Saturday, August 9, 2025

Mamsehra 14 Aug Tanoli Convention

 مانسہرہ(تنولٹائمز)14 اگست کو آل پاکستان تنولی کنونشن کے انعقاد کے سلسلے میں مشاورتی اجلاس، کنونشن کو تاریخی بنانے کا عزم تفصیلات کے مطابق آل پاکستان تنولی کنونشن کے کامیاب انعقاد کے سلسلے میں گزشتہ روز ٹول پلازہ کے قریب ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت شعیب تنولی نے کی جبکہ نگرانی حاجی ابرار تنولی اور چیئرمین خان محمد تنولی نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ھوئے چیئرمین تنولی جرگہ حاجی ابرار تنولی، صدر شعیب خان تنولی، چیف کواڈینٹر حاحی صابر تنولی ایڈووکیٹ ، جنرل سیکرٹری جمیل تنولی، وحید انجم تنولی نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر تنولی قوم کی سرکردہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور 14 اگست کو ہونے والے آل پاکستان تنولی کنونشن کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ مقررین نے کنونشن کو کامیاب بنانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کنونشن تنولی برادری کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن ثابت ہوگا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آل پاکستان تنولی کنونشن 14 اگست کو شام 4 بجے ٹول پلازہ کے قریب منعقد کیا جائے گا جس میں ملک بھر سے تنولی برادری کی ممتاز اور معزز شخصیات شرکت کریں گی۔ کنونشن کے اغراض و مقاصد، تنولی قوم کے اتحاد، ترقی، اور نوجوانوں کی راہنمائی کو فروغ دینا ہوں گے۔ شرکاء نے انتظامات کو حتمی شکل دینے اور تمام تنولی برادری کو اس قومی سطح کے کنونشن میں بھرپور شرکت کی دعوت دینے پر بھی زور دیا۔ اجلاس کا ماحول نہایت خوشگوار اور اتحاد و یگانگت کے جذبے سے بھرپور رہا۔



Karachi Ma Fruad Jari


 

Artificial Intelligence Importance

 قلم بطور ڈیجیٹل ہتھیار ! اپووا اور پی ایم ایم ایل کی مشترکہ تربیتی ورکشاپ میں قلم کاروں نے سیکھے AI کے جدید ٹولز



دور جدید میں جہاں زندگی کے ہر شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس میں مہارت رکھنے والے افراد کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے وہاں اب مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس میں ماہر افراد اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔جس کو بھی اس میں مہارات ہے وہ آگے ہی بڑھتا جارہا ہے۔

ہر شعبہ کی طرح قلم کار حضرات کو بھی اگر مقابلے کے اس دور میں اپنا لوہا منوانا ہے تو انکو اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیئے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خصوصی طور پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں مہارات حاصل کرنی ہوگی۔ 

کچھ ہی ادارے ایسے ہیں جو بلامعاوضہ نئے اور پرانے لکھاریوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیئے مواقع اورباقاعدہ تربیت کا اہتمام کرتے ہیں ورنہ کاروبار بنانے والے بھی بہت ہیں۔

آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن سے تعلق تب سے ہے جب اس عظیم ادارے کی بنیاد رکھی جارہی تھی۔ ایم ایم علی بھائی سے اس سے بھی پہلے کا رشتہ ہے۔ اپووا نے شروع دن سے ہی قلم کاروں کو یکجا کر کے ان کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور انکے لیئے ویلفیئر کا کام شروع کیا ہے۔

پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اپووا کے زیر اہتمام کرائی جانے والی تین روزہ تربیتی ورکشاپ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

5 اگست سے شروع ہونے والی اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد قلم کاروں کو مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال تحریر کے لیئے ریفرنس ، اس تحریر کو بہترین انداز میں قارئین تک پہنچانے کے لیئے گرافکس ، ذاتی بلاگ بنانے، فیکٹ چیک اور دیگر اہم ٹیکنیکس سے آگاہ کرنا تھا۔

تربیتی ورکشاپ کے ٹرینر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈیجیٹل اسکلز ٹرینر ہیڈ ملک وقاص سعید تھے۔

 قلم کاروں کو تربیتی ورکشاپ میں مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال پر بہترین لیکچر دیا گیا۔ انکو بتایا گیا کہ کیسے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے تحریر کے لیئے تحقیق کی جائے۔ریفرنس کیسے حاصل کیے جائیں۔

قلم کاروں کو اسکرین پر عملی مظاہرہ کر کے سیکھایا گیا کہ کیسے کسی تحریر،تصویر اور ویڈیو کلپ کی فرانزک جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور اس میں استعمال ہونے والے اے آئی ٹولز سے بھی روشناس کرایا گیا۔ 

شرکاء کو اپنا ذاتی بلاگ ویب سائیٹ بنانے اور اسکو چلانے کے لیئے ٹولز کا استعمال بھی سیکھایا گیا تاکہ ذاتی بلاگ پر اپنی تحاریر محفوظ بھی کی جاسکیں اور بہترین انداز قارئین تک پہنچائی بھی جاسکیں۔اور اسی بلاگ کو اپنی کمائی کا ذریعہ بھی بنایا جاسکے۔ اسکے علاوہ انٹرنیٹ پر اپنے کام کی چیز تلاش کرنے کے لیے گوگل والیڈ کا استعمال بھی سیکھایا گیا اور گرافکس کے حوالے سے کینوا اردو ڈیزائنر اور دیگر ٹولز پر بھی تفصیل سے بات کی گئی۔

تربیتی ورکشاپ کی میزبانی چیف آرگنائزر ملک ممتاز پی ایم ایم ایل نے بہترین انداز میں کی ۔ اپووا کے بانی ایم ایم علی بھائی نے بھی شرکاء کی حوصلہ افزائی کی اور سینیئر وائس چیئرمین اپووا ملک یعقوب اعوان اور ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم بھی شریک ہوئے۔

رب کائنات تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور تمام قلم کاروں کو اپنے قلم حق کے لیئے استعمال کرنے کہ توفیق عطا فرمائے آمین۔

 #ApnaKamao

 #APWWA

Saturday, August 2, 2025

Future Of Print Media

اخبارات کی اہمیت،درپیش مسائل اور آنے والا کل


سچ پوچھو تو آج کل اخبار چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ویسے تو لوگ کہتے ہیں کہ "اخبار مر گیا"، لیکن بات اتنی سادہ نہیں۔ پاکستان میں بھی اخبارات کا حال دگرگوں ہے، مگر پھر بھی ان کی ایک اپنی جگہ ہے۔ بات کرتے ہیں کہ مشکل کیا ہے؟ اہمیت کیا ہے، اور مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے۔

موبائل سب کچھ لے گیا:اب تو ہر کسی کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، یا نیوز ایپس پر تو خبر پلک جھپکتے ہی پہنچ جاتی ہے۔ اخبار کو تو پرنٹ ہونے، پھر گلی گلی پہنچانے میں پورا دن لگ جاتا ہے۔ اس وقت تک تو خبر پرانی ہو چکی ہوتی ہے۔ اخبار چلانے کا سب سے بڑا سہارا اشتہارات تھے۔ اب وہ بھی گوگل اور فیس بک نے کھینچ لیے ہیں۔ جو اشتہار بچتے ہیں، وہ بھی بہت کم ہیں۔ اوپر سے کاغذ مہنگا ہو گیا ہے، پرنٹنگ مہنگی ہے، اخبار پہنچانے والوں کو تنخواہ دینی ہے۔ آمدنی کم، خرچہ زیادہ – حساب ہی نہیں بنتا۔
 نئی نسل کا تو اخبار پڑھنے کا شوق ہی کم ہو گیا ہے۔ وہ تو فون ہی کھولتے ہیں اور دنیا بھر کی خبریں دیکھ لیتے ہیں۔ انہیں کاغذی اخبار پلٹ کر پڑھنے میں وقت ضائع لگتا ہے۔ آن لائن تو ہر کوئی خبریں مفت میں پڑھنا چاہتا ہے۔ اخبارات اگر آن لائن پیسے مانگیں تو لوگ کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ مفت چلانے پر خرچہ کیسے نکلے؟ یہ الجھن بھی اپنی جگہ ہے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل چینلز کی بھرمار ہے۔ ہر طرف خبریں، ویڈیوز، پوسٹس ہیں۔ ایسے میں پرانے اخبار کا اپنا نام قائم رکھنا بہت مشکل کام ہے۔فون پر خبر تو فوراً مل جاتی ہے، مگر اکثر یہ سطریں ہوتی ہیں۔ اخبار (چاہے پرنٹ ہو یا اچھا ڈیجیٹل) وہ پوری کہانی بتاتا ہے۔ وہ تجزیہ کرتا ہے، پس منظر دیتا ہے، سمجھاتا ہے کہ واقعی معاملہ کیا ہے۔ یہ "کیوں" اور "کیسے" کا جواب دیتا ہے۔ آن لائن پر تو ہر کوئی کچھ بھی لکھ دیتا ہے۔ اخباروں پر (اچھے اخباروں پر) کچھ ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ خبر چھاپنے سے پہلے اس کی پڑتال کرتے ہیں، اسے درست کرتے ہیں۔ یہ تصدیق کا کام بہت اہم ہے۔
بڑے ٹی وی چینلز تو صرف بڑی خبریں دکھاتے ہیں۔ اخبار، خاص کر علاقائی یا مقامی زبانوں (جیسے اردو، سندھی، پشتو اور پنجابی) والے، آپ کے محلے، شہر، یا صوبے کی خبریں دیتے ہیں۔ یہاں کا پانی کا مسئلہ، سڑک کی مرمت، اسکول کا حال – یہ سب انہی میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ پاکستان میں اب بھی بہت سے بزرگ اور دیہات کے لوگ ہیں جنہیں انٹرنیٹ کا اتنا استعمال نہیں آتا، یا ان تک رسائی کم ہے۔ ان کے لیے کاغذی اخبار ہی خبروں اور معلومات کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
 اخبار پڑھتے وقت آپ پر سکون ہوتے ہیں۔ آپ ایک خبر یا مضمون پر ٹھہر کر سوچ سکتے ہیں۔ فون پر تو انگشتھنی نیچے کرتے ہی چلے جاتے ہیں، کچھ یاد نہیں رہتا۔
کاغذی اخبار مکمل ختم نہیں ہوگا، مگر شاید روزانہ کی بجائے ہفتے میں ایک دو بار خاص ایڈیشن نکلیں گے جن میں گہرے مضامین، تجزیے ہوں گے۔ باقی توجہ اچھی ویب سائٹ اور ایپ پر ہوگی اچھی، گہری تحقیق اور سچی خبریں دینے والے اخبار آن لائن پیسے مانگیں گے۔ جو لوگ معیاری معلومات چاہیں گے، وہ یہ پیسہ دینے کو تیار ہوں گے۔چھوٹے یا مقامی اخبار اپنے علاقے پر پوری توجہ دے کر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جہاں بڑے میڈیا نہیں پہنچتے، وہاں ان کی خبریں بہت اہمیت رکھیں گی۔
 صرف خبر دینا کافی نہیں ہوگا۔ اخباروں کو پیچیدہ مسائل کو آسان بنانا ہوگا، گہری کھوج کرنی ہوگی، اور اعداد و شمار کو اچھے طریقے سے پیش کرنا ہوگا۔ صرف اشتہاروں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ اسپانسر شدہ مضامین (لیکن صاف صاف بتا کر)، خصوصی پروگرام کرنےجیسے نئے راستے آزمانے ہوں گے۔ اخبار والوں کو اب ویڈیو بنانا، سوشل میڈیا چلانا، ڈیٹا سمجھنا، اور اچھی طرح آن لائن لکھنا جیسے نئے ہنر سیکھنے ہوں گے۔
یہ کہنا کہ اخبار مر گیا، غلط ہوگا۔ ہاں، وہ اخبار جو ویسے ہی چل رہا تھا جیسے بیس سال پہلے چلتا تھا، اس کے لیے وقت بہت سخت ہے۔ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اصل چیز ہے "اخبار" کا مقصد: سچی، گہری اور ذمہ دارانہ معلومات پہنچانا۔ یہ مقصد آج بھی اُتنا ہی ضروری ہے، بلکہ جھوٹی خبروں کے اس دور میں شاید پہلے سے بھی زیادہ۔ پاکستانی اخبارات کو اپنی طاقت (مقامی زبان، گہری رپورٹنگ، عوامی رابطے) کو نئے دور کے ساتھ ملانا ہوگا۔ جو ایسا کر پائیں گے، وہی چل پڑیں گے۔ بات آخر یہی ہے کہ معیاری خبر اور سمجھدار تجزیہ چاہے کاغذ پر ہو یا اسکرین پر، اس کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔

Tuesday, July 8, 2025

KP to lose Rs100 billion due to FBR Shortfall

KP to lose Rs100 billion due to FBR Shortfall: Muzzammil Aslam KP Finance dept holds post-budget conference with KP-SPEED support Advisor to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Finance Muzzammil Aslam while addressing the Khyber Pakhtunkhwa Post-Budget Conference stated that the Federal Board of Revenue (FBR) has collected one thousand two hundred billion rupees less in revenue, which will result in Khyber Pakhtunkhwa receiving Rs. 100 billion less in federal transfers. 


He added that last year, Khyber Pakhtunkhwa transferred Rs. 150 billion into the Debt Management Fund, which will yield Rs. 17 billion in annual revenue. This revenue will be the highest of any department in the province after the Khyber Pakhtunkhwa Revenue Authority (KPRA). Post-Budget 2025-26 Conference was organized here on Wednesday by the Government of Khyber Pakhtunkhwa in collaboration with KP-SPEED. The objective of the conference was to provide a shared platform for understanding and discussion on the recently presented provincial budget – an important milestone to promote transparency, accountability, and public understanding of the budget’s priorities and implications. The conference was attended by Secretary Finance Amer Sultan Tareen, Special Secretary Budget Muhammad Asif, Special Secretary Regulation Abidullah Kakakhel, as well as secretaries of various departments, additional secretaries, deputy secretaries, budget officers, and economists. Advisor Muzzammil Aslam emphasized that all departments should work on increasing revenue and strengthening monitoring and evaluation mechanisms for the betterment of the province. He stated that It is the duty of the province’s approximately seven hundred thousand employees to immediately provide relief to the population of forty-five million and to do justice to their positions. He further stressed the importance of aligning budgetary resources with grassroots needs and reiterated the government’s commitment to converting financial planning into real and tangible improvements in people’s lives. The event began with a welcome address by the Secretary Finance Amer Sultan Tareen, in which he highlighted the province’s commitment to responsible financial management, fiscal reforms, and citizen-centric service delivery. The Special Secretary Finance Muhammad Asif presented the key features of the budget, outlining revenue estimates, expenditure priorities, sectoral allocations, fiscal discipline, and reform initiatives included in the 2025–26 budget. The event concluded with the Advisor on Finance certificate distribution among the participants in recognition of their engagement and valuable contributions in the budget 2025-26.

Sunday, June 29, 2025

Electricity Situation

 *بجلی کی سنگین صورتحال*


*ایم عتیق سلیمانی*

Sulemaniatiq572@gmail.com 



گزشتہ چھ سالوں سے تناول لساں نواب و گردونواح میں بجلی کی ناروار لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج نے صارفین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پہلے منگلور فیڈر تھا اور سارا علاقہ اسی سے منسلک تھا جس کی وجہ سے کافی مشکلات درپیش تھیں۔ 

لوڈشیڈنگ کے علاوہ ورک پرمٹ اور موسمی خرابی کے نام پر بجلی کی طویل بندش سے عوام پریشان رہتے تھے۔ پھر لساں نواب فیڈر بنایا گیا کچھ عرصہ تو بجلی کی صورتحال ٹھیک تھی۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے جہاں عوام کو تنگ کیا وہی بجلی سے وابستہ کاروبار بھی شدید متاثر ہوئے۔

 لساں نواب فیڈر پر بجلی کی یہ صورتحال ہے کہ ایک بوند بارش کی گرتی ہے اور بجلی غائب ہوجاتی ہے جو کئی بار دو دو دن بھی نہیں آتی ۔ اگر کہیں تکنیکی خرابی آجاتی ہے تو اسکو ٹھیک کرنے میں بہت وقت لگایا جاتا ہے۔ فیڈر پر ریکوری 100 فیصد ہے پھر بھی چھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔


 عید سے قبل تک وولٹیج 180 کے قریب قریب رہتی تھی پھر عید کی رات سے ابھی تک 130 سے 150 یا 160 تک ہی ہوتی ہے۔ کم وولٹیج سے الیکٹرانک اشیاء جل جاتی ہیں عوام کا نقصان ہوتا ہے اور پنکھے فریج موٹر وغیرہ بھی نہیں چلتی جس کی وجہ سے عوام ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں۔ 

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بجلی آتی ہے تو وولٹیج 220 ہوتی ہے اور پھر ایک ہی منٹ میں گر کر 150 تک یا 130 تک آجاتی ہے۔

چند ماہ بعد شاخ تراشی کے نام پر بجلی بندش کو فیڈر انتظامیہ کا وطیرہ ہے اور کام کہاں ہوتا ہے کسی کو نہیں پتہ ہوتا۔ اگر واقعی شاخ تراشی کی جاتی ہے تو موسم خراب ہونے سے ہوا سے کیسے بجلی خراب ہوجاتی ہے؟درخت تاروں پر کیسے گر جاتے ہیں؟ اسکا تو یہی مطلب ہے کہ کام نہیں کیا جات بس بجلی بند کی جاتی ہے۔ 

واپڈا افسران سوشل میڈیا پر کھلی کچہریاں کرتے ہیں مگر وہ پھر منسوخ کردی جاتی ہیں۔ واپڈا کے ہیلپ لائن نمبرز کوئی اٹھاتا ہی نہیں ہے اگر اٹھا بھی لیا جائے تو انکے پاس کوئی معقول جواب نہیں ہوتا۔

جب ورک پرمٹ لیا جاتا ہے تو عوام کو کسی بھی پلیٹ فارم سے آگاہ نہیں کیا جاتا عوام لاعلم ہوتے ہیں۔ اور پرمٹ میں دیے گئے وقت پر بجلی نہیں آتی اسے گھنٹہ لیٹ پی آتی ہے۔

جب بجلی کسی وجہ سے بند ہو اور تین گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر جائے اسکے بعد جب بجلی آتی ہے تو لوڈشیڈنگ شیڈول پر پھر بند کردی جاتی ہے حالانکہ یہ پالیسی ہے جب ایسی صورتحال ہو تو بجلی آنے کے بعد شیڈول کے وقت پر اگلے وقت میں بجلی بند نہیں کی جاتی۔

سیٹیزن پورٹل پر کی جانے شکایات کا مناسب جواب نہیں دیاجاتا کیٹیگری کے چکر میں الجھا کر ریلیف ناٹ گرانٹڈٹ کے ریمارکس دے دیئے جاتے ہیں۔

سیاسی نمائندے اور منتخب نمائندے سب کہیں کھو گئے ہیں انکو کوئی فرق نہیں پڑتا عوام کے ساتھ جو ہوتا ہے ہوجائے۔

تناول میں لساں نواب فیڈر اور منگلور فیڈر پر بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور کم وولٹج ایک سنگین صورتحال اختیار کرگئی ہے ارباب اختیار کو اسکا سنجیدگی سے حل نکالنا چاہیے اور یہ کام ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہوگا۔

Bikes Is Dangerous

 کم عمر بائیکرز اور ہماری مجرمانہ خاموشی خامہ بگوش ایم عتیق سلیمانی  Sulemaniatiq572@gmail.com  آئے روز ہم اپنی گلیوں اور سڑکوں پر بارود کی...