رواں سال صوبے میں ڈینگی کنٹرول کرنے کے لئے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کا بروقت اقدام۔ وزیر اعلیٰ کی متعلقہ حکام کو رواں سال کے لئے ایک جامع اور قابل عمل ڈینگی ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو اس سلسلے میں مراسلہ ارسال۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ چند برسوں میں ڈینگی بخار صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اس کے مؤثر کنٹرول کے لیے تمام متعلقہ محکموں کی جانب سے پیشگی اور منظم اقدامات ناگزیر ہیں۔ڈینگی سیزن سے پہلے منظم اور مربوط اقدامات کے ذریعے ڈینگی کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے اس لئے آنے والے سیزن میں اس مسئلے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے ابھی سے تمام حفاظتی اقدامات کئے جائیں اور اس مقصد کے لئے فوری طور پر ڈینگی ایکشن پلان 2025 تیار کیا جائے گا۔مذکورہ ایکشن پلان میں تمام متعلقہ محکموں کی طرف سے اقدامات اور سرگرمیوں کا شیڈول تیار کیا جائے گا۔شیڈول مییں حفاظتی، ترویجی اور علاج معالجے سے متعلق اقدامات واضح طور پر درج ہوں گے مزید پلان میں پورے سال کی انسداد ڈینگی سرگرمیوں کا مہینہ وار فریم ورک مرتب کیا جائے گا۔
Wednesday, March 19, 2025
Sunday, March 16, 2025
Police Shoot A Killer
مانسہرہ پولیس کو قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری جیسے سنگین جرائم میں مطلوب خطرناک مجرم عدیل عرف کاکا ولد محمد فاروق سکنہ خاکی پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
مانسہرہ پولیس کے ترجمان کے مطابق عدیل عرف کاکا نے گزشتہ روز نشے کی حالت میں دھت ہو کر گاؤں ٹمبر کٹھہ میں ایک بے گناہ خاندان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ ایک خاتون سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ واردات کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا تھا۔ ڈی پی او مانسہرہ شفیع اللہ گنڈاپور نے قاتل کی فوری گرفتاری کے لیے ایس پی سٹی ریشم جہانگیر کی سربراہی میں ڈی ایس پی بفہ پکھل صداقت نثار، ایس ایچ او خاکی عاصم بخاری اور دیگر اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔
پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مارے، اور جب خفیہ اطلاع پر پولیس پارٹی نے گاؤں ترہیا میں کارروائی کی تو ملزم اور اس کے دو ساتھیوں نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے حق دفاع میں جوابی کارروائی کی، جس کے دوران ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے قبضے سے ایک لوڈڈ SMG برآمد ہوئی۔ پولیس نے فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا، جبکہ اس کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
ملزم عدیل عرف کاکا ایک خوفناک مجرم تھا، جس کے خلاف تھانہ خاکی میں متعدد مقدمات درج تھے، جن میں مقدمہ علت نمبر 162 مورخہ 15.03.025 جرم 302/324، مقدمہ علت نمبر 217 مورخہ 12.06.021 جرم 506/427، مقدمہ علت نمبر 163 مورخہ 05.04.024 جرم 9DCNSA، مقدمہ علت نمبر 115 مورخہ 06.04.019 جرم 15AA، مقدمہ علت نمبر 217 مورخہ 10.07.019 جرم 302/324، مقدمہ علت نمبر 292 مورخہ 06.07.023 جرم 381A، مقدمہ علت نمبر 83 مورخہ 23.02.024 جرم 9DCNSA، مقدمہ علت نمبر 410 مورخہ 14.11.011 جرم 324/109/34، مقدمہ علت نمبر 180 مورخہ 04.06.019 جرم 15AA/3/4FA، مقدمہ علت نمبر 170 مورخہ 16.04.023 جرم 392/324/34 اور مقدمہ علت نمبر 12 مورخہ 07.01.025 جرم 506-2 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تھانہ سٹی میں مقدمہ علت نمبر 1222 مورخہ 25.11.014 جرم 302/324 اور تھانہ صدر میں مقدمہ علت نمبر 634 مورخہ 04.11.022 جرم 15AA بھی اس کے خلاف درج تھے۔
عدیل عرف کاکا کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا اور وہ ایک عرصے سے قانون کی گرفت سے بچتا آ رہا تھا۔ پولیس کی اس بروقت کارروائی پر اہلِ علاقہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اسی طرح کے سخت اقدامات جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈی پی او مانسہرہ شفیع اللہ گنڈاپور نے اپنے بیان میں کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے، اور پولیس جوانمردی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی مجرم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
Saturday, March 15, 2025
Manshera Police Intensify Probe into Inappropriate Video Case Involving Schoolgirl
**Manshera Police Intensify Probe into Inappropriate Video Case Involving Schoolgirl**
*Thana Lasan Nawab, Manshera*
A special investigation team (SIT), led by District Police Officer (DPO) Manshera Shafiullah Gandapur, is conducting daily meetings to rigorously investigate the case of an inappropriate video involving a female high school student within the jurisdiction of Thana Lasan Nawab. Authorities have vowed to ensure stringent legal action against the accused.
The SIT comprises high-ranking officials, including SSP Investigation, SSP Oghi, DSP Kehal, a clinical psychologist, female police officers, technical branch experts, and other investigative specialists. The team is examining all angles of the case, leveraging forensic analysis and digital evidence. Recorded data has been forwarded to the Punjab Forensic Science Agency (PFSA) for further examination.
Collaborating with the Federal Investigation Agency (FIA) and prosecution authorities, police are pursuing a multi-agency approach to secure justice. The accused, after being presented in court, was granted a one-day physical remand for interrogation and has since been transferred to Manshera District Jail.
In a decisive move, the Deputy Commissioner of Manshera has formally directed the education department to initiate strict departmental proceedings against the suspect. DPO Gandapur emphasized, *“The accused will face the full force of the law. We are committed to ensuring justice for the victim and her family.”*
Authorities reaffirmed their zero-tolerance stance on crimes against women, urging the public to avoid speculation and cooperate with investigators.
Mansehra: Government teacher arrested for making immoral videos of female students, 91 videos recovered
**مانسہرہ: طالبات کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے والا سرکاری استاد گرفتار، 91 ویڈیوز برآمد**
خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں واقع تھانہ لساں نواب کے ایک سرکاری سکول کے استاد کو طالبات کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے اور انہیں بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے 32 جی بی کے ڈیٹا پر مشتمل 91 ویڈیوز دریافت ہوئی ہیں، جو سکول کے احاطے اور کلاس روموں میں بنائی گئی تھیں۔
### واقعے کی تفصیلات:
شکایات کے مطابق، ملزم نے دو سال قبل نویں اور دسویں جماعت کی کم عمر طالبات کی ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کیا۔ حال ہی میں ایک طالبہ کے بھائی کو فیس بک میسنجر پر ایک ویڈیو موصول ہوئی، جس کے بعد خاندان نے تھانہ لساں نواب میں مقدمہ درج کروایا۔ طالبہ کے بیان کے مطابق، استاد نے انہیں اور دیگر ساتھیوں کو ویڈیوز کے ذریعے دھمکیاں دے کر خاموش رہنے پر مجبور کیا۔
### پولیس کی کارروائی:
ڈسٹرکٹ پولیس افسر شفیع اللہ گنڈاپور کے مطابق، شکایت ملتے ہی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم نے تفتیش شروع کی اور ملزم کو حراست میں لے کر اس کے آلات سے ثبوت جمع کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ *"ملزم کو جلد ہی جیل بھیج دیا گیا ہے، جبکہ تمام ویڈیوز کو تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔"*
### ویڈیوز کا دورانیہ اور اثرات:
تفتیشی افسر شیراز تنولی نے بتایا کہ *"یہ ویڈیوز 2021ء کی ہیں، جب طالبات کم عمر تھیں۔ ملزم نے انہیں سوشل میڈیا پر لیک کرنے کی دھمکی دے کر خاموش کیا، مگر حالیہ شکایت کے بعد اس کے جرائم کا پردہ فاش ہوا۔"* پولیس نے ویڈیوز کو فوری طور پر سوشل میڈیا سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ مزید لیک ہونے سے روکنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔
### ملزم کا تعلیمی کردار اور کارروائی:
ضلعی تعلیمی افسر معروف خان کے مطابق، ملزم دو سال قبل تک سکول میں انگریزی اور ریاضی پڑھاتا تھا، جس کے بعد اسے تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ واقعے کے انکشاف پر محکمہ تعلیم نے فوری طور پر اسے معطل کرتے ہوئے داخلی کارروائی شروع کر دی ہے۔
### متاثرین کی رضامندی کا مسئلہ:
پولیس کے مطابق، اب تک صرف ایک خاندان نے ہی شکایت درج کی ہے، جبکہ دیگر متاثرہ طالبات یا ان کے گھر والوں نے رسمی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ تاہم، تفتیشی ٹیم نے ان سے رابطہ کر کے مقدمے کو مضبوط بنانے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔
فی الحال ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، جبکہ پولیس ثبوتوں کی بنیاد پر کیس کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں تعلیمی اداروں کے اندر طالبات کی حفاظت کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Friday, March 14, 2025
Fake Calls
فیک کالز
ایم عتیق سلیمانی
Sulemaniatiq572@gmail.com
عبداللہ(فرضی نام )اپنے گھر پر آرام سے بیٹھا ہوا تھا۔ اسے ایک لینڈ لائن نمبر سے کال موصول ہوئی کہ ہم (۔۔۔۔) حساس ادارے سے بات کر رہے ہیں اور ساتھ ہی عبداللہ کا نام بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی بتادیں۔اس نے کہ ہاں میں عبداللہ ہی بات کر رہا ہوں اسکو بتایا گیا کہ آپکے اکاؤنٹ کی ویریفکیشن کرنی ہے جس پر عبداللہ نے کہا کہ آپ کے دفتر آجاتا ہوں وہاں جو پوچھیں گے بتا دونگا۔اسکو کہا گیا کہ آپ گوگل سے نمبر چیک کرلیں یہ حساس ادارے() کا ہی نمبر ہے اس نے چیک کیا تو اسی ادارے کا نمبر دیکھائی دے رہا تھا پھر بھی اس نے کہا کہ میں آپکے دفتر آجاتا ہوں وہاں ہی بات چیت ہوگی جس پر اسکو کہ کہا گیا کہ آپکا کیس دوسرے حساس ادارے () کو ٹرانسفر کررہے ہیں اور فون بند ہوگیا۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد اسکو ایک اور لینڈ لائن نمبر سے کال موصول ہوئی اور اسی ادارے کا ریفرنس دیا گیا کہ فلاں حساس ادارے سے بات کررہے ہیں اور ساتھ اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی دہرا دیں۔ عبداللہ نے اس کو بھی کہا کہ آپکے دفتر آجاتا ہوں وہاں جو پوچھنا ہے پوچھ لیں فون پر کوئی تھوڑی ہی ویریفکیشن ہوتی ہے اسکو کہا گیا کہ آپ گوگل پر چیک کریں یہ نمبر اسی ادارے ک اہے اس نے پھر چیک کیا تو نمبر واقعی اسی ادارے کا تھا۔اسکے بعد اسکو کہا گیا کہ آپکو بینک سے کال کرواتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں اسکو بینک کے نمبر سے کال آئی کہ آپکے اکاؤنٹ کی ویریفکیشن کرنی ہے آپکو او ٹی پی ون ٹائم پاسورڈ بھیجا جارہا ہے ہمیں بتانا نہیں ہے صرف ڈائل کرنا ہے اب عبداللہ نے سوچا کہ یہ تو بینک کی کال ہے اسکو ویریفائی کر دیتا ہوں جیسے ہی او ٹی پی لگائی اسکے ساتھ ہی ٹرانزیکشن کا میسج آگیا کہ آپکے اکاؤنٹ سے ڈھائی لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے اسنے سر پکڑ لیا اور بینک کی طرف بھاگا جو اسکو پہلے کرنا چاہیے تھا۔ بینک پہنچ کر صورتحال سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بینک تو ایسی کوئی کال نہیں کرتا اور نا ہی آپکو کال کی گئی ہے۔ اسکے بعد اس نے قانونی کاروائی کے لیئے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا اب آگے کیا ہوگا کچھ کہہ نہیں سکتے۔ جہاں ٹیکنالوجی کے فائدے بڑھ رہے ہیں وہاں اسکے نقصانات بھی بہت ہیں۔ اس دور میں خود کو محفوظ رکھنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ ادارے اور بینک اس طرح فون پر ویریفکیشن نہیں کرتے۔ انہیں کچھ پوچھنا ہوا تو آپکو طلب کر کے پوچھیں گے اور نمبر کا شو ہونا اس دور میں تو عام سی بات ہے کہ کسی سافٹ ویئر سے کوئی بھی نمبر دیکھایا جارہا ہوگا۔ آن لائن ویریفکیشن، غلط ٹرانزیکشن ، لنکس پر کلک اور لاٹری، فیک ایپس سے بنا کام کے ڈالر کمانے ، پیسے انویسٹ کر کے ڈبل کرنے ، لنک پر کلک کر کے حکومتی امداد کے پیسے لینے اور بچے یا بھائی کو تھانہ صدر پولیس کی جانب سے گرفتار کر کے پیسوں کی ڈیمانڈ کرنے والی کالز سے بچیں۔ خود بھی محتاط رہیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔
Tuesday, March 11, 2025
Amazing Cave On The Earth
1991ء میں ایک کسان "ہو کھانہ" پر بارش کے دوران انوکھا انکشاف ہوا۔
شدید بارش کے دوران وہ پناہ کی تلاش میں تھا جب وہ ایک غیر معمولی جگہ پر پہنچا۔ یہ جگہ "ہان سان ڈونگ" کہلاتی ہے، جس کا مطلب ہے "پہاڑی دریا کا غار
ہان سان ڈونگ غار، جو دنیا کا سب سے بڑا قدرتی غار ہے، ویتنام کے فونگ نا-کی بانگ نیشنل پارک میں واقع ہے۔ یہ غار نہ صرف اپنی عظمت اور حجم کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ اپنے اندر چھپے حیرت انگیز مناظر کی بدولت بھی دنیا بھر میں سیاحوں اور محققین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
غار کی اہم تفصیلات:
1. حجم اور ساخت:
لمبائی: 5 کلومیٹر سے زیادہ
چوڑائی: 91.44 میٹر
اونچائی: 243.84 میٹر
یہ غار اتنا بڑا ہے کہ اس میں 68 بوئنگ 777 طیارے سما سکتے ہیں۔ اس کی اونچائی ایک 40 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔
2. موسمیاتی نظام:
ہان سان ڈونگ غار میں ایک منفرد موسمی نظام موجود ہے۔
اندرونِ غار میں بادل بنتے ہیں۔
غار کے مختلف حصے اپنے مخصوص درجہ حرارت اور نمی کے ساتھ ایک منفرد ماحول پیدا کرتے ہیں۔
3. دریا اور جنگلات:
غار کے اندر ایک زیرِ زمین دریا بہتا ہے جو اسے مزید دلکش بناتا ہے۔
غار کے کچھ حصے میں قدرتی جنگلات موجود ہیں، جہاں درخت، پودے اور دیگر نباتات اگتے ہیں۔
4. حیاتیاتی تنوع:
غار میں کئی نایاب اور انوکھے حیاتیات پائے جاتے ہیں۔ یہاں پودے اور جاندار ایسے ہیں جو غار کے منفرد ماحول میں پروان چڑھے ہیں۔
5. تاریخی پس منظر:
1991ء میں کسان ہو کھانہ نے یہ غار دریافت کیا۔
2009ء اور 2010ء میں ایک برطانوی ٹیم نے غار کا تفصیلی جائزہ لیا اور اسے دنیا کے سامنے پیش کیا۔
6. سیاحت:
ہان سان ڈونگ غار کو 2013ء میں عوام کے لیے کھولا گیا۔
یہ غار سیاحوں کے لیے ایک ایڈونچر کا مرکز ہے، لیکن اس کی حفاظت کے پیش نظر، روزانہ صرف محدود تعداد میں سیاحوں کو یہاں آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
"جنتِ عدن" کی خصوصیت:
ہان سان ڈونگ کو "جنتِ عدن" کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ یہاں کے مناظر ایسے لگتے ہیں جیسے وہ کسی دوسرے سیارے سے ہوں۔
سرسبز درخت،
چمکتے ہوئے پانی کے چشمے،
اور غار کی دیواروں پر قدرتی روشنی کے انعکاسات اسے ایک خیالی دنیا کا حصہ بناتے ہیں۔
اہمیت:
ہان سان ڈونگ غار نہ صرف ایک قدرتی عجوبہ ہے بلکہ یہ انسان کے لیے زمین کی پوشیدہ خوبصورتی کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہ غار جیولوجی، ماحولیاتی سائنس، اور سیاحت کے میدان میں اہم تحقیقاتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
Sunday, March 9, 2025
نادرا ایک غیر معمولی جدت، عزم اور استقامت کی داستان اور
نادرا – ایک غیر معمولی جدت، عزم اور استقامت کی داستان اور اسکے قیام میں افواج پاکستان کا کردار
سن 1997 میں، پاکستان برسوں سے قومی مردم شماری کے انعقاد میں مشکلات کا شکار تھا۔ بار بار تاخیر کے سبب ہر انتظامی یونٹ کے پاس اپنے الگ تخمینے تھے، جس کی وجہ سے قومی سطح پر درست آبادی کے اعداد و شمار حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ داخلی اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کو بھی اس حوالے سے قائل کرنا آسان نہ تھا۔
اس پیچیدہ صورتحال میں، اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کی مسلح افواج کو قومی مردم شماری کے انعقاد کے لیے طلب کیا۔ ہیڈکوارٹرز آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، اور میجر جنرل زاہد احسان کو اس منصوبے کا نگران مقرر کیا گیا۔ بنیادی ہدف تو مردم شماری کا انعقاد تھا، لیکن میجر جنرل زاہد نے اس موقع کو ایک بڑی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھا—ایسی شناختی نظام کی بنیاد رکھنے کا موقع جو ہر شہری کو نہ صرف شمار کرے بلکہ اسے ایک منظم ڈیجیٹل شناختی نظام میں شامل کرے۔
اسی سوچ کے تحت، ایک مرکزی، محفوظ اور جدید ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا خاکہ تیار کیا گیا۔ اس انقلابی تصور کی بنیاد رکھنے والی ٹیم میں بریگیڈیئر مدثر اصغر خان (سگنلز)، کرنل سید تلمیذ عباس (ایئر ڈیفنس)، اور میجر سہیل اقبال (انجینئرز) شامل تھے، جبکہ بریگیڈیئر شاہد بہرام (آرمی سروسز کور)، کرنل نعیم احمد خان (ایئر ڈیفنس)، اور میجر اجمل کاہلوں (بلوچ رجمنٹ) نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ حکومتِ پاکستان نے اس منصوبے کو منظور کیا، اور مارچ 1998 میں نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن (NDO) کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مردم شماری جیسے بڑے منصوبے کے لیے 60 ملین ڈیٹا فارم پرنٹ کیے گئے، جو ملک کے ہر گھر تک پہنچائے گئے۔ اس نادر موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے، فیصلہ کیا گیا کہ مردم شماری کے دوران نہ صرف آبادی کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے، بلکہ ہر شہری کی جامع معلومات بھی حاصل کی جائیں۔ مردم شماری ٹیم نے پورے ملک کے گھروں کے دو دورے کیے؛ پہلے مرحلے میں فارم دیے گئے اور دوسرے مرحلے میں انہیں واپس لیا گیا تاکہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہی نیشنل ڈیٹا فارم (NDFs) آج بھی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے درخواست فارم کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے قومی سطح پر ڈیجیٹل شناختی نظام کی بنیاد رکھی، اور اس جدت کے ساتھ پاکستان دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہو گیا جنہوں نے اس پیمانے پر ایسا اقدام کیا۔
محدود وسائل کے باوجود، اس منصوبے کو غیرمعمولی مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ پاکستان کی مسلح افواج، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS)، اسکول اساتذہ، اور سرکاری ملازمین کو ملک کے ہر علاقے تک بھیجا گیا، بشمول فاٹا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان۔ ڈیٹا جمع ہونے کے بعد، اگلا چیلنج اس کی ڈیجیٹائزیشن تھا، کیونکہ اس وقت ایسے ہائی اسپیڈ اسکینرز موجود نہیں تھے جو اتنے بڑے ڈیٹا کو فوری طور پر پروسیس کر سکتے۔
مزید برآں، اردو زبان کمپیوٹر پر مکمل طور پر معاونت یافتہ نہیں تھی، اس لیے نیشنل لینگویج اتھارٹی کے تعاون سے اردو کی ڈیجیٹل پروسیسنگ کے لیے معیاری نظام وضع کیا گیا۔ 20,000 نوجوان پاکستانیوں کو خصوصی تربیت دے کر اردو ڈیٹا انٹری کے لیے تعینات کیا گیا۔ ان کی انتھک محنت کی بدولت پاکستان کا پہلا قومی شہری ڈیٹا بیس وجود میں آیا۔
سال 2000 کے اوائل میں جنرل پرویز مشرف کو اس منصوبے کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس منصوبے کی طویل مدتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہوں نے آبادی کی مکمل دستاویز بندی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا حکم دیا۔ ان کی ہدایت پر، نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن (NDO) کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف رجسٹریشن (DGR) کے ساتھ ضم کر کے 10 مارچ 2000 کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کا قیام عمل میں آیا۔ میجر جنرل زاہد احسان کو اس کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
ابتدائی دنوں میں، نادرا کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ چونکہ کوئی مخصوص بجٹ مختص نہیں کیا گیا تھا، اس لیے مالیاتی خود مختاری حاصل کرنے کے لیے غیر روایتی طریقے اپنانے کی ضرورت پیش آئی۔ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کو ڈیجیٹل ووٹر لسٹ درکار تھی۔ نادرا نے اپنی ڈیٹا کلیکشن کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر پاکستان کی پہلی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرست تیار کی۔
یہ حکمت عملی نہ صرف قومی انتخابات کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل حل فراہم کرنے میں کامیاب رہی بلکہ نادرا کی مالی خود مختاری کو بھی یقینی بنایا۔ الیکشن کمیشن نے نادرا کو 500 ملین روپے ادا کیے، جسے نادرا نے مزید 3.5 بلین روپے کے تجارتی قرضے کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ یہ قرض جلد ہی واپس کر دیا گیا، اور نادرا کا خود کفالت کا ماڈل قائم ہوا، جو آج بھی اس کا طرۂ امتیاز ہے۔
نادرا کے قیام کے بعد، پاکستان نے 2001 میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) متعارف کرایا، جو کہ ایک محفوظ، جدید اور ٹیکنالوجی سے آراستہ شناختی دستاویز بن گیا۔ وقت کے ساتھ، یہ نظام پاسپورٹ کے اجرا، بارڈر کنٹرول، اور سماجی تحفظ کے منصوبوں میں مدد فراہم کرنے لگا۔ CNIC کی بدولت “Know Your Customer” (KYC) جیسے مالیاتی لین دین، سماجی بہبود کے پروگراموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خدمات کی راہ ہموار ہوئی۔
نادرا کی کامیابی میں پاکستان فوج کے ان افسران کا لازوال کردار ہے جنھوں نے اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر اس کی داغ بیل ڈالی اور ساتھ ہی ساتھ ان نوجوانوں کو تربیت دی جنہوں نے ابتدائی دنوں میں ایک قومی مقصد کے تحت نادرا شمولیت اختیار کی اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔
اگرچہ نادرا کے سفر میں کئی چیلنجز آئے، مگر نتیجہ ایک غیر معمولی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ آج، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ایک جدید اور مکمل ڈیجیٹل شناختی نظام موجود ہے، جو حکمرانی، اقتصادی منصوبہ بندی اور سماجی تحفظ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
یہ ہے نادرا کی کہانی — ایک ایسی جدت، استقامت اور عزم کی داستان جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی، اور آج یہ قومی شناختی نظام کی بنیاد بن چکی ہے۔ملکی دفاع اور بقا میں سر گرم عمل پاکستان فوج کا نادرا کی بنیاد اور ارتقا میں کلیدی کردار ہے
Bikes Is Dangerous
کم عمر بائیکرز اور ہماری مجرمانہ خاموشی خامہ بگوش ایم عتیق سلیمانی Sulemaniatiq572@gmail.com آئے روز ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر بارود کی...
-
ہزارہ کے مسافروں کے ساتھ کراچی میں امتیازی سلوک اور سیکیورٹی کا سنگین مسئلہ ایم عتیق سلیمانی Sulemaniatiq572@gmail.com کیا آپ کو معلوم ہے ...
-
USA Celebrates 250 Years of Independence in 2026 | America250 Events & History The United States will celebrate 250 years of independenc...
-
AI Tools & Automation in 2025 — Best AI Tools, AI Productivity Apps & Workflow Automation ...
-
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کا کردار صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں، بلکہ ایک نظریاتی تحریک، عوامی مزاحمت اور اقتدار ...
-
*Revolutionizing Lives: The Transformative Power of Artificial Intelligence* As we navigate the complexities of the digital age, artificial ...














