ہزارہ کے مسافروں کے ساتھ کراچی میں امتیازی سلوک اور سیکیورٹی کا سنگین مسئلہ
ایم عتیق سلیمانی
Sulemaniatiq572@gmail.com
کیا آپ کو معلوم ہے کہ مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور ہزارہ کے دیگر علاقوں سے آنے والے مسافروں کو کراچی پہنچتے ہی سڑک پر کیوں اتار دیا جاتا ہے؟
ہزارہ روٹ کی تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیاں جب کراچی آتی ہیں تو انہیں شہر کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ماضی میں یہ گاڑیاں بلدیہ ٹاؤن، پٹیل پاڑا، بنارس، لانڈھی اور دیگر علاقوں میں قائم اپنی باقاعدہ برانچوں اور اڈوں تک جایا کرتی تھیں، جس سے مسافر باآسانی اپنی منزل پر پہنچ جاتے تھے۔ لیکن اب صورتحال انتہائی افسوسناک ہو چکی ہے۔ اب سہراب گوٹھ پر باقاعدہ ٹرمینل موجود ہے، لیکن یہ گاڑیاں وہاں بھی نہیں جاتیں بلکہ پنجاب اڈے سے باہر، کھلی سڑک پر ہی سواریاں پھینک کر چلتی بنتی ہیں۔ جب ڈرائیورز یا عملے سے پوچھا جائے تو ان کا ایک ہی گھسا پٹا جواب ہوتا ہے کہ ہیں شہر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک کے دوسرے شہروں سے آنے والی گاڑیاں شہر کے اندر یا اپنے مخصوص ٹرمینلز تک آ سکتی ہیں تو صرف ہزارہ کی گاڑیوں کے ساتھ ہی یہ امتیازی سلوک کیوں؟
حکومتی اور عدالتی احکامات کے تحت کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک اور بین الصوبائی بسوں کے داخلے پر پابندی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مسافروں کو لاوارث چھوڑ دیا جائے۔ یہ ٹرانسپورٹ مافیا کی ملی بھگت اور مخصوص روٹس کی سیٹنگ کا نتیجہ ہے یا پھر بس کمپنیاں شہر کے اندر کے ٹریفک جام وقت کے ضیاع اور چالان سے بچنے کے لیے خود ہی مسافروں کو شاہراہ کے کنارے اتار دیتی ہیں۔
کراچی سے ناواقف مسافروں، فیملیز، خواتین اور بچوں کو رات گئے یا صبح سویرے سڑک کے کنارے لاوارث چھوڑ دینے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
بھاری سامان اور نقدی کے ساتھ کھلی سڑک پر کھڑے مسافر اسنیچرز (ڈاکوؤں) کا آسان ہدف بنتے ہیں۔نئے مسافروں کو کراچی کے راستوں اور حالات کا علم نہیں ہوتا جس کا فائدہ اٹھا کر نوسرباز اور جعل ساز انہیں لوٹ لیتے ہیں۔مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مقامی رکشہ،ٹیکسی اور بائکیا والے مسافروں سے شہر کے اندر جانے کے لیے دگنا تگنا کرایہ وصول کرتے ہیں۔اسکے علاوہ مسافروں کے استقبال کے لیئے آنے والے افراد سہراب گوٹھ پر انتظار کررہے ہوتے ہیں جبکہ بسیں پنجاب اڈے پر سواریاں اتار چکی ہوتی ہیں۔جہاں نا انتظار گاہ ہے نا سایہ نا واش روم کھلے آسمان تلے درجنوں افراد پریشان کھڑے ہوتے ہیں۔
ہزارہ کے مسافروں کو بھی دوسروں کی طرح عزت اور تحفظ کا حق حاصل ہے۔ انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے گزارش ہے کہ ہزارہ کی گاڑیوں کو بھی دیگر شہروں کی طرح یا تو شہر میں آنے کی اجازت دی جائے، یا پھر انہیں کم از کم سہراب گوٹھ کے اپنے محفوظ ٹرمینل کے اندر تک پہنچایا جائے تاکہ مسافر اور ان کا سامان نوسربازوں اور جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رہ سکیں۔ حکومتِ سندھ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو اس سنگین غفلت کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
پاکستان بھر سے آنے والی دیگر بس سروسز کے ٹرمینلز اب بھی کراچی شہر کے اندر موجود ہیں مگر ہزارہ والوں سے سوتیلی ماں والا سلوک برقرار ہے۔ ہزارہ کے کراچی میں موجود نمائندے سرکردہ شخصیات اور بس کمپنیوں کی انتظامیہ کو اس مسئلے کے حل کے لیئے فوری سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

No comments:
Post a Comment