملے، تب تک یہ خونی رقص بند نہیں ہو سکتا۔ قانون کو اب اندھا نہیں بلکہ بیدار ہونا پڑے گا۔ 

یاد رکھیے، اپنے بچے کی ضد کے آگے جھکنے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ آپ کی سختی پر چند دن رو لے، ناراض ہو جائے یا کھانا نہ کھائے۔ اس کا چند دن کا یہ روٹھنا اس ابدی خاموشی سے ہزار گنا بہتر ہے جو اس کے چلے جانے کے بعد آپ کے پورے گھر کے آنگن پر چھا جائے گی۔ ہسپتالوں کے وارڈز ان نوجوانوں سے بھرے پڑے ہیں جن کی ٹانگیں اور بازو کٹ چکے ہیں اور اب عمر بھر کے لیے اپنے ہی بوڑھے ماں باپ پر بوجھ بن چکے ہیں۔ کیا ہم اپنے جگر کے گوشوں کا یہ انجام دیکھنا چاہتے ہیں؟

اس خونی ناسور کا علاج کسی سرکاری نوٹیفکیشن سے نہیں، ہمارے اپنے گھروں سے ہوگا۔ جب تک ہم خود اپنے بچوں کو بائیک کی چابی دینے سے انکار نہیں کریں گے، جب تک ہم اپنے محلوں میں ایسے اوباش لڑکوں کو ٹوکنا شروع نہیں کریں گے، تب تک مائیں اپنے لختِ جگر کھوتی رہیں گی اور یہ سڑکیں یوں ہی معصوموں کے خون سے رنگین ہوتی رہیں گی۔ پچھتاوے کے آنسو بہانے سے ہزار گنا بہتر ہے کہ آج ہی سختی کر لی جائے، کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد صرف ماتم رہ جاتا ہے اور ماتم کبھی زندگی واپس نہیں لاتا۔

No comments:

Post a Comment

Bikes Is Dangerous

 کم عمر بائیکرز اور ہماری مجرمانہ خاموشی خامہ بگوش ایم عتیق سلیمانی  Sulemaniatiq572@gmail.com  آئے روز ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر بارود کی...