Saturday, August 2, 2025

Future Of Print Media

اخبارات کی اہمیت،درپیش مسائل اور آنے والا کل


سچ پوچھو تو آج کل اخبار چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ویسے تو لوگ کہتے ہیں کہ "اخبار مر گیا"، لیکن بات اتنی سادہ نہیں۔ پاکستان میں بھی اخبارات کا حال دگرگوں ہے، مگر پھر بھی ان کی ایک اپنی جگہ ہے۔ بات کرتے ہیں کہ مشکل کیا ہے؟ اہمیت کیا ہے، اور مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے۔

موبائل سب کچھ لے گیا:اب تو ہر کسی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، یا نیوز ایپس پر تو خبر پلک جھپکتے ہی پہنچ جاتی ہے۔ اخبار کو تو پرنٹ ہونے، پھر گلی گلی پہنچانے میں پورا دن لگ جاتا ہے۔ اس وقت تک تو خبر پرانی ہو چکی ہوتی ہے۔ اخبار چلانے کا سب سے بڑا سہارا اشتہارات تھے۔ اب وہ بھی گوگل اور فیس بک نے کھینچ لیے ہیں۔ جو اشتہار بچتے ہیں، وہ بھی بہت کم ہیں۔ اوپر سے کاغذ مہنگا ہو گیا ہے، پرنٹنگ مہنگی ہے، اخبار پہنچانے والوں کو تنخواہ دینی ہے۔ آمدنی کم، خرچہ زیادہ – حساب ہی نہیں بنتا۔
 نئی نسل کا تو اخبار پڑھنے کا شوق ہی کم ہو گیا ہے۔ وہ تو فون ہی کھولتے ہیں اور دنیا بھر کی خبریں دیکھ لیتے ہیں۔ انہیں کاغذی اخبار پلٹ کر پڑھنے میں وقت ضائع لگتا ہے۔ آن لائن تو ہر کوئی خبریں مفت میں پڑھنا چاہتا ہے۔ اخبارات اگر آن لائن پیسے مانگیں تو لوگ کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ مفت چلانے پر خرچہ کیسے نکلے؟ یہ الجھن بھی اپنی جگہ ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل چینلز کی بھرمار ہے۔ ہر طرف خبریں، ویڈیوز، پوسٹس ہیں۔ ایسے میں پرانے اخبار کا اپنا نام قائم رکھنا بہت مشکل کام ہے۔فون پر خبر تو فوراً مل جاتی ہے، مگر اکثر یہ سطریں ہوتی ہیں۔ اخبار (چاہے پرنٹ ہو یا اچھا ڈیجیٹل) وہ پوری کہانی بتاتا ہے۔ وہ تجزیہ کرتا ہے، پس منظر دیتا ہے، سمجھاتا ہے کہ واقعی معاملہ کیا ہے۔ یہ "کیوں" اور "کیسے" کا جواب دیتا ہے۔ آن لائن پر تو ہر کوئی کچھ بھی لکھ دیتا ہے۔ اخباروں پر (اچھے اخباروں پر) کچھ ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ خبر چھاپنے سے پہلے اس کی پڑتال کرتے ہیں، اسے درست کرتے ہیں۔ یہ تصدیق کا کام بہت اہم ہے۔
بڑے ٹی وی چینلز تو صرف بڑی خبریں دکھاتے ہیں۔ اخبار، خاص کر علاقائی یا مقامی زبانوں (جیسے اردو، سندھی، پشتو اور پنجابی) والے، آپ کے محلے، شہر، یا صوبے کی خبریں دیتے ہیں۔ یہاں کا پانی کا مسئلہ، سڑک کی مرمت، اسکول کا حال – یہ سب انہی میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ پاکستان میں اب بھی بہت سے بزرگ اور دیہات کے لوگ ہیں جنہیں انٹرنیٹ کا اتنا استعمال نہیں آتا، یا ان تک رسائی کم ہے۔ ان کے لیے کاغذی اخبار ہی خبروں اور معلومات کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
 اخبار پڑھتے وقت آپ پر سکون ہوتے ہیں۔ آپ ایک خبر یا مضمون پر ٹھہر کر سوچ سکتے ہیں۔ فون پر تو انگشتھنی نیچے کرتے ہی چلے جاتے ہیں، کچھ یاد نہیں رہتا۔
کاغذی اخبار مکمل ختم نہیں ہوگا، مگر شاید روزانہ کی بجائے ہفتے میں ایک دو بار خاص ایڈیشن نکلیں گے جن میں گہرے مضامین، تجزیے ہوں گے۔ باقی توجہ اچھی ویب سائٹ اور ایپ پر ہوگی اچھی، گہری تحقیق اور سچی خبریں دینے والے اخبار آن لائن پیسے مانگیں گے۔ جو لوگ معیاری معلومات چاہیں گے، وہ یہ پیسہ دینے کو تیار ہوں گے۔چھوٹے یا مقامی اخبار اپنے علاقے پر پوری توجہ دے کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جہاں بڑے میڈیا نہیں پہنچتے، وہاں ان کی خبریں بہت اہمیت رکھیں گی۔
 صرف خبر دینا کافی نہیں ہوگا۔ اخباروں کو پیچیدہ مسائل کو آسان بنانا ہوگا، گہری کھوج کرنی ہوگی، اور اعداد و شمار کو اچھے طریقے سے پیش کرنا ہوگا۔ صرف اشتہاروں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ اسپانسر شدہ مضامین (لیکن صاف صاف بتا کر)، خصوصی پروگرام کرنےجیسے نئے راستے آزمانے ہوں گے۔ اخبار والوں کو اب ویڈیو بنانا، سوشل میڈیا چلانا، ڈیٹا سمجھنا، اور اچھی طرح آن لائن لکھنا جیسے نئے ہنر سیکھنے ہوں گے۔
یہ کہنا کہ اخبار مر گیا، غلط ہوگا۔ ہاں، وہ اخبار جو ویسے ہی چل رہا تھا جیسے بیس سال پہلے چلتا تھا، اس کے لیے وقت بہت سخت ہے۔ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اصل چیز ہے "اخبار" کا مقصد: سچی، گہری اور ذمہ دارانہ معلومات پہنچانا۔ یہ مقصد آج بھی اُتنا ہی ضروری ہے، بلکہ جھوٹی خبروں کے اس دور میں شاید پہلے سے بھی زیادہ۔ پاکستانی اخبارات کو اپنی طاقت (مقامی زبان، گہری رپورٹنگ، عوامی رابطے) کو نئے دور کے ساتھ ملانا ہوگا۔ جو ایسا کر پائیں گے، وہی چل پڑیں گے۔ بات آخر یہی ہے کہ معیاری خبر اور سمجھدار تجزیہ چاہے کاغذ پر ہو یا اسکرین پر، اس کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔

Tuesday, July 8, 2025

KP to lose Rs100 billion due to FBR Shortfall

KP to lose Rs100 billion due to FBR Shortfall: Muzzammil Aslam KP Finance dept holds post-budget conference with KP-SPEED support Advisor to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Finance Muzzammil Aslam while addressing the Khyber Pakhtunkhwa Post-Budget Conference stated that the Federal Board of Revenue (FBR) has collected one thousand two hundred billion rupees less in revenue, which will result in Khyber Pakhtunkhwa receiving Rs. 100 billion less in federal transfers. 


He added that last year, Khyber Pakhtunkhwa transferred Rs. 150 billion into the Debt Management Fund, which will yield Rs. 17 billion in annual revenue. This revenue will be the highest of any department in the province after the Khyber Pakhtunkhwa Revenue Authority (KPRA). Post-Budget 2025-26 Conference was organized here on Wednesday by the Government of Khyber Pakhtunkhwa in collaboration with KP-SPEED. The objective of the conference was to provide a shared platform for understanding and discussion on the recently presented provincial budget – an important milestone to promote transparency, accountability, and public understanding of the budget’s priorities and implications. The conference was attended by Secretary Finance Amer Sultan Tareen, Special Secretary Budget Muhammad Asif, Special Secretary Regulation Abidullah Kakakhel, as well as secretaries of various departments, additional secretaries, deputy secretaries, budget officers, and economists. Advisor Muzzammil Aslam emphasized that all departments should work on increasing revenue and strengthening monitoring and evaluation mechanisms for the betterment of the province. He stated that It is the duty of the province’s approximately seven hundred thousand employees to immediately provide relief to the population of forty-five million and to do justice to their positions. He further stressed the importance of aligning budgetary resources with grassroots needs and reiterated the government’s commitment to converting financial planning into real and tangible improvements in people’s lives. The event began with a welcome address by the Secretary Finance Amer Sultan Tareen, in which he highlighted the province’s commitment to responsible financial management, fiscal reforms, and citizen-centric service delivery. The Special Secretary Finance Muhammad Asif presented the key features of the budget, outlining revenue estimates, expenditure priorities, sectoral allocations, fiscal discipline, and reform initiatives included in the 2025–26 budget. The event concluded with the Advisor on Finance certificate distribution among the participants in recognition of their engagement and valuable contributions in the budget 2025-26.

Sunday, June 29, 2025

Electricity Situation

 *بجلی کی سنگین صورتحال*


*ایم عتیق سلیمانی*

Sulemaniatiq572@gmail.com 



گزشتہ چھ سالوں سے تناول لساں نواب و گردونواح میں بجلی کی ناروار لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج نے صارفین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پہلے منگلور فیڈر تھا اور سارا علاقہ اسی سے منسلک تھا جس کی وجہ سے کافی مشکلات درپیش تھیں۔ 

لوڈشیڈنگ کے علاوہ ورک پرمٹ اور موسمی خرابی کے نام پر بجلی کی طویل بندش سے عوام پریشان رہتے تھے۔ پھر لساں نواب فیڈر بنایا گیا کچھ عرصہ تو بجلی کی صورتحال ٹھیک تھی۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے جہاں عوام کو تنگ کیا وہی بجلی سے وابستہ کاروبار بھی شدید متاثر ہوئے۔

 لساں نواب فیڈر پر بجلی کی یہ صورتحال ہے کہ ایک بوند بارش کی گرتی ہے اور بجلی غائب ہوجاتی ہے جو کئی بار دو دو دن بھی نہیں آتی ۔ اگر کہیں تکنیکی خرابی آجاتی ہے تو اسکو ٹھیک کرنے میں بہت وقت لگایا جاتا ہے۔ فیڈر پر ریکوری 100 فیصد ہے پھر بھی چھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔


 عید سے قبل تک وولٹیج 180 کے قریب قریب رہتی تھی پھر عید کی رات سے ابھی تک 130 سے 150 یا 160 تک ہی ہوتی ہے۔ کم وولٹیج سے الیکٹرانک اشیاء جل جاتی ہیں عوام کا نقصان ہوتا ہے اور پنکھے فریج موٹر وغیرہ بھی نہیں چلتی جس کی وجہ سے عوام ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں۔ 

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بجلی آتی ہے تو وولٹیج 220 ہوتی ہے اور پھر ایک ہی منٹ میں گر کر 150 تک یا 130 تک آجاتی ہے۔

چند ماہ بعد شاخ تراشی کے نام پر بجلی بندش کو فیڈر انتظامیہ کا وطیرہ ہے اور کام کہاں ہوتا ہے کسی کو نہیں پتہ ہوتا۔ اگر واقعی شاخ تراشی کی جاتی ہے تو موسم خراب ہونے سے ہوا سے کیسے بجلی خراب ہوجاتی ہے؟درخت تاروں پر کیسے گر جاتے ہیں؟ اسکا تو یہی مطلب ہے کہ کام نہیں کیا جات بس بجلی بند کی جاتی ہے۔ 

واپڈا افسران سوشل میڈیا پر کھلی کچہریاں کرتے ہیں مگر وہ پھر منسوخ کردی جاتی ہیں۔ واپڈا کے ہیلپ لائن نمبرز کوئی اٹھاتا ہی نہیں ہے اگر اٹھا بھی لیا جائے تو انکے پاس کوئی معقول جواب نہیں ہوتا۔

جب ورک پرمٹ لیا جاتا ہے تو عوام کو کسی بھی پلیٹ فارم سے آگاہ نہیں کیا جاتا عوام لاعلم ہوتے ہیں۔ اور پرمٹ میں دیے گئے وقت پر بجلی نہیں آتی اسے گھنٹہ لیٹ پی آتی ہے۔

جب بجلی کسی وجہ سے بند ہو اور تین گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر جائے اسکے بعد جب بجلی آتی ہے تو لوڈشیڈنگ شیڈول پر پھر بند کردی جاتی ہے حالانکہ یہ پالیسی ہے جب ایسی صورتحال ہو تو بجلی آنے کے بعد شیڈول کے وقت پر اگلے وقت میں بجلی بند نہیں کی جاتی۔

سیٹیزن پورٹل پر کی جانے شکایات کا مناسب جواب نہیں دیاجاتا کیٹیگری کے چکر میں الجھا کر ریلیف ناٹ گرانٹڈٹ کے ریمارکس دے دیئے جاتے ہیں۔

سیاسی نمائندے اور منتخب نمائندے سب کہیں کھو گئے ہیں انکو کوئی فرق نہیں پڑتا عوام کے ساتھ جو ہوتا ہے ہوجائے۔

تناول میں لساں نواب فیڈر اور منگلور فیڈر پر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کم وولٹج ایک سنگین صورتحال اختیار کرگئی ہے ارباب اختیار کو اسکا سنجیدگی سے حل نکالنا چاہیے اور یہ کام ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہوگا۔

Saturday, June 21, 2025

Buses Route In Karachi

Buses operating in Karachi:

Public Buses



- *KMC Buses*: Over 30 routes, including

    - *Bus 1-B*: Nazimabad, Bara Maidan, Lasbela, Lawrence Road, Barness Street, Bandar Road, Tower

    - *Bus 1-C*: M.P.R Colony, Qasba Colony, Banaras Colony, Pathan Colony, S.I.T.E, Habib Bank, Bismillah Hotel, Gandhi Garden, Garden Road, Plaza Regal, Shahra-e-Liaquat, National Museum, Tower

    - *Bus 1-F*: Naval Colony, Mauripur, Gulbai Chowk, Tower, Juna Market, Ramswami, Garden Bara Board, Valika, Orangi Township No. 10


Peoples Bus Service

- *Red Buses*: 13 routes, including

    - *Route 1*: Model Colony to Dockyard (28 km)

    - *Route 2*: North Karachi to Indus Hospital (30 km)

    - *Route 3*: Power House to Shaan Chowrangi (31 km)

    - *Route 4*: Power House to Tower (21 km)

    - *Route 8*: Yousuf Goth to Tower (17 km)

    - *Route 9*: Gulshan e Hadeed to Tower (42 km)

    - *Route 10*: Numaish Chowrangi to Ibrahim Hyderi (27.8 km)

    - *Route 11*: Shireen Jinnah Colony to Miran Nakka Lyari (19 km)

    - *Route 12*: Khokrapar to Lucky Star Saddar (31 km)

    - *Route 13*: Hawksbay to Tower (20 km)

- *Electric Buses (EV)*: 5 routes, including

    - *EV-1*: CMH Malir Cantt to Dolmen Mall Clifton (28 km)

    - *EV-2*: Bahria Town to Malir Halt (30 km)

    - *EV-3*: Malir Cantt Check Post 5 to Numaish (20 km)

    - *EV-4*: Bahria Town to Ayesha Manzil (34 km)

    - *EV-5*: DHA City To Sohrab Goth (20 km)

- *Pink Buses*: Dedicated to ladies, operating on routes R1, R2, R3, R9, and R10


Other Bus Services

- *UTS Buses*: 2 routes from Kohkrapar

    - *Bus UTS-12*: Kohkrapar, Saudaabad, Kalaboard, Main Shrah-e-Faisal, Airport, Natakhan, Drig Road, Karsaz, Balouch Colony, Nursery, Regent Plaza, Sadder

- *CNG Buses*: 4 routes, including

    - *Bus CNG-1*: Surjani town, Baradari, Nagan Chowrangi, Hyderi Jinnah University

    - *Bus CNG-2*: Surjani town, Baradari, Nagan Chowrangi, Sohrabgoth, Rashid Minhas Road, Gulshan Chowrangi, NIPA, Millennium mall, Drig Road, Sharah-e-Faisal, Nathakhan, Shah-Faisal expressway, Korangi Industrial area, Korangi crossing

- *Green Line*: Chowrangi Bus stations to Saleem Center

- *Blue Line*: Guru Mandir to Bahria Town (48 km)

- *Orange Line*: Orangi Town to Jinnah University ¹ ² ³

Actor Aysha Khan Death

 یہ 2015کی بات ہے، جب میں روزنامہ نئی بات میں میگزین ایڈیٹر تھا۔ موبائل پر کال آئی تو اٹینڈ کی۔ کوئی خاتون بول رہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا نام عائشہ خان ہے اور ٹی وی آرٹسٹ ہیں: ’’شبیر! تم شاید مجھے نہیں پہچانتے مگر میں تمھارے فیچرز بہت شوق سے پڑھتی ہوں۔ پہلے امت اخبار میں پڑھتی تھی، اب نئی بات میں آگئے ہو تو یہ اخبار گھر پہ لگوا لیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تم مجھ سے بہت چھوٹے ہو۔۔۔ بلکہ میرے بڑے بیٹے کی عمر کے ہوگے۔۔۔ اس لیے میں آپ نہیں کہہ رہی۔ تمھیں برا تو نہیں لگ رہا؟‘‘’’نہیں آپا! بالکل برا نہیں لگ رہا۔ فرمائیے کیسے رابطہ کیا؟‘‘بچے! میں بھی تھوڑا بہت قلم گھسیٹ لیتی ہوں۔ بس، شوقیہ کچھ لکھتی رہتی ہوں افسانے وغیرہ۔ مگر ابھی جو تم سے رابطہ کیا ہے، اس کی


 

ایک الگ وجہ ہے‘‘’’جی۔۔۔ جی، فرمائیں‘‘۔

’’بھئی، تمھیں معلوم ہوگا کہ خالدہ ریاست میری چھوٹی بہن تھیں۔ اگلے ہفتے اس کی برسی آرہی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اس کی یاد میں کچھ لکھوں۔ کیا تم اسے اپنے اخبار میں شایع کرسکتے ہو؟‘‘

’’جی آپا! کیوں نہیں۔ یہ تو ہمارے لیے بہت اچھا ہوگا کہ آپ کا ایکسکلیوسیو مضمون چھاپیں۔ یا وہی تحریر آپ دیگر اخباروں کو بھی بھیجنا چاہتی ہیں‘‘

’’نہیں، نہیں۔ صرف تم ہی اسے چھاپوگے، اگر زحمت نہ ہو‘‘۔

’’آپا! آپ وہ مضمون کیسے بھیجیں گی؟‘‘

’’بھئی، گھر سے نکل کر تمھارے اخبار کے دفتر آنا آج کل خاصا مشکل ہے۔ کیوں کہ پائوں میں کچھ تکلیف ہے۔ اس لیے ٹی وی پر بھی نہیں جارہی۔ یہ زحمت تم کرسکتے ہو تو مجھ پر احسان ہوگا۔۔۔ کہاں رہائش ہے تمھاری؟‘‘

جی، میں موسمیات سے آگے سچل گوٹھ میں رہتا ہوں‘‘۔’’پھر تو آسانی ہے۔ میں گلشن کے اتوار بازار کے پیچھے نجیب پلازا میں رہتی ہوں جو تمھارے راستے میں پڑتا ہے۔ ایک دو دن میں اگر آجائو تو میرا کام بن جائے گا۔ ویسے میں گڑ کی چائے بہت اچھی بناتی ہوں‘‘۔انھوں نے ہنستے ہوئے اطلاع دی تھی۔خیر، میں دو دن بعد انھیں کال کرکے چلاگیا۔ پلازا کے مین گیٹ پر وہ انتظار کر رہی تھیں اور بہت محبت سے سر پہ ایسے ہاتھ پھیرا، جیسے اپنے کسی برخوردار کو ہم پیار کرتے ہیں۔ وہ اپنے فلیٹ میں لے آئیں اور سیدھا لے جاکر کمرے میں بٹھایا۔ صوفے کے سامنے رکھی ٹیبل پرکچھ کاغذات رکھے تھے جو اٹھا کر انھوں نے مجھے دیے اور بولیں:

’’جب تک تم یہ پڑھ لو۔۔۔ میں چائے بناکر لاتی ہوں‘‘۔

ان کی تحریر بہت متاثر کن تھی۔ انھوں نے مرحومہ خالدہ ریاست کے بچپن سے بات شروع کی تھی اور ان کے انتقال پر ختم کی تھی۔

تھوڑی دیر بعد وہ چائے ، بسکٹ اور نمکو وغیرہ لے آئیں اور پوچھا:

’’پڑھ لیا تم نے؟‘‘۔

’’جی آپا! ماشااللہ، آپ تو بہت اچھا لکھتی ہیں‘‘۔

’’ارے، ایمان کی بات یہ ہے کہ مجھے تو تمھارے فیچرز ہی پسند آتے ہیں۔ سادہ، بالکل گائوں گوٹھ کے لہجے والے ہوتے ہیں اور تم جس بندے سے بھی بات کرتے ہو، اسی کے انداز میں اسے لکھتے ہو۔ یہ بہت اچھا لگتا ہے مجھے‘‘۔

’’شکریہ آپا!‘‘

’’ایک بات اور۔ میرے اس مضمون میں تم جیسے چاہو، کاٹ پیٹ کرسکتے ہو۔ تمھیں پوری اجازت ہے‘‘۔

’’نہیں آپا! آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ بس، ایک آدھ جگہ مجھے لگتا ہے کہ لفظ تبدیل کرنا پڑے گا‘‘۔

’’بالکل کرسکتے ہو۔ میں نے کہا نا کہ پوری اجازت ہے‘‘۔

اور میں نے اپنی کم فہمی کے باعث، ان کے درست لکھے ہوے ایک لفظ ’’گھٹنیوں گھٹنیوں‘‘کو اپنے تئیں ’ درست‘کرکے گھٹنوں گھٹنوں کردیا!

مگر یہ ان کا بڑا پن تھا کہ انھوں نے میری غلط فہمی کی نشاں دہی نہیں کی۔ 

وہ مضمون چھپ جانے کے بعد عائشہ خان ایک دن دفتر نئی بات بھی آئی تھیں اور میں نے انھیں اپنے باس محترم مقصود یوسفی صاحب سے بھی ملوایا تھا، جنھوں نے خود بھی انھیں پیشکش کی تھی کہ وہ نئی بات کے میگزین صفحات کے لیے لکھا کریں۔ 

اس کے بعد ان سے کچھ اور ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ان دنوں پی ٹی وی پر میرے قریبی دوست اور کرنٹ افیئر کے ہیڈ فدا حسین سومرو کے ہاں میراکافی آنا جانا ہوتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقع پر پی ٹی وی کی کینٹین میں ہم لنچ کر رہے تھے اور عائشہ خان دوسری ٹیبل پر ایک اور معروف آرٹسٹ کے ساتھ بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ مگر وہ وہاں سے اٹھ کرہماری میز پر آگئیں اور کہنے لگیں:

’’بھئی شبیر! میں نے تمھیں دیکھا تو ملنے چلی آئی۔ تم لوگ اپنی باتیں جاری رکھو، جب فارغ ہوجائو تو بتانا۔ پھر ہم بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں‘‘۔ 

اس کے بعد انھوں نے ایک مرتبہ فون پر رابطہ کرکے، مجھ سے لال مسجد اور جامعہ حفصہ سانحے پر لکھی ہوئی میری کتاب ’’میرا لہو رائیگاں نہیں ہے‘‘دینے کی فرمائش کی تھی۔ جب میں کتاب لے کر ان کے گھر پہنچا تو وہ کھانا بنائے بیٹھی تھیں اور میرا انتظار کر رہی تھیں۔ اُس دن لنچ کرانے کے بعدانھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اپنے فیچرز کو ڈرامائی شکل دو:

’’ ہمارے ہاں ٹی وی چینل عموماً نئے ڈرامہ رائٹرز کے پیسے کھاجاتے ہیں مگر میں تمھاری مدد کروں گی اور کوئی بھی ایسا مسئلہ ہونے نہیں دوں گی‘‘۔ 

مگر میں اپنی روایتی سست کی وجہ سے وہ کام بھی نہ کرسکا۔ حالاں کہ دو ڈرامے لکھنا شروع بھی کیے تھے مگر ادھورے چھوڑ دیے۔

اس کے بعد میں سچل گوٹھ سے کہیں اور شفٹ ہوگیا تھا، اس لیے پھر عائشہ خان صاحبہ سے رابطہ نہیں رہا۔

اور کل رات ان کی دلدوز موت کی خبر آگئی۔ وہ برسوں سے تنہا رہ رہی تھیں، اس لیے ان کی بیماری یا موت کا بروقت پتا نہ چل سکا اور ایک ہفتے بعد جب ان کے گھر سے بُو اٹھی، تب پڑوسیوں نے دروازہ کھلوایااورپتا چلا کہ کئی دن پہلے ان کا انتقال ہوچکا تھا۔

Friday, June 20, 2025

Kpk Cabinet Meeting

 وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کابینہ کا 34واں اجلاس



 اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔

کابینہ نے بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 50 نئی ڈیزل-ہائیبرڈ بسوں کی خریداری کی منظوری دی۔ابتدائی طور پر ٹرانس پشاور نے 220 بسیں حاصل کی تھیں، بعد ازاں 2022 میں 24 مزید بسیں شامل کی گئیں، جس سے کل تعداد 244 ہوگئی۔ عوامی مطالبے اور روٹ میں اضافے (چھ روٹس) کی وجہ سے مزید بسوں کی ضرورت تھی۔

اجلاس میں صوبائی حکومت اور پاک قطر ایسٹ مینجمنٹ کمپنی کے درمیان معاہدے کی منظوری دی گئی۔ 

کابینہ نے چترال کے ارندو گول اور اپر کوہستان فارسٹ ڈویژنز میں غیر قانونی طور پر کاٹی گئی لکڑی کے استعمال سے متعلق طریقہ کار کے نفاذ کے لئے کمیٹی تشکیل دی 

 کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ رولز 2021 میں ترمیم کی منظوری دیدی،نئی ترمیم کے تحت بڈنگ کی مدت 60 دونوں سے کم کرکے 30 دن کردی گئی۔ 

کابینہ نے ایرا کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں کے بقایاجات کی ادائیگیوں کے لئے نن اے ڈی پی اسکیم کی منظوری دیدی۔ 

اجلاس میں بالاکوٹ مانسہرہ میں کٹیگری ڈی ہسپتال کی تعمیر کے منصوبے پر آنے والی اضافی لاگت کی منظوری دیدی۔ 

کابینہ نے پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جدید طبی آلات کی خریداری کے لئے 346 ملین گرانٹ کی منظوری دی۔ 

اجلاس میں بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں بہتر سہولیات کی فراہمی کے منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری دی گئی۔ 

کابینہ نے کینسر کی مریضہ پروین مختار کے علاج کے لئے دس لاکھ روپے امداد کی منظوری دی۔ 

اجلاس میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ریسرچ سینٹر کے قیام کے لئے گرانٹ ان ایڈ کی مشروط منظوری دی گئی۔ 

کابینہ نے خیبر پختونخوا این جی اوز رولز 2024 میں ضروری ترمیم کی منظوری دی۔ 

اجلاس میں ضلع خیبر اور مہمند کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی دو گاڑیوں کی خریداری اور گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی میں نرمی کی منظوری دی گئی۔ 

کابینہ نے صوبائی محتسب کی خالی آسامی پر روباب مہدی کی تعیناتی کی منظوری دی۔ 

اجلاس میں خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے بجٹ برائے مالی سال 25۔2024 کی منظوری دیدی گئی۔ 

کابینہ نے گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات کے پیش نظر بجلی کے خراب ٹرانسفارمرز کی بروقت مرمت کے لئے ایک ارب روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری دی۔ چونکہ بجلی کے ٹرانسفارمرز کی مرمت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اس لئے صوبائی حکومت نے ٹرانسفارمرز کی مرمت پر خرچ ہونے والی رقم کی ادائیگی کے لئے وفاقی حکومت سے معاملہ اٹھا نے کی منظوری دی۔ 

کابینہ نے ڈبلیو ایس ایس سیز اور ٹی ایم اوز کی بجلی کے بلوں کے بقایاجات کی بک ایڈجسمنٹ کے لئے سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی۔ 

کابینہ نے مکھنیال ایریا کو ہری پور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں شامل کرنے کی منظوری دیدی اور اس سلسلے میں مروجہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے لئے کابینہ کی کمیٹی تشکیل دیدی۔ 

اجلاس میں کلچر، ٹورازم اینڈ ارکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے رولز آف بزنس میں ضروری ترامیم کی منظوری دیدی گئی۔ 

کابینہ نے سوات، ایبٹ آباد اور ڈی ائی خان میں زمونگ کور قائم کرنے کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل منصوبے کو زمونگ کور پشاور میں ضم کرنے کی منظوری دی۔ 

Thursday, March 27, 2025

Mansehra : Sunni Shia In One Mosque

مانسہرہ پیراں خیر آباد میں سنی شیعہ مسلک کی مشترک مسجد


**پیراں گاؤں کی مشترکہ مسجد: شیعہ و سنی ہم آہنگی کی روشن مثال** مانسہرہ کے گاؤں پیراں میں واقع مسجد "پیرا" پاکستان بھر میں شیعہ اور سنی برادریوں کے درمیان رواداری اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی ایک منفرد مثال ہے۔ جہاں ملک کے دیگر علاقوں جیسے ضلع کرم میں فرقہ وارانہ تصادم خبروں میں رہتے ہیں، وہیں پیراں گاؤں کے باشندے دہائیوں سے ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرنے، اخراجات بانٹنے اور حتیٰ کہ آپس میں شادیاں کرنے کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ **مسجد کی خصوصیات:** اس مسجد کا فولادی مینار اور چھت پر نصب لاؤڈ اسپیکر گاؤں میں داخل ہوتے ہی نظر آتے ہیں۔ اگرچہ یہ علاقے کی واحد مسجد نہیں، مگر یہ واحد ہے جہاں دونوں مکاتب فکر کے لوگ مشترکہ طور پر عبادت کرتے ہیں۔ مسجد کی ملکیت اہل تشیع کے پاس ہے، لیکن خطیب سید مظہر علی عباس کے مطابق سنی برادری کو بھی اسے استعمال کرنے کا برابر حق حاصل ہے۔ **نماز و اذان کا منفرد نظام:** نمازوں کے اوقات میں دونوں فرقے ایک دلچسپ روایت کے تحت یکے بعد دیگرے مسجد استعمال کرتے ہیں۔ اذان دینے کی ذمہ داری بھی تقسیم ہے: فجر، ظہر اور مغرب کی اذان شیعہ برادری جبکہ عصر اور عشا کی اذان سنی برادری کے ذمے ہے۔ رمضان المبارک میں سنی برادری شیعہوں سے چند منٹ پہلے روزہ افطار کرتی ہے، اس لیے اس مہینے میں الگ اذان دی جاتی ہے۔ تاہم، دونوں گروہ اکثر ایک دوسرے کے ساتھ نماز پڑھ لیتے ہیں، جسے خطیب "باہمی احترام کی علامت" قرار دیتے ہیں۔ **تاریخی پس منظر اور مشترکہ روایات:** یہ روایت تقریباً ایک صدی قبل شروع ہوئی اور مسجد کی تعمیر نو کے باوجود آج تک قائم ہے۔ گاؤں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ یہاں شیعہ-سنی شادیوں کی روایت بھی عام رہی ہے، جو علاقائی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ دونوں برادریاں مسجد کے بجلی کے بل سمیت دیگر اخراجات بھی مشترکہ طور پر اٹھاتی ہیں۔ **خطیب کا پیغام:** سید مظہر علی عباس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ "یہ مسجد محض عبادت گاہ نہیں، بلکہ ہمارے مشترکہ انسانی اقدار کا مرکز ہے۔ ہماری نسل در نسل روایت ثابت کرتی ہے کہ اختلافات کو احترام سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔" پیراں گاؤں کی یہ مشترکہ مسجد نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے فرقہ وارانہ تناؤ کے دور میں امن کی ایک عملی مثال پیش کرتی ہے۔

Bikes Is Dangerous

 کم عمر بائیکرز اور ہماری مجرمانہ خاموشی خامہ بگوش ایم عتیق سلیمانی  Sulemaniatiq572@gmail.com  آئے روز ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر بارود کی...