Friday, March 14, 2025

Fake Calls

 فیک کالز 


ایم عتیق سلیمانی

Sulemaniatiq572@gmail.com 



عبداللہ(فرضی نام )اپنے گھر پر آرام سے بیٹھا ہوا تھا۔ اسے ایک لینڈ لائن نمبر سے کال موصول ہوئی کہ ہم (۔۔۔۔) حساس ادارے سے بات کر رہے ہیں اور ساتھ ہی عبداللہ کا نام بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی بتادیں۔اس نے کہ ہاں میں عبداللہ ہی بات کر رہا ہوں اسکو بتایا گیا کہ آپکے اکاؤنٹ کی ویریفکیشن کرنی ہے جس پر عبداللہ نے کہا کہ آپ کے دفتر آجاتا ہوں وہاں جو پوچھیں گے بتا دونگا۔اسکو کہا گیا کہ آپ گوگل سے نمبر چیک کرلیں یہ حساس ادارے() کا ہی نمبر ہے اس نے چیک کیا تو اسی ادارے کا نمبر دیکھائی دے رہا تھا پھر بھی اس نے کہا کہ میں آپکے دفتر آجاتا ہوں وہاں ہی بات چیت ہوگی جس پر اسکو کہ کہا گیا کہ آپکا کیس دوسرے حساس ادارے () کو ٹرانسفر کررہے ہیں اور فون بند ہوگیا۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد اسکو ایک اور لینڈ لائن نمبر سے کال موصول ہوئی اور اسی ادارے کا ریفرنس دیا گیا کہ فلاں حساس ادارے سے بات کررہے ہیں اور ساتھ اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی دہرا دیں۔ عبداللہ نے اس کو بھی کہا کہ آپکے دفتر آجاتا ہوں وہاں جو پوچھنا ہے پوچھ لیں فون پر کوئی تھوڑی ہی ویریفکیشن ہوتی ہے اسکو کہا گیا کہ آپ گوگل پر چیک کریں یہ نمبر اسی ادارے ک اہے اس نے پھر چیک کیا تو نمبر واقعی اسی ادارے کا تھا۔اسکے بعد اسکو کہا گیا کہ آپکو بینک سے کال کرواتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں اسکو بینک کے نمبر سے کال آئی کہ آپکے اکاؤنٹ کی ویریفکیشن کرنی ہے آپکو او ٹی پی ون ٹائم پاسورڈ بھیجا جارہا ہے ہمیں بتانا نہیں ہے صرف ڈائل کرنا ہے اب عبداللہ نے سوچا کہ یہ تو بینک کی کال ہے اسکو ویریفائی کر دیتا ہوں جیسے ہی او ٹی پی لگائی اسکے ساتھ ہی ٹرانزیکشن کا میسج آگیا کہ آپکے اکاؤنٹ سے ڈھائی لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے اسنے سر پکڑ لیا اور بینک کی طرف بھاگا جو اسکو پہلے کرنا چاہیے تھا۔ بینک پہنچ کر صورتحال سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بینک تو ایسی کوئی کال نہیں کرتا اور نا ہی آپکو کال کی گئی ہے۔ اسکے بعد اس نے قانونی کاروائی کے لیئے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا اب آگے کیا ہوگا کچھ کہہ نہیں سکتے۔ جہاں ٹیکنالوجی کے فائدے بڑھ رہے ہیں وہاں اسکے نقصانات بھی بہت ہیں۔ اس دور میں خود کو محفوظ رکھنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ ادارے اور بینک اس طرح فون پر ویریفکیشن نہیں کرتے۔ انہیں کچھ پوچھنا ہوا تو آپکو طلب کر کے پوچھیں گے اور نمبر کا شو ہونا اس دور میں تو عام سی بات ہے کہ کسی سافٹ ویئر سے کوئی بھی نمبر دیکھایا جارہا ہوگا۔ آن لائن ویریفکیشن، غلط ٹرانزیکشن ، لنکس پر کلک اور لاٹری، فیک ایپس سے بنا کام کے ڈالر کمانے ، پیسے انویسٹ کر کے ڈبل کرنے ، لنک پر کلک کر کے حکومتی امداد کے پیسے لینے اور بچے یا بھائی کو تھانہ صدر پولیس کی جانب سے گرفتار کر کے پیسوں کی ڈیمانڈ کرنے والی کالز سے بچیں۔ خود بھی محتاط رہیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔

Tuesday, March 11, 2025

Amazing Cave On The Earth

 1991ء میں ایک کسان "ہو کھانہ" پر بارش کے دوران انوکھا انکشاف ہوا۔

شدید بارش کے دوران وہ پناہ کی تلاش میں تھا جب وہ ایک غیر معمولی جگہ پر پہنچا۔ یہ جگہ "ہان سان ڈونگ" کہلاتی ہے، جس کا مطلب ہے "پہاڑی دریا کا غار


ہان سان ڈونگ غار، جو دنیا کا سب سے بڑا قدرتی غار ہے، ویتنام کے فونگ نا-کی بانگ نیشنل پارک میں واقع ہے۔ یہ غار نہ صرف اپنی عظمت اور حجم کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ اپنے اندر چھپے حیرت انگیز مناظر کی بدولت بھی دنیا بھر میں سیاحوں اور محققین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔


غار کی اہم تفصیلات:


1. حجم اور ساخت:


لمبائی: 5 کلومیٹر سے زیادہ


چوڑائی: 91.44 میٹر


اونچائی: 243.84 میٹر


یہ غار اتنا بڑا ہے کہ اس میں 68 بوئنگ 777 طیارے سما سکتے ہیں۔ اس کی اونچائی ایک 40 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔


2. موسمیاتی نظام:

ہان سان ڈونگ غار میں ایک منفرد موسمی نظام موجود ہے۔


اندرونِ غار میں بادل بنتے ہیں۔


غار کے مختلف حصے اپنے مخصوص درجہ حرارت اور نمی کے ساتھ ایک منفرد ماحول پیدا کرتے ہیں۔


3. دریا اور جنگلات:


غار کے اندر ایک زیرِ زمین دریا بہتا ہے جو اسے مزید دلکش بناتا ہے۔


غار کے کچھ حصے میں قدرتی جنگلات موجود ہیں، جہاں درخت، پودے اور دیگر نباتات اگتے ہیں۔


4. حیاتیاتی تنوع:

غار میں کئی نایاب اور انوکھے حیاتیات پائے جاتے ہیں۔ یہاں پودے اور جاندار ایسے ہیں جو غار کے منفرد ماحول میں پروان چڑھے ہیں۔


5. تاریخی پس منظر:


1991ء میں کسان ہو کھانہ نے یہ غار دریافت کیا۔


2009ء اور 2010ء میں ایک برطانوی ٹیم نے غار کا تفصیلی جائزہ لیا اور اسے دنیا کے سامنے پیش کیا۔


6. سیاحت:


ہان سان ڈونگ غار کو 2013ء میں عوام کے لیے کھولا گیا۔


یہ غار سیاحوں کے لیے ایک ایڈونچر کا مرکز ہے، لیکن اس کی حفاظت کے پیش نظر، روزانہ صرف محدود تعداد میں سیاحوں کو یہاں آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

"جنتِ عدن" کی خصوصیت:


ہان سان ڈونگ کو "جنتِ عدن" کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ یہاں کے مناظر ایسے لگتے ہیں جیسے وہ کسی دوسرے سیارے سے ہوں۔

سرسبز درخت،











چمکتے ہوئے پانی کے چشمے،


اور غار کی دیواروں پر قدرتی روشنی کے انعکاسات اسے ایک خیالی دنیا کا حصہ بناتے ہیں۔


اہمیت:


ہان سان ڈونگ غار نہ صرف ایک قدرتی عجوبہ ہے بلکہ یہ انسان کے لیے زمین کی پوشیدہ خوبصورتی کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہ غار جیولوجی، ماحولیاتی سائنس، اور سیاحت کے میدان میں اہم تحقیقاتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

Sunday, March 9, 2025

نادرا ایک غیر معمولی جدت، عزم اور استقامت کی داستان اور

 نادرا – ایک غیر معمولی جدت، عزم اور استقامت کی داستان اور اسکے قیام میں افواج پاکستان کا کردار


سن 1997 میں، پاکستان برسوں سے قومی مردم شماری کے انعقاد میں مشکلات کا شکار تھا۔ بار بار تاخیر کے سبب ہر انتظامی یونٹ کے پاس اپنے الگ تخمینے تھے، جس کی وجہ سے قومی سطح پر درست آبادی کے اعداد و شمار حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ داخلی اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کو بھی اس حوالے سے قائل کرنا آسان نہ تھا۔



اس پیچیدہ صورتحال میں، اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کی مسلح افواج کو قومی مردم شماری کے انعقاد کے لیے طلب کیا۔ ہیڈکوارٹرز آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، اور میجر جنرل زاہد احسان کو اس منصوبے کا نگران مقرر کیا گیا۔ بنیادی ہدف تو مردم شماری کا انعقاد تھا، لیکن میجر جنرل زاہد نے اس موقع کو ایک بڑی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھا—ایسی شناختی نظام کی بنیاد رکھنے کا موقع جو ہر شہری کو نہ صرف شمار کرے بلکہ اسے ایک منظم ڈیجیٹل شناختی نظام میں شامل کرے۔


اسی سوچ کے تحت، ایک مرکزی، محفوظ اور جدید ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا خاکہ تیار کیا گیا۔ اس انقلابی تصور کی بنیاد رکھنے والی ٹیم میں بریگیڈیئر مدثر اصغر خان (سگنلز)، کرنل سید تلمیذ عباس (ایئر ڈیفنس)، اور میجر سہیل اقبال (انجینئرز) شامل تھے، جبکہ بریگیڈیئر شاہد بہرام (آرمی سروسز کور)، کرنل نعیم احمد خان (ایئر ڈیفنس)، اور میجر اجمل کاہلوں (بلوچ رجمنٹ) نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ حکومتِ پاکستان نے اس منصوبے کو منظور کیا، اور مارچ 1998 میں نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن (NDO) کا قیام عمل میں لایا گیا۔


مردم شماری جیسے بڑے منصوبے کے لیے 60 ملین ڈیٹا فارم پرنٹ کیے گئے، جو ملک کے ہر گھر تک پہنچائے گئے۔ اس نادر موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے، فیصلہ کیا گیا کہ مردم شماری کے دوران نہ صرف آبادی کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے، بلکہ ہر شہری کی جامع معلومات بھی حاصل کی جائیں۔ مردم شماری ٹیم نے پورے ملک کے گھروں کے دو دورے کیے؛ پہلے مرحلے میں فارم دیے گئے اور دوسرے مرحلے میں انہیں واپس لیا گیا تاکہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔


یہی نیشنل ڈیٹا فارم (NDFs) آج بھی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے درخواست فارم کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے قومی سطح پر ڈیجیٹل شناختی نظام کی بنیاد رکھی، اور اس جدت کے ساتھ پاکستان دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہو گیا جنہوں نے اس پیمانے پر ایسا اقدام کیا۔


محدود وسائل کے باوجود، اس منصوبے کو غیرمعمولی مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ پاکستان کی مسلح افواج، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS)، اسکول اساتذہ، اور سرکاری ملازمین کو ملک کے ہر علاقے تک بھیجا گیا، بشمول فاٹا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان۔ ڈیٹا جمع ہونے کے بعد، اگلا چیلنج اس کی ڈیجیٹائزیشن تھا، کیونکہ اس وقت ایسے ہائی اسپیڈ اسکینرز موجود نہیں تھے جو اتنے بڑے ڈیٹا کو فوری طور پر پروسیس کر سکتے۔


مزید برآں، اردو زبان کمپیوٹر پر مکمل طور پر معاونت یافتہ نہیں تھی، اس لیے نیشنل لینگویج اتھارٹی کے تعاون سے اردو کی ڈیجیٹل پروسیسنگ کے لیے معیاری نظام وضع کیا گیا۔ 20,000 نوجوان پاکستانیوں کو خصوصی تربیت دے کر اردو ڈیٹا انٹری کے لیے تعینات کیا گیا۔ ان کی انتھک محنت کی بدولت پاکستان کا پہلا قومی شہری ڈیٹا بیس وجود میں آیا۔


سال 2000 کے اوائل میں جنرل پرویز مشرف کو اس منصوبے کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس منصوبے کی طویل مدتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہوں نے آبادی کی مکمل دستاویز بندی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا حکم دیا۔ ان کی ہدایت پر، نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن (NDO) کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف رجسٹریشن (DGR) کے ساتھ ضم کر کے 10 مارچ 2000 کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کا قیام عمل میں آیا۔ میجر جنرل زاہد احسان کو اس کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا۔


ابتدائی دنوں میں، نادرا کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ چونکہ کوئی مخصوص بجٹ مختص نہیں کیا گیا تھا، اس لیے مالیاتی خود مختاری حاصل کرنے کے لیے غیر روایتی طریقے اپنانے کی ضرورت پیش آئی۔ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کو ڈیجیٹل ووٹر لسٹ درکار تھی۔ نادرا نے اپنی ڈیٹا کلیکشن کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر پاکستان کی پہلی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرست تیار کی۔


یہ حکمت عملی نہ صرف قومی انتخابات کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل حل فراہم کرنے میں کامیاب رہی بلکہ نادرا کی مالی خود مختاری کو بھی یقینی بنایا۔ الیکشن کمیشن نے نادرا کو 500 ملین روپے ادا کیے، جسے نادرا نے مزید 3.5 بلین روپے کے تجارتی قرضے کے  حصول کے لیے استعمال کیا۔ یہ قرض جلد ہی واپس کر دیا گیا، اور نادرا کا خود کفالت کا ماڈل قائم ہوا، جو آج بھی اس کا طرۂ امتیاز ہے۔


نادرا کے قیام کے بعد، پاکستان نے 2001 میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) متعارف کرایا، جو کہ ایک محفوظ، جدید اور ٹیکنالوجی سے آراستہ شناختی دستاویز بن گیا۔ وقت کے ساتھ، یہ نظام پاسپورٹ کے اجرا، بارڈر کنٹرول، اور سماجی تحفظ کے منصوبوں میں مدد فراہم کرنے لگا۔ CNIC کی بدولت “Know Your Customer” (KYC) جیسے مالیاتی لین دین، سماجی بہبود کے پروگراموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خدمات کی راہ ہموار ہوئی۔


نادرا کی کامیابی میں  پاکستان فوج کے ان افسران کا لازوال کردار ہے جنھوں نے  اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر اس کی داغ بیل ڈالی  اور ساتھ ہی ساتھ ان  نوجوانوں کو تربیت دی  جنہوں نے ابتدائی دنوں میں ایک  قومی مقصد کے تحت  نادرا شمولیت اختیار کی اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔


اگرچہ نادرا کے سفر میں کئی چیلنجز آئے، مگر نتیجہ ایک غیر معمولی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ آج، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ایک جدید اور مکمل ڈیجیٹل شناختی نظام موجود ہے، جو حکمرانی، اقتصادی منصوبہ بندی اور سماجی تحفظ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔


یہ ہے نادرا کی کہانی — ایک ایسی جدت، استقامت اور عزم کی داستان جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی، اور آج یہ قومی شناختی نظام کی بنیاد بن چکی ہے۔ملکی دفاع اور بقا میں سر گرم عمل پاکستان فوج کا نادرا کی بنیاد اور ارتقا میں کلیدی کردار ہے

Saturday, March 8, 2025

The Transformative Power of Artificial Intelligence


*Revolutionizing Lives: The Transformative Power of Artificial Intelligence*



As we navigate the complexities of the digital age, artificial intelligence (AI) has emerged as a transformative force, revolutionizing numerous aspects of our lives. From healthcare and education to transportation and environmental sustainability, AI is being harnessed to drive positive change and improve the human experience.


The integration of AI in healthcare has led to significant advancements in diagnostic accuracy and patient outcomes. AI-powered diagnostic tools enable doctors to detect diseases more accurately and at an earlier stage, while AI-assisted robots perform complex surgeries with precision, reducing recovery time and improving patient outcomes. Additionally, AI-driven chatbots provide patients with personalized support and guidance, empowering them to take a more proactive role in managing their health.


In the realm of education, AI-driven adaptive learning systems personalize the learning experience, tailoring curricula to individual students' needs and abilities. AI-powered chatbots provide students with round-the-clock support, helping them to better understand complex concepts and overcome learning obstacles. Furthermore, AI-driven analytics enable educators to track student progress and identify areas where students may require additional support, allowing for more effective intervention and improved academic outcomes.


The transportation sector is also undergoing a significant transformation, courtesy of AI. Self-driving cars, powered by AI, are reducing the risk of accidents and improving traffic flow, while AI-powered traffic management systems optimize traffic light timings, reducing congestion and decreasing travel times. Moreover, AI-driven predictive analytics enable transportation planners to anticipate and prepare for potential disruptions, ensuring smoother and more efficient transportation systems.


AI is also playing a vital role in environmental sustainability, helping to monitor and mitigate the effects of climate change. AI-powered sensors track air and water quality, while AI-driven predictive analytics enable policymakers to develop more effective sustainability strategies. Furthermore, AI-driven systems optimize energy consumption and reduce waste, contributing to a more sustainable future.


In addition to its numerous benefits, AI is also driving economic growth by automating routine tasks, freeing up human workers to focus on higher-value tasks. AI-powered chatbots provide customer support, while AI-driven analytics enable businesses to make more informed decisions. Moreover, AI-driven systems optimize supply chains, reducing costs and improving efficiency.


The social impact of AI cannot be overstated. AI-powered prosthetic limbs are being developed to enhance the lives of individuals with disabilities, while AI-driven systems enable people with visual impairments to navigate the world more easily.


In conclusion, as AI continues to evolve and improve, its potential to drive positive change will only continue to grow. By embracing AI and exploring its many applications, we can create a brighter, more sustainable future for all.

عبادت میں یکسوئی نہایت ضروری ہے

 *عبادات میں یکسوئی نہایت ضروری ضروری ہے*


*ایم عتیق سلیمانی مانسہرہ ہزارہ*

Sulemaniatiq572@gmail.com 


وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَ مَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡيَا نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ۚ وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَةِ نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ؕ وَسَنَجۡزِى الشّٰكِرِيۡنَ ۞


ترجمہ:

اور کوئی مر نہیں سکتا بغیر حکم اللہ کے لکھا ہوا ہے ایک وقت مقرر اور جو کوئی چاہے گا بدلہ دنیا کا دیویں گے ہم اس کو دنیا ہی سے اور جو کوئی چاہے گا بدلہ آخرت کا اس میں سے دیویں گے ہم اس کو   اور ہم ثواب دینگے احسان ماننے والوں کو


القرآن - سورۃ نمبر 21 الأنبياء

آیت نمبر 19


وَلَهٗ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُوۡنَ‌ۚ ۞


ترجمہ:

اور اسی کا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں اور جو اس کے نزدیک رہتے ہیں سرکشی نہیں کرتے اس کی عبادت سے اور نہیں کرتے کاہلی


القرآن - سورۃ نمبر 51 الذاريات

آیت نمبر 56

وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ۞

ترجمہ:

اور میں نے جو بنائے جن اور آدمی سو اپنی بندگی کو




اللہ تبارک و تعالٰی نے انسان اور جنات کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ہے۔ 

عبادت کا حکم دیا ہے تو ہمیں رب کائنات کا حکم مان کر عبادت کرنی چاہیے۔ عصر حاضر میں عبادت کی طرف توجہ تو کچھ خاص نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اس میں سائنسی فائدے ہی ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں۔اس عبادت کا یہ فائدہ ہے روزے کا یہ سائنسی فائدہ ہے نماز کے یہ سائنسی فوائد ہیں۔ سائنسی فائدے ڈھونڈنے کے بجائے اللہ کے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔اس عبادت پر اجر و ثواب دینا اللہ کہ طرف سے الگ انعام ہے اور سائنسی فائدے بھی الگ انعام ہیں۔ہمیں چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالٰی کا حکم مانیں اور صدق دل سے اس کو پورا کریں۔ اس پر تبصرے اور نکتہ چینی کی بجائے یکسوئی سے اللہ کا حکم بجا لائیں۔

اسکے ساتھ ساتھ آجکل سوشل میڈیا پر بے تحاشہ من گھڑت اسلامی واقعات ، اور احادیث کا پھیلاؤ عام ہوتا جارہا ہے جس کی تصدیق آج تک نہیں ہوپائی ہے۔ لہذا تمام مسائل اور احکام کے متعلق ماہر علماء کرام سے رہنمائی لی جائے۔ اور متازعہ کو پھیلانے کی بجائے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالٰی ہمیں صیح معنوں میں صراط مستقیم پر چلنے اور اپنے مظبوطی سے قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Nadra Alerts ⚠️

 تناول(مانیٹرنگ ڈیسک )ملک بھر میں 70 لاکھ شہریوں کی فوتگی کا اندراج یونین کونسلز کے شہری رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (CRMS) میں موجود ہے، لیکن قریبی رشتہ داروں نے نادرا میں ان کے شناختی کارڈ کی منسوخی نہیں کرائی، جو کہ  ایک قانونی تقاضا ہے۔تفصیلات کے مطابق نادرا کی جانب سے  ایک تنبیہی پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ70 لاکھ شہریوں کی فوتگی کا اندراج یونین کونسلز کے شہری رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (CRMS) میں موجود ہے، لیکن قریبی رشتہ داروں نے نادرا میں ان کے شناختی کارڈ کی منسوخی نہیں کرائی یہ ایک قانونی تقاضا ہے جس کو پورا نہیں کیا جارہا جبکہ نادرا دستیاب موبائل نمبرز پر SMS بھی بھیج رہا ہے کہ مرحوم کے قریبی رشتہ دار  یعنی بیٹا/بیٹی، شریک حیات یا والدین میں سے کوئی ایک فوری طور پر کسی بھی نادرا مرکز سے بغیر کسی فیس کے  متوفی کا شناختی کارڈ منسوخ کرائیں۔مزید  بتایا گیا ہے کہ اگر یہ کارروائی نہ کی گئی تو متوفی کے قریبی رشتہ داروں یعنی بیٹا/بیٹی، شریک حیات یا والدین کو اپنی شناختی دستاویزات کی نادرا میں پروسیسنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اگر فوتگی کا اندراج غلط ہے تو متعلقہ یونین کونسل سیکرٹری سے ریکارڈ کی فوری تصحیح کروائیں۔


*NADRA Warns of Consequences for Not Canceling Deceased Persons' CNICs*

According to details, NADRA has issued a warning stating that the registration of 7 million deceased citizens is present in the Union Councils' Citizen Registration Management System (CRMS), but their close relatives have not canceled their Computerized National Identity Cards (CNICs) in NADRA, which is a legal requirement.

NADRA is also sending SMS messages to available mobile numbers stating that the close relatives of the deceased, including sons/daughters, spouses, or parents, should immediately cancel the deceased person's CNIC from any NADRA center without any fee.

It has been further stated that if this process is not carried out, the close relatives of the deceased may face difficulties in processing their identity documents in NADRA.

If the registration of death is incorrect, the concerned Union Council Secretary should be contacted for immediate correction of the record.

Irani Khajoor

تعارف:

زہدی کھجور ایران کی مشہور کھجوروں میں سے ایک ہے، جو اپنے سنہری یا ہلکے براؤن رنگ، سخت ساخت اور میٹھے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔ اسے خشک کھجوروں میں شمار کیا جاتا ہے اور عالمی سطح پر بڑی مقدار میں برآمد کی جاتی ہے۔



پیداواری علاقے:

یہ کھجور ایران کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں، خاص طور پر خوزستان، فارس، کرمان اور سیستان و بلوچستان میں پیدا ہوتی ہے۔

 غذائی اجزاء:


قدرتی شکر: گلوکوز اور فرکٹوز کی وافر مقدار

فائبر: نظامِ ہضم کو بہتر بنانے میں معاون

منرلز: آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم اور میگنیشیم

وٹامنز: وٹامن اے اور بی کمپلیکس


فوائد:


ہاضمے کو بہتر بناتی ہے

توانائی فراہم کرتی ہے

وزن کم کرنے میں مددگار

دل کی صحت کے لیے مفید

 استعمال:

روزمرہ خوراک میں بطور اسنیک

بیکری اور مٹھائی میں استعمال

مختلف کھانوں اور مشروبات میں شامل

یہ کھجور اپنی لمبی شیلف لائف اور غذائی فوائد کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہے۔

Bikes Is Dangerous

 کم عمر بائیکرز اور ہماری مجرمانہ خاموشی خامہ بگوش ایم عتیق سلیمانی  Sulemaniatiq572@gmail.com  آئے روز ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر بارود کی...